ڈی ایچ کیو ہسپتال جہلم کا آوے کا آوا بگڑ اہوا ہے ایم ایس ڈی ایچ کیو سے لے کر کلاس فور کے ملازم تک،شانی بٹ

جہلم(عبدالغفور بٹ)حواء کی حاملہ بیٹی مجبوری کے تحت ڈی ایچ کیو ہسپتال جہلم کے دروازوں پر دستک دیتی رہی مگر نرسوں نے دروازے نہ کھولے،مگر ایمرجنسی کی سیڑھیوں پر ہی بچہ کی پیدائش کے فوراً بعد نرسوں نے اس سے دو سو روپے بھی بخشش کے طور پر بٹور لیے جبکہ 1122کے اہلکار دروازے بجاتے اور منتیں کرتے رہے ،وزیراعلیٰ پنجاب فوری طور پر اس واقعہ کا نوٹس لیں اور جہلم کے شہریوں کی مجبوریوں کو تحفظ دیں ۔ان خیالات کااظہار پاکستان مسلم لیگ ن کے ایم ایس ایف کے ضلعی صدر شانی بٹ نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی مجھے بہت سی رپورٹیں ملتی رہی مگر میں درگزر کرتا رہا مگر اس واقعہ نے میرے اندر ایک ہجان پیدا کردیا اور مجھے ایسا لگا جیسے یہ مظلوم اور مجبور عورت مجھ سے فریاد کر رہی ہے،اگر میں نے اس کی فریاد نہ سنی تو روز محشر میں اللہ کے سامنے کیا منہ دکھاؤں گا،تفصیلات کے مطابق ڈی ایچ کیو ہسپتال جہلم کا آوے کا آوا بگڑ اہوا ہے ایم ایس ڈی ایچ کیو سے لے کر کلاس فور کے ملازم تک کوئی آدمی بھی مجبور مظلوم مریضوں اور ان کے لواحقین کے ساتھ اخلاقیات کی حدود کی گفتگو کرنے سے قاصر ہے،راولپنڈی ریفر کر دینا یہ ایک وطیرہ بن گیا ہے اور ہمارے پاس روزانہ ایسے شہری آتے ہیں اور میڈیا کے نمائندوں اور لوکل اخباروں سے پتہ چلتا رہتا ہے کہ ڈی ایچ کیو میں اس کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے مگرا س واقعہ نے جہلم کے تمام طبقوں کو ہلاکر رکھ دیا ہے اور آج ہی وہ بچوں کے افسوس ناک موت نے جو عملہ کی غلطی اور لواحقین کے مطابق آکسیجن سلنڈر خالی ہونے کی وجہ سے بچے دم گھٹنے کی وجہ سے وفات پا گئے اس طرح کے اور سے بہت سے واقعات ہوتے رہتے ہیں ہماری ہر دلعزیز وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے استدعا ہے کہ لاہور ہیڈ کوارٹر سے ڈاکٹروں پر مشتمل ایک انکوائری ٹیم بھیجی جائے جو متاثرین اور عملہ کو بلا کر دونوں کے بیانات حاصل کرے اور اس ہسپتال کی آئے دن کی پریشانیوں کو مددگار ثابت ہو۔ضلعی صدر ایم ایس ایف مسلم لیگ ن شانی بٹ نے بات کو بڑھاتے ہوئے کہا کہ میں میڈیا کا مشکور ہوں کہ وہ بلا خوف و خطر معاشرے کی برائیوں کو اجاگر کرتے رہتے ہیں اور مسلم لیگ ن کے نمائندے ان خامیوں کی دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اور ہماری ایم ایس ایف کے ممبران بھی اپنی سطح پر خامیوں اور خرابیوں کو دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن جو مسائل ہماری سطح سے بلند ہے اس کیلئے حکومت پنجاب سے رجوع کرنا پڑتا ہے ہماری استدعا ہے کہ ہسپتال کے ڈاکٹر ز کو ہسپتال کے اوقات میں ڈیوٹی کا پابند بنایا جائے اور ان کے ماتحت سٹاف کو بھی اخلاقیات سکھائی جائیں،پرائیویٹ پریکٹس کرنے والے ڈاکٹروں کے اثاثے کروڑوں میں پہنچ چکے ہیں مگر یہی ڈاکٹر جب ڈی ایچ کیو میں ہوتے ہیں تو صحیح طرح بات بھی نہیں کرتے ،ہم ان کی پریکٹس کے خلاف نہیں مگر ان سے اپیل کرتے ہیں کہ جو مریض استطاعت نہیں رکھتے ان سے کم فیس میں ان کا معائنہ اور علاج کیا جائے ،آخر میں ضلعی صدر ایم ایس ایف نے تمام شہریوں کو کہا کہ میرے دروازے کھلے ہیں اگر آپ کسی قسم کی شکایت ہو تو آپ برائے راست مجھ سے میری فیس بکshanibuttmsf اور میرے دفتر رجوع کریں اور انشاء اللہ آپ کے مسئلے مسائل کو حکام بالا تک پہنچانے کی کوشش کروں گا،