پاکستان 2018 میں اپنا پہلا ’’ریموٹ سینسنگ‘‘ سیٹلائٹ خلا میں بھیجے گا

کراچی: پاکستان سال 2018 میں اپنا پہلا ’’ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ‘‘ خلا میں روانہ کرے گا جس سے پاکستان ریموٹ سینسنگ کے شعبے میں خودکفالت حاصل کرسکے گا۔
پاکستانی کے قومی خلائی و فضائی تحقیقی ادارے (سپارکو) کی جانب سے پاکستان میں ’’بین الاقوامی خلائی ہفتہ‘‘ کی تقاریب کے افتتاح پر چیئرمین سپارکو نے کہا ہے کہ پاکستان کے لیے یہ سیٹلائٹ نہایت اہمیت کا حامل ہوگا۔

اس سلسلے میں سپارکو ہیڈ کوارٹر کراچی میں افتتاحی تقریب منعقد ہوئی جس سے چیئرمین سپارکو قیصر انیس خرم نے خطاب کیا۔ اس سال سپارکو کے تحت تقریبات کا آغاز ملک کے 14 شہروں تک بڑھایا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے تحت ہر سال اکتوبر کے دوسرے اور تیسرے ہفتے میں انٹرنیشنل اسپیس ویک کی تقاریب منعقد کی جاتی ہیں اور گزشتہ برس پاکستان میں کی گئی بین الاقوامی خلائی ہفتے کی تقاریب اور کوریج کی باعث پاکستان کو پہلا نمبر دیا گیا تھا۔
سپارکو ہیڈ کوارٹرزمیں واقع نیشنل سینٹر فار ریموٹ سینسنگ اینڈ جیو انفارمیٹکس میں معنقدہ اس تقریب میں چیئرمین سپارکو نے خلائی سائنس و ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان 2018 میں اپنا پہلا ریموٹ سینسنگ سیٹلائیٹ خلا میں روانہ کرے گا جس سے سیٹلائٹ ریموٹ سینسنگ میں خودکفالت حاصل ہوسکے گی۔
اس موقع پر پاکستانی طالبعلموں کی جانب سے تیار کردہ خلائی پوسٹرز کی نمائش بھی منعقد کی گئی تھی اور خلائی معلومات اور ویڈیوز چلانے والی بس کا افتتاح بھی کیا گیا۔ اس سلسلے میں کوئٹہ، گلگت، پشاور، ٹنڈو الہیار، عمرکوٹ، دادو، لاڑکانہ، فیصل آباد، کراچی، اسلام آباد، بہاولپور، ملتان، لاہور اور ایبٹ آباد میں کوئز، راکٹ سازی، سیارہ گاہ ، نمائش اور دیگر تقاریب منعقد کی جارہی ہیں۔