بیک وقت ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر بننے والا طیارہ تیار

واشنگٹن: ایک ایئروسپیس کمپنی نے دنیا کا عجیب طیارہ بنایا ہے جو ہیلی کاپٹر اور ہوائی جہاز کے درمیان کی کوئی شے ہے۔
ایلائٹرون کمپنی نے الائٹرون نام سے ہی ایک ہوائی جہاز بنایا ہے جس میں 6 مستقبل بازو ( ونگز) اور 2 پنکھڑیاں لگی ہوئی ہیں۔ مرکزی بازوؤں کو بہت ہلکا پھلکا بنایا گیا ہے جو پروازکے دوران رکاوٹ کو کم کرتے ہیں۔ اس طرح 4 نشستوں والا یہ طیارہ 627 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرسکتا ہے۔ ویڈیو میں اس کے چھوٹے ماڈل کی تجرباتی پرواز کو دیکھا جاسکتا ہے۔

کمپنی کےمطابق اس انوکھے طیارے میں مستقل بازو اسے طیارے جیسی رفتار دیتے ہیں اور پنکھڑیاں اسے ہیلی کاپٹر کے طرح اوپر اٹھنے اور اترنے میں مدد دیتی ہیں۔ اس طرح یہ بہت چھوٹی سی جگہ سے پرواز کرسکتا ہے اور اسے لمبے چوڑے رن وے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

اسے طبی امداد کی ہنگامی حالت، لوگوں کی تلاش اور ہوائی ٹیکسی کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ آفت زدہ علاقوں میں بھی اس سے مدد لی جاسکتی ہے۔ یہ کمپنی ناسا کے ساتھ مل کر بھی کام کررہی ہے اور 2017 اسے ہوائی سرنگ ( وند ٹنل) میں آزمایا جائے گا۔ تاہم کمپنی کے مطابق اس کی ٹیسٹ فلائٹ میں کچھ مشکل پیش آئی اور ہنگامی طور پر اترنے کے بعد پائلٹ کو چوٹیں آئی ہیں۔