میکرو،مائیکرواور میٹرو۔۔۔(طنزومزاح)۔۔۔ تحریر:مرادعلی شاہد۔ دوحہ قطر

میکرو او ر مائیکرو الفاظ سے میرا واسطہ دورانِ گریجوایشن اکنامکس پڑھتے ہوئے ہوا کہ میکرو طویل المدتی،لمبے عرصے کے لئے حصولِ فوائد کے پروگرام جبکہ مائیکروعرصہ قلیل میں قلیل المدتی فوائد حاصل کرنے والے پروگرام ہوتے ہیں۔ملکی اور” منشی “کی بہتری کے لئے زیادہ تر طویل المدتی پروگرام و فوائد ہی زیر بحث لائے جاتے تھے۔مگر اب لگتا یہ ہے کہ زمانہ تبدیل ہو گیا ہے لوگوں کے پاس اب نہ گھڑی ہے نہ وقت۔چور دروازوں سے راتوں رات حصول فوائد کی دھُن اور دھَن میں میکرو سے مائیکرو ہوتے جا رہے ہیں۔یعنی ایک وقت میں کہ جب ہم سب کے پاس وقت تھا ہمارے بزرگ بڑے ہزار بارہ سو صفحات سے کم کسی ناول یا افسانہ کو ہاتھ لگانا بھی گوارہ نہ کرتے تھے ۔جیسے ملا وجہی کا” سب رس”،رجب علی سرور کا ،”فسانہٗ عجائب”،میر امن ،”باغ و بہا”ر۔میکسم گورکی کا “ماں” ،شہاب الدین کا “شہاب نامہ” اور بانو آپا کا “راجہ گدھ” وغیرہ۔
زمانہ بدل گیا ۔اب مائیکرو فکشن کا زمانہ آ گیا ہے کہ اب مائیکرو یا “ننھے منھے” قارئین چاہتے ہیں کہ ملا وجہی اگر لکھے تو سب رس نہیں بلکہ” ست رنگے ہونٹوں” پہ صرف سات صفحات یا سات اشعار،فسانہٗ عجائب نہ ہو بلکہ میرا تیرا افسانہ ہو جو فیس بک پہ وائرل اور ہر گروپ کی جان ہو،میکسم گورکی بوڑھی ماں کو موضوع سخن نہ بنائے بلکہ شتابی کلی ،گل اندام کی نزاکتیں اور خاص کر ” زیرو سائز” کو باریک قلم سے نوک قلم کرے۔کہ تحریر پڑھتے ہی محبوب کے” مائیکرو سائزز “تک ذہن کے پردہ سکرین پر ہتھوڑہے کی طرح ضربیں لگائے کہ قاری محبوب کے سائز کو ضرب،جمع،تفریق کے چکروں میں پڑا رہے۔اگر شہاب خامہ فرسائی فرمائیں تو شہاب نامہ نہیں بلکہ” شتاب نامہ” قسم کی مائیکرو ڈائری تحریر کریں۔اور راجہ گدھ میں سے گدھ نکال کے راجہ کے ساتھ رانی کے شتابی اندازِ قاتلانہ پر قلم اٹھا تیں۔
حسب حال طلباٗ وطالبات بھی ماسوا سکول بیگ میکرو سے مائیکرو ہوتے جا رہے ہیں۔قدو قامت،فکر و اذہان اور بلحاظِ جسم بھی میکرو سے مائیکرو ہونے کو دھوڑے جا رہے ہیں۔کہ آپ کسی تعلیمی ادارے میں جائیں تو جس بچے کو آپ 4thاسٹینڈر کا سمجھ کر پوچھ لیتے ہیں کہ بیٹا کس کلاس میں پڑھتے ہو تو آپ کے ہاتھوں کے طوطے اس وقت اڑ کر بچے کے سر پر بیٹھ جاتے ہیں جب وہ گویا ہوتا ہے کہ سر9thمیں۔اور تو اورعائلی زندگی بھی اس” نفسیاتی بیماری “سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔کہ جس آنگن میں دس دس بچے کھیلا کرتے تھے اب اسی دالان میں نسلِ نو سے” مائیکرو فیملی” کے دو ،دو بچے ممی ڈیڈی کے آس پاس” ریں ریں “کرتے پائے جاتے ہیں۔مائیکرو فیملی سے فیملی پلاننگ کا تعلقِ خاص ہے بلکہ” خاص تعلقات “کی وجہہ سے ہی فیملی پلاننگ کا ادارہ بنایا گیا۔