پاکستانی عمرہ زائرین کا نیا امتحان ؟،،،،،،،،، ( پہلو ۔۔۔۔۔۔۔ صابر مغل )

دنیا بھر میں موجود ہر مسلمان کی یہ بنیادی خواہش ہوتی ہے کہ کاش وہ کسی طرح مرنے سے قبل حرمین شریفین کی زیارت کر لے،خانہ خدا اور روضہ رسول ﷺ پر وہ حاضری کا شرف حاصل کر سکے،دنیا کے ان سب سے مقدس ترین مقامات کو دیکھ کر اپنی آنکھوں اور دلوں کو منور کر سکیں،اپنی آخرت کے لئے رب کے آگے اس کے گھر پہنچ کر گڑ گڑا کر معافی کے خواستگار ہو سکیں،دنیا بھر سے ہر سال کروڑوں مسلمان حج اور عمرہ کے لئے سعودی عرب پہنچتے ہیں،وہاں بلا تفریق مرد وزن بچے بوڑھے جاتے ہیں،سعودی عرب اسی حوالے سے مسلمانوں کے لئے مقدس ترین ریاست ہے وہیں اسے حج و عمرہ زائرین کی سعودیہ آمد پر سعودی حکومت کو بے پناہ ریوینیو حاصل ہوتا ہے ،ماضی میں اکثرغریب ممالک کے لوگ عمرہ ویزہ پر سعودی عرب جاتے اور چھپ کر وہاں اس وقت تک محنت مزدوری کرتے رہتے جب تک پکڑے نہ جاتے،نظام جدید ہوا تو غیر قانونی تاکین وطن کی روک تھام کا منظم کام شروع ہوالاکھوں افراد کو سعودی عرب سے نکالا گیامگر اب وہ ماضی والا دور نہیں رہا گذشتہ کئی سالوں سے ایسا منظم نظام وضح کیا جا چکا ہے کہ عمرہ ویزہ پر جا کر وہاں چھپنا ناممکن ہے اگر کوئی ایک آدھ کیس ایساسامنے آ بھی جائے تو ٹور آپریٹر کا لائسنس نہ صرف اس وقت تک معطل کیاجاتا ہے جب تک اصل بندہ نہ مل جائے بلکہ اسے بھاری جرمانا بھی ادا کرنا پڑتا ہے،پاکستان سے عمرہ کی زیارت کرنے والوں کو لوٹنے والے جہاں بہت سے نام نہاد ایجنٹ ہیں وہیں بہت اچھی سروس مہیا کرنے والی ٹریول ایجنسیاں بھی ہیں،پاکستان میں عمرہ زائرین کا پہلے ہی کوئی پرسان حال نہیں،ایک السامی مملکت ہونے کے باوجود یہاں سے جانے والوں کو پڑوسی اور غیر مسلم ریاست انڈیا کی نسبت بہت زیادہ اخراجات اٹھانے پڑتے ہیں الراقم نے چند روز پہلے انڈین اخبار میں ایڈ دیکھا جس میں عمرہ اخراجات صرف40۔45ہزارروپے بمعہ ٹکٹ تھے جبکہ پاکستان میں عمرہ کے لئے اگر ان ڈائریکٹ فلائٹ اور رہائش دور ہو تو پھر بھی کم از کم 80ہزار سے کم میں عمرہ نہیں کیا جا سکتا،اس کے علاوہ قومی ائیر لائن کا تو حکومتوں نے بیڑہ غرق کر دیا ہے اسی لئے ٹریول ایجنٹس اور مسافر غیرملکی ائیر لائنز کو ترجیح دیتے ہیں، عمرہ کرنے کے اس سارے عمل میں اصل فائدہ وہ لوگ اور مگر مچھ اٹھاتے ہیں جو بہت پہلے ہی کئی جہازوں کے بلاک بک(ہر بلاک دس نشستوں پر مشتمل ہوتا ہے) کرا لیتے ہیں اور سیٹ کا ریٹ من مرضی مطابق لگاتے ہیں اگر اوور لوڈنگ ہو ،رش بڑھ جائے تو50سے60ہزار کی ٹکٹ90 ہزار میں بھی نہیں ملتی ،مگر جو ہوتا رہے جیسے بھی ہوتا رہے حکومت کو ایسی کسی لوٹ مار اور عمرہ زائرین کے ساتھ ہونے والی ایسی زیادتیوں کو تلف کرنے کا وقت نہیں ملتا،وہاں ہوٹلوں میں بھی زائرین کے ساتھ اکثر ناروا سلوک کی شکایات منظر عام پر آتی ہیں،اب سعودی حکومت نے پاکستانی حج و عمرہ زائرین کے ویزے کے لئے پاکستان میں ہی فنگرز پرنٹ کی لازمی پابندی لگا دی ہے اس پابندی کے فوری اطلاق پر فنگرز پرنٹ لینے والی اتحاد نامی کمپنی جو بھارتی اور سعودی شہزادے کی مشترکہ کمپنی ہے کے کراچی ،لاہور اور اسلام آباد میں قائم دفاتر میں ہر عمر کے افرادجن میں معمر اور بزرگ خواتین تک شامل ہیں کی لائنیں لگ گئیں مزید تشویشناک بات یہ بھی ہے کہ اس کمپنی کا مالک بھارتی شہری بھی ہے اس ازلی دشمن کی کمپنی میں پاکستانیوں کا ڈیٹا غیر محفوظ ہونے کا قوی امکان ہے،ان فنگر زپرنٹ کے لئے600فیس بھی رکھی گئی ہے ،اس انتہائی تکلیف دہ عمل کے لئے دور دراز سے صرف ان تین شہروں میں پہنچنے سے نہ صرف وقت کا ضیاع بلکہ اخراجات میں بھی اضافہ ہو چکا ہے،عمرہ ٹور آپریٹر کے مطابق اس سال 20لاکھ پاکستانی عمرہ زائرین کا ٹارگٹ ہے ،اندازہ لگائیں ان فنگرز پرنٹ کی مد میں سعودی حکومت کو کتنی رقم ملے گی اور دوسرا ایک زائر جس کا تعلق مظفر آباد،میر پور،راوالا کوٹ،چترال ،سوات،گلگت ،فاٹا،سرگودھا،میانوالی،لیہ ،مظفر گڑھ،ڈیرہ غازی خان،بہاولپور،راجن پور،خانیوال ،وہاڑی،ملتان ،جھنگ ،بہاولنگر،رحیم یار خان ،لودھراں،صادق آباد،کوئٹہ ،گوادر،چمن ،لورا لائی ،جعفر آباد،جیکب آباد،سوئی ،سکھر ،روہڑی،شکار پور،نواب شاہ ، سمیت ملک کے دور دراز کے علاقوں سے اسلام آباد،لاہور اور
کراچی پہنچنے پر کتنا خرچ ہو گا؟ کتنی سفری ذلت اٹھانا پڑے گی؟، اب سنا ہے پشاور میں بھی فنگرز پرنٹ کے لئے آفس قائم کر دیا گیا ہے مگر یہ بھی اس کا کوئی حل نہیں پہلی بات تو یہ ہے اس عمل کو ختم کرایا جائے دوسرا اگر ایسا ممکن نہیں تو یہ دفاتر ضلعی سطع پر قائم ہونے چاہئیں، ہماری حکومت کی ذمہ داری شاید منی بجٹ لانا،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ،بڑھانا یالندن یاترا ہی ہے انہیں عوام کی خواری سے کوئی سروکار نہیں ،یہ ایک ایسے تکلیف دہ عمل کا آغاز ہے جو ہر لحاظ سے باعث تشویش ہے،حکومت نیند سے جاگ کر حجاز مقدس جانے کی خواہش رکھنے والوں کو خواری سے بچانے کے لئے فوری سعودی حکومت سے رابطہ کر کے انہیں قائل کرے کہ یہ عمل ٹھیک نہیں کیونکہ ہر پاکستانی شہری جس کا بھی قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنتا ہے مکمل طور پر فنگرز پرنٹ کے بعد ہی ان کا حصول ممکن ہے ،کیا طرفہ تماشہ اور عجب مذاق ہے کہ قومی شناختی کارڈ بنوانے کے وقت لائنوں میں لگ کر فنگرز پرنٹ،پاسپورٹ کے حصول پر گھنٹوں لائن میں لگ کر فنگرز پرنٹ اور اب حج و عمرہ ویزہ کے لئے لائنیں وہ بھی سینکڑوں کلومیٹرز کا سفر کرنے کے بعد،لوگ بے چارے ساری رات سفر کر کے ان شہروں میں پہنچ کر الصبح وہاں لائن میں لگ جاتے ہیں جہاں نہ چھوٹے بچوں کی تمیز نہ بوڑھے شہریوں کی بزرگی کا خیال ،کیا یہ ہی شہریوں کے حقوق ہوتے ہیں؟حکمرانوں نے برسوں سے قوم کو لائن بناؤکے گھن چکر میں ڈال رکھا ہے خدارا اس قوم کو کچھ اور تو نہیں دے سکتے ہو کم از کم انہیں حجاز مقدس ہی عزت و احترام سے جانے کا اہتمام کر دیں۔