اساتذہ کے ساتھ ظلم۔۔۔! ، تحریر: عبد الغفور بٹ

پوری دُنیا میں اگر کسی طبقہ فکر کی سب سے زیادہ عزت ہے تو وہ اساتذہ کرام ہوتے ہیں مگر وطن عزیز میں اساتذہ کو جس طرح بے وقار اور بے وقعت کیا جا رہا ہے اس کی کہیں مثال نہیں ملتی اس طرح ہمارے پیارے ضلع جہلم میں بھی افسران نے ٹیچرز حضرات کا جینا دو بھر کر رکھا ہے، بات بات پر ذاتی شنوائی کے لیے سی ای او ایجوکیشن اور ڈی ای او حضرات اپنے زر خرید غلاموں کی طرح دفتروں میں بلاتے لیتے ہیں اور رات دس گیارہ بجے تک اپنی عدالتیں لگائے رکھتے ہیں اور یہ سب کچھ خواتین اساتذہ کے ساتھ بھی ہوتا ہے، جرم نہیں کہا جا سکتا مگر سزا ایسے دے دی جاتی ہے جیسے قدیم زمانے کے بادشاہ دیتے تھے، مثال کے طور پر گذشتہ دِنوں ہم سے کچھ اساتذہ نے اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی کا کچھ یوں ذکر کیا کہ اُنہیں طلبہ کی 90 فی صد سے کم حاضری پر 2 ہزار روپے سے 5 ہزار روپے تک کے نقد جرمانے کیے گئے، طریقہ واردات یہ ہے کہ پہلے ایک واجبی سا شوکاز نوٹس جاری کیا جاتا ہے اور جواب کے لیے دور دراز کے سکولوں سے سربراہان سکول اور انچارج کلاس ٹیچرز کو سکول ٹائم کے بعد دفتروں میں بلایا جاتا ہے اور جو بھی جواب شوکاز نوٹس کا دِیا جائے تو اسے قبول نہیں کیا جاتا، بلکہ بے عزت کر کے واپس بھیجا جاتا ہے اور بعد ازاں جونیئر افیسران کے ذریعے اطلاع دی جاتی ہے کہ اتنی رقم بطور جرمانہ اکائونٹ میں جمع کرائی جائے، اس سلسلے میں اساتذہ سے جو ملاقاتیں ہوئیں ان میں سے درج ذیل نکات سامنے آئے۔
.1 بچے اپنے والدین کی پراپرٹی ہیں انہیں زبردستی استاد کیسے سکول لائے، استاد روزانہ کی بنیاد پر غیر حاضر طلباء کے والدین کو ذاتی خرچ پر کالز کرتے ہیں، آگے سے والدین کے اپنے جواز ہوتے ہیں، جنہیں ٹیچرز کو قبول کرنا پڑتا ہے مگر محکمے کے ڈکٹیٹر افسران قبول نہیں کرتے۔
.2 شادیوں کا سیزن آج کل پورے عروج پر ہے اور سکول سے ملحقہ علاقوں میں اگر دو تین شادیاں ہوں تو رشتہ دار بچے سکول سے چھٹی کر لیتے ہیں اور استاد کے پاس کون سی کلاشنکوف ہے جس کے سر پر استاد بچے کو سکول لے آئے۔
.3 دیہاتی کلچر کے بچے کاشتکاری میں بھی والدین کا ہاتھ بٹاتے ہیں، فصلوں کی بوائی، آبپاشی اور کٹائی اور گوہائی کے وقت وہ بچوں کی مدد کے لیے مجبور ہیں مگر ان کی مجبوری کی سزا ٹیچرز کو یا ہیڈ ٹیچرز کو دی جاتی ہے۔
اساتذہ کا کہنا ہے کہ مالی جرمانے اساتذہ کی بجائے طلباً کے والدین کو کیے جائیں تا کہ وہ اپنے بچوں کو سکول بھیجیں۔اس کے علاوہ ٹیچرز کو یہ اختیار دِیا جائے کہ وہ غیر حاضر طلباء کے والدین کے خلاف آن لائن ایف آئی آر قریبی تھانہ میں درج کرا سکیں اور ایسے والدین کے خلاف حکومت ایکشن لے۔ مزید برآں اساتذہ کا مطالبہ کا ہے سی ای او ایجوکیشن جہلم کا اکائونٹ نمبر CO2818 اک ڈپٹی کمشنر جہلم آڈٹ کرائیں کہ اس میں جو اساتذہ کے جرمانے کی لاکھوں روپے کی رقم جمع ہوتی ہے وہ کدھر جاتی ہے۔۔۔! کہاں خرچ ہوتی ہے۔۔۔؟؟اور ڈپٹی کمشنر صاحب سے اساتذہ برادری کی التجا ہے کہ براۂِ کرم ان کا معاشی قتل عام بند کرایا جائے اور یہ جرمانہ کلچر یا جگا ٹیکس بند کرایا جائے، خادم اعلیٰ پنجاب سے بھی اپیل ہے کہ بلکہ سوال ہے کہ کیا اساتذہ کو ذہنی مریض بنا کر آپ پڑھو پنجاب، بڑھو پنجاب کا خواب شرمندہ تعبیر کر سکتے ہیں۔ جو اب ہے ہر گز نہیں۔ اساتذہ کو مجرم نہیں محرم سمجھو مسئلہ نہیں بلکہ مسئلہ کا حل سمجھ کر عزت دو تبھی مقاصد تعلیم کا حصول ممکن ہو گا ورنہ اساتذہ کو بے وقار کرنے والی کسی قوم نے کبھی ترقی نہیں کی۔ یہ نوشتہ دیوار ہے۔۔۔!