کہ پرانے زمانہ میں بغیر پلاننگ کے فیملی بنائی جاتی جس کا نتیجہ کہ” سات سے کم گھرانہ،نعمت کا ٹھکرانا” اور بغیر سوچے سمجھے دیکھتے ہی دیکھتے جب میا ں بیوی بڑھاپے میں قدم رکھتے تو سات بچوں کا عدد بھی مکمل ہو چکا ہوتا۔اب جدید فیملی ساری ساری رات اس پلاننگ میں گزار دیتی ہے کہ نئی کرولا لی جائے یا تیسرا بچہ، بالآخر تیسرا بچہ(جس کا اعلان بیوی کرتی ہے)پائپ لائن کی نذر اور آنگن میں بچہ کی بجائے گیراج میں نئی گاڑی چمک دمک سے فیملی کو میکرو ہونے سے بچانے کا مرتکب ٹھہرائی جاتی ہے۔مائیکرو فیملی سے ایک بات ضمناً یاد آ گئی کہ جب پاکستان میں نیا نیا فیملی پلاننگ شروع ہوا تو حکومتی کمیٹی نے یہ طے پایا کہ چونکہ دیہی آبادی کی شرح شہری آبادی سے بہت زیادہ ہے اور پھر گاؤں کے لوگ زیادہ پڑھے لکھے بھی نہیں ہوتے تو انہیںbillboardکے ذریعے آگاہی فراہم کی جائے۔کہ مرد حضرات اپنی اپنی” بلو “سے ایک خاص وقفہ تک اجتناب برتیں تاکہ بچوں کی تعداد کم سے کم ہو۔اور یہ بھی آگاہی دی جائے کہ” کم بچے خوشحال گھرانہ”.فائنل قرار پایا کہ ہر گاؤں کے اعظم چوک میں دو دو billboardلگائے جائیں جس میں ایک پر بہت سے بچے،افراتفری(فر فر تفریح کوئی نہیں)کم وسائل،بھوک،پیاس،گھر اجڑا گلشن،اور دوسرے پر خوبصورت گھر ،دو بچے اور خوشحال فیملی…..،عملی اقدام کے بعد جب مشاہدہ کیا گیا تو دیہی خواتین کم بچوں والے بورڈ کے پاس آ کر رکتیں،اظہار تاسف کرتیں کہ
” ہائے ہائے بیچاروں کے صرف دو ہی بچے”
اور دعائیں کرتیں کہ اللہ ان بیچاروں کا گھر بھی ہماری طرح بچوں سے بھر دے۔ایسے ہی ہماری فیشن انڈسٹری بھی اس” جرم خفی “کے اظلال سے بچ نہ پائی کہ پارٹی گرل،ماڈل گرل، سے لیکر گھریلو گرل تک اس مرض لاعلاج کا شکار ہیں۔کہ ان تمام کی زبان میکرو اور کپڑے ما ئیکرو ہوتے جا رہے ہیں۔بوتیک،برانڈ سٹائل کا اگر مائیکرو ہونے کا یہی سلسلہ چلتا رہا تو عصر مستقبل میں آپ کو بتانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے کہ یہ تن بدن کبھی کپڑوں سے ڈھکا ہوا کرتا تھا۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مائیکرو ہوتے ان کپڑوں کے تاب نظارہ کے لئے کبھی مائیکرو سکوپ کی ضرورت بھی پڑ جائے۔جیسے کہ لڑکوں کی شرٹ مائیکرو ہو کر اسکن ٹائٹskin tightاو”ر بیل باٹم “پینٹ مائیکرو ہوتے ہوتے” ٹیڈی” پیسے کی سی ٹیڈی سی پینٹ ،پھر پرمودا۔شارٹس اور ایام مستقبل کے فیشن میں محض لنگوٹ یا “چڈی” ہی کو پینٹ خیال کر لیا جائیگا۔اور اکبر الہ آبادی کی یہ شعری رٹ پٹیشن اطلاق مصدقہ قرار پائیں گے کہ
شوق لیلائے سول سروس نے مجھ مجنوں کو
اتنا دوڑایا کہ لنگوٹی کر دیا پتلون کو
جی ہاں آپ کہہ سکتے ہیں کہ زمانہ ہی خراب ہے کچھ بھی ممکن ہو سکتا ہے۔اور پھر ناممکنات کو ممکن ہی بنانا تو فیشن ہے۔کہ اماوس رنگت کی سی بچی بس ایک چکر پارلر کا لگاتی ہے۔پھر کیا ، ایسا paintہو کہ باہر آتی ہے کہ ا سکا خاوند علی الصبح شور مچا رہا ہوتا ہے کہ میرے ساتھ دھوکا ہوا ہے۔یہیں بس نہیں لڑکیوں کے گرارے،شرارے،مائیکرو ہو کر پلازو،اس سے مائیکرو ہو کہ ٹراؤزر اور اس سے بھی مائیکرو ہو کر کیپری اور اب” ٹائٹ انتہائی ٹائٹ بن “گئے ہیں۔کہ آپ نہ صرف کپڑوں کے ریشے بلکہ پنڈلیوں کے نسوں،رگوں اور ریشوں کو رعشہ ہوتے ہوئے نظارہ کر سکتے ہیں۔مائیکرو پن کی یہیں بس نہیں بلکہ نسل جدید کی لڑکیوں کو تو وہ لباس پسند ہی نہیں جو نیم پنڈلیوں اور برہنہ کندھوں تک کی عریانی کا مرتکب نہ ہو۔رشتے اور رشتہ داریاں بھی اس مائیکرو ازم کے میکرو جراثیم سے بچ نہ پائے۔گھر کا سربراہ جو کبھی تمام خاندان میں ابا یا بڑے ابو کہہ کر پکارا جاتا تھا۔اب ٹیدی پیسے کی سی وقعت جیسے نام ڈیڈی ،برادر سے bro،سسٹر سےsis،اماں سے مما،اور بڑی جلالی پھوپھو اب محضantyکہہ کر پکاری جاتی ہے۔پرانوں رشتوں کو ااسماٗ و القابات سے پکارنے سے محسوس ہوتا کہ گھر کے در و دہلیز سے کوئی قوی ہیکل پہلوان قسم کا انسان داخل ہونے والا ہے۔جبکہ موجودہ ناموں سے یوں گماں ہوتا ہے کہ گھر کے کسی سوراخ سے ممی،ڈیڈی،سس،برو , برآمد ہو ں گے اور ادھر اُدھر کسی کونے کھدرے میں براجماں ہو جائیں گے۔یا کسی دیوار ،کسی شاخ یا گھر کی کسی منڈھیر پہ چونچ اور پنجوں میں اپنی اپنی خوراک اٹھائے بیٹھ جائیں گے۔اسماٗ و القابات کو مائیکرو لکھنے میں خصوصاًنسل نو مبتلا ہے۔قطع نظر معنی و مفہوم کیسا بھی واہیات و لغو ہو ۔جیسے کہ میرے ایک ایک دوست کا بیٹا جو ڈوگر ہے وہ شارٹ فارم میں اپنے آپ کو Rکے بغیر لکھتا ہے۔ایک ہندی دوست ashmanاپنے آپ کو Ashاور پاکستانی اسرار بھائی Assلکھتے اور کہلواتے ہیں۔مستزا د اس پہ یہ کہ گھر کے باہر نیم پلیٹ پر بھی Ass Houseلکھوا رکھا ہے۔تمام احباب کو توجہ دلاؤ نوٹس سے آگاہی فرمائی تو جواب میںuncle so unculturedجیسے جواب نے میری آنکھیں ہی کھول دیں۔شائد اسی کو generation gapکہتے ہیں۔اگر یہی تہذیب و تمدن جنریشن گیپ ہے توہم لنڈورے ہی بھلے۔
چند روز قبل قطر حکومت نے میٹرو ٹرین کو تجرباتی بنیادوں پر ٹریک پہ لے کر آئی تو حیرانگی کی انتہا نہ رہی کہ بچپن سے جو ہم ٹرین کا تصور ذہن میں رکھتے تھے وہ کسی طور بھی پندرہ بوگیوں سے کم نہ ہوتی تھی۔جو اب مائیکرو ہو کر محض تین بوگیوں وہ بھی بغیر ڈرائیور کے رہ گئی ہے جسے ٹرین کی بجائے ٹرین کا بچہ کہہ لیا جائے تو مناسب ہو گا۔پاکستان میں بھی ان دنوں میٹرو ٹرین شہ شرخیوں کی زینت ہے۔دیکھئے کہ پاکستان میں میٹرو ٹرین کا اونٹ مائیکرو ہو کے اونٹنی کس کروٹ بیٹھتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