قلم زبان ،،،،،،،،،،، “آئی سی آئی کھیوڑہ اور مخصوص عناصر” ،،،،،، سکندر گوندل

گزشتہ اڑھائی تین سال سے تحصیل پنڈدادنخان کے معروف صنعتی ادارے آئی سی آئی سوڈا ایش کھیوڑہ کے خلاف وقفے وقفے سے ہرزہ سرائی کا سلسلہ جاری ہے لیکن جب بھی آئی سی آئی پر بلیک میلنگ کا جعلی عکس ڈالنے والوں کو تھوڑی سی تنکی لگائی جاتی ہے وہ کچھ عرصہ کے لئے بلیک میلنگ کے نئے ہتھکنڈوں کا پلان کرنے کے لئے بظا ہر زیر زمین ہوجاتے ہیں مگر پھر جب دوبارہ انہیں اپنی اندرونی کرانِک بیماریوں کی وجہ سے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگتے ہیں تو نام نہاد سفید پوش اور تحصیل پنڈدادنخان کے جعلی ٹھیکیدار اندھا دھند آئی سی آئی کھیوڑہ پر بلیک میلنگ کے چکر میں اپنے پھوکے فائر شروع کر دیتے ہیں،کس کس کاآئی سی آئی کھیوڑہ پر کیا کیا اور کیوں کیوں غصہ ہے اور کس کس کی مرضی کو آئی سی آئی انتظامیہ نے میرٹ پر اثرانداز نہیں ہونے دیا، اسکی تفصیل پھر کبھی بیان کروں گا مگر آج تھوڑی سی بات چند روز قبل آئی سی آئی کھیوڑہ کے خلاف ہونے والے ایک پروپیگنڈہ ساز پروگرام کے حوالہ سے کرنا چاہتا ہوں جسمیں بات کا بتنگڑ بناتے ہوئے مخصوص افراد نے بہت زیادہ محنت اور منت ترلہ کر کے چند لوگوں کا اکٹھ کر تے ہوئے ایک اسٹیج تیار کیا اور پھر تحصیل پنڈدادنخان کے ہی صنعتی اداروں سے منسلک لوگوں سے ایک ایسے ادارے کے خلاف ہرزہ سرائی کروائی گئی جو عرصہ دراز سے مزدور وں کے حقوق کما حقہ ادا کرتے ہوئے نہ صرف تحصیل پنڈدادن خان کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے بلکہ ملکی سطح پر بھی ٹیکسوں کی مد میں سالانہ کروڑوں روپئے حکومت کے خزانے میں جمع کرواتا ہے۔
قارئین ایک بات سے تو اتفاق لازم ہے کہ کسی بھی چھوٹے بڑے ، بہت بڑے ادارے یا کمپنی کا دیگر مختلف شعبوں کے علاوہ اپنا ایک ایڈمنسٹریشن سسٹم ہوتا ہے اور جس کمپنی ،فیکٹری یا صنعتی یونٹ کا شعبہ ایڈمن مربوط ،منظم اور ہشاش بشاش نہ ہو اس ادارے میں نیچے سے لے کر اوپر تک کئی خامیاں اور بے ترتیبیاں پیدا ہوجاتی ہیں اور یہ مس مینجمنٹ ادارے کو ایک نہ ایک دن تباہی کے دہانے پر پہنچانے میں کردار ادا کر سکتی ہے،میں تحصیل پنڈدادنخان میں موجود تقریباً تمام ہی صنعتی اداروں سے تھوڑا بہت منسلک رہا ہوں کیوں کہ میں نے اپنی زندگی کے 30 سال والد صاحب کی ملازمت کی وجہ سے غریبوال سیمنٹ میں گزارے جبکہ کچھ عرصہ ڈنڈوٹ سیمنٹ کے شعبہ مارکیٹنگ میں بطور ایریا سیلزانچارج فرائض بھی سرانجام دیئے،پی ایم ڈی سی کے ساتھ بھی میرے مراسم رہے اور آئی سی آئی کھیوڑہ کی پالیسی اور سسٹم کو بھی قریب سے دیکھنے کا مجھے موقع ملا ہے،اور تو اور میں تحصیل پنڈدادنخان اور ضلع خوشاب کے سنگم پر واقع فلائنگ سیمنٹ فیکٹری کے شعبہ مارکیٹنگ سے بھی ڈیڑھ سال تک منسلک رہا ہوں ۔اس حوالہ سے مجھے ان صنعتی اداروں کی پالیسیوں ،ایڈمنسٹریشن اور دیگر معاملات کو دیکھنے کا موقع ملتا رہا ہے ،میں ایک بات سو فیصد اعتماد اور یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جو عمدہ اور جاندار پالیسی ،بہترین سیکیورٹی و سیفٹی سسٹم،پائیدار اورمکمل ایڈمنسٹریشن اورمزدور اور عوام دوست پالیسیاں آئی سی آئی سوڈا ایش بزنس کھیوڑہ نے اپنا رکھی ہیں وہ ایک ریکارڈ ہے اور جاننے والے یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان تمام خوبیوں کاگراف دیگر مذکورہ اداروں کی نسبت آئی سی آئی میں ہمیشہ سے بلند رہا ہے۔
قارئین آئیے ذرا بات کو آگے بڑھاتے ہیں، آئی سی آئی کھیوڑہ کے ورکر سلیم اصغر کو میں 1999/2000 سے جانتا ہوں موصوف اس وقت آئی سی آئی کھیوڑہ کی ایمپلائز یونین کے جنرل سیکرٹری تھے اور ایک بار نہیں متعدد بار وہ اس عہدہ پر منتخب ہوتے رہے،ابھی کچھ دن سے آئی سی آئی کے خلاف جو ہرزہ سرائی ہو رہی تھی اس بار اس کا موجب کمپنی کا یہ سابق جنرل سیکرٹری بھی ہے،ہوا کچھ یوں کہ آئی سی آئی کے بعض مستقل اور اپنے عزائم میں ناکام اور تھکے ہوئے مخالف عناصر نے مذکورہ کمپنی ورکر جو اب یونین کے کسی عہدہ پر نہیں ہے کو کچھ اسطرح استعمال کیا کہ موصوف نے اپنے ایک دوسرے ساتھی سلیم انجم سے مل کر اپنے اور اپنے بچوں کے رزق کے وسیلہ بنے ادارے یعنی آئی سی آئی سوڈا ایش کے خلاف سوشل میڈیا پر منفی پراپیگنڈہ کرتے ہوئے کچھ پوسٹیں شیئر کردیں اور ساتھ ہی کچھ اخبارت میں بھی پردھان اور نام نہاد لیڈر بنتے ہوئے کمپنی کے خلاف جھوٹی بیان بازی داغ دی،قارئین فیصلہ آپ کریں کہ اگر آپ کسی بین الاقوامی شہرت کے حامل ادارے کی انتظامیہ کا حصہ ہوں اور آپکا ایک جونیئر یا سینئر کولیگ دیگر ملازمین کی طرح ادارے سے باعزت رزق حاصل کر رہا ہواسے آپکی طرف سے کوئی تکلیف بھی نہ دی گئی ہو اور اسکے جائز ناجائز معامالات بھی حل ہورہے ہوں مگر وہ شخص آپکے خلاف،آپکی کمپنی کے خلاف یا ہائر مینجمنٹ کے خلاف بنا کسی وجہ کے محض ادارے کے مخصوص مخالفین کے ہاتھوں میں کھیلتے ہوئے غلط بیانی کرکے ادارے پر کیچڑ اچھالنا شروع کر دے تواگر ادارے کی مینجمنٹ ،سیکریسی اور سیکیورٹی سسٹم مربوط ہو تو پالیسی کے مطابق اس شخص کو شوکاز نوٹس ملنا چاہیئے نا؟ جی مجھے یقین ہے آپ یہ ہی کہیں گے کہ ایسے شخص کے خلاف ضرور کاروائی ہونی چاہیئے،تو جناب آئی سی آئی کھیوڑہ میں بھی یہ ہی ہو اجب اپنے ہی ایمپلائی نے ادارے کے خلاف بغیر کسی وجہ کے ہرزہ سرائی کی تو انتظامیہ آئی سی آئی نے موصوف سابق جنرل سیکرٹری سلیم اصغر اور اسکے ساتھی سلیم انجم کو ایک شوکاز نوٹس جاری کیا ،اور اسکے مطابق انتظامی کمیٹی نے دونوں احباب سے اس حرکت بارے انکوائری شروع کر دی تو اس انکوائری کے دوران سلیم اصغر کے ساتھی سلیم انجم نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے معافی کی درخواست کی جسے قبول کر لیا گیا تاہم سابق جنرل سیکرٹری سلیم اصغر نے نہ تو اپنی غلطی تسلیم کی ،نہ کمپنی کے خلاف پراپیگنڈہ کرنے کی وجہ بیان کی بلکہ الٹا انکوائر ی کمیٹی کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا جس پر ادارے کی میرٹ اور غیرجانبدارانہ پالیسی کے تحت موصوف کو نوکری سے برخواست کر دیا گیا ۔اب ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ملزم سلیم اصغر اپنے ساتھی سلیم انجم کی طرح اپنے ادارے کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈہ کرنے کی غلطی تسلیم کرتا اور ادارے اور اپنے رزق لگی جگہ کے تقدس کا خیال رکھتے ہوئے معافی کا طلب گار ہوتا مگر افسوس کے موصوف نے ادارے کے خلاف نیا محاذ کھولنے کے لئے اپنے آقاؤں کا سہارا لیا اور انکے سامنے جا کر رویا پیٹا جس پر اس معاملہ کو ایشو بناتے ہوئے علاقہ بھر میں پھیلایا گیا اور سابق تمام مخالفین ایک بار پھر آئی سی آئی سوڈا ایش کے خلاف میدان میں کود پڑے۔اس بار تحصیل پنڈدادنخان کے بعض دیگر اداروں سے وابستہ مخصوص افراد اور بعض سیاستدانوں کو بھی سامنے لا کر اور انکے منہ سے اپنے ہی علاقہ میں روزگار دینے والے ادارے پر تگڑا وار کرنے کی ناکام کوشش کی گئی،لیکن جب عوام کو حقائق کا علم ہوا تو سب نے اس ہرزہ سرائی کو غلط اور غیر مناسب قرار دینا شروع کر دیا ہے۔حالانکہ مزدور دوست اور علاقہ دوست آئی سی آئی کھیوڑہ انتظامیہ ضرور کسی حد تک یہ بات مان چکی تھی کے موصوف سلیم اصغر نے جو کچھ کیا اسکی معافی مانگ لے تو اسے بھی اسکے ساتھی سلیم انجم کی طرح بحال کر دیا جائے گالیکن پراپیگنڈہ کروانے والوں نے سلیم اصغرکو جو کہ ادارے کے خلاف کی گئی اپنی غلط بیانیوں پر معافی مانگنے کے لئے راضی ہو چکا تھا کا منت ترلہ کر کے اسے راضی کیا کہ وہ 27 اکتوبر والا پراپیگنڈا ساز شو لگانے دے اسکے بعد معافی مانگ لینا۔جن لوگوں نے آئی سی آئی کے خلاف اسٹیج پر چڑھ کر جھوٹی بیان بازی کی اور وہ کچھ کہا جو الزام اور بہتان کے سوا کچھ نہ تھا ،انکی علاقہ کے لئے کیا خدمات ہیں اور انہوں نے کس کس ادارے سے کیا کیافائدے محض اپنی ذات کے لئے حاصل کئے ،ان مخصوص لیڈران اور وہاں موجود سیاستدانوں نے اس سے قبل اداروں سے نکالے جانے والوں کے لئے کتنے احتجاج اور ایسے شوز کئے ہیں انشااللہ دو تین دن میں میری اگلی تحریر میں ضرور پڑھیے گا۔۔(جاری ہے)