لاشیں اٹھانے کا سلسلہ کب تھمے گا؟؟؟ تحریر۔ رشید احمد نعیم ،پتوکی

ابھی لاہور میں شہادت پانے والوں کے خون کی سرخی ماند نہیں ہو پائی تھی اور ان کی تدفین کے بعد تعزیت کا سلسلہ جاری تھا کہ انسانیت کے دشمنوں نے ایک بار پھر پوری پاکستانی قوم کو رولا کر رکھ دیا۔بزدل ملک دشمن عناصر نے حضرت لعل شہباز قلندر ؒ کے مزار شریف کے احاطے میں بھیانک کھیل کھیلتے ہوئے دھمال میں مصروف اسی کے قریب زائرین کو موت کے منہ میں دھکیل دیا اور سینکڑوں افراد کو زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا کر دیا۔جمعرات کی شب حضرت لعل شہباز قلندر ؒ کے مزار شریف پر روحانی محفل منعقد ہو رہی تھی اور عقیدت مند دھمال ڈال کر ذہنی و روحانی تسکین حاصل کرنے میں مصروف تھے کہ ظالم درندوں نے اپنی وحشت کا مظاہرہ کر دیا۔ سندھ پولیس کے ترجمان کے مطابق حملہ آور گولڈن گیٹ سے درگاہ میں داخل ہوا اور مزار میں دھمال کے دوران خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ جمعرات کا روز ہونے کی وجہ سے مزار میں زائرین کا رش تھا۔جس کی وجہ سے اس قدر زیادہ جانی نقصان ہوا۔۔پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔پاکستانی فوج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے۔ہمارا ایک ایک فوجی مجاہد جذبہ ایمانی سے سرشار ہے اور وطنِ عزیز کی حفاطت کرنا اپنے ایمان کا حصہ سمجھتا ہے مگر اس کے باوجود ہمارے دشمنوں نے ہمارا جینا حرام کر رکھا ہے۔مسلسل ہم سے ہمارے پیاروں کو چھینا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ایٹمی طاقت اس لیے بنا تھا کہ دشمن جب چا ہے ہمارے پھول جیسے بچوں کو شہید کر دے اور جب چاہے جس طرح چاہے ہمارے شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنا دے اور ہم بے بسی کی تصویربن کر لاشیں اُتھاتے اور آنسو بہاتے رہیں۔دہشت گردوں کو پکڑنے ،را کے ایجنٹ کی گرفتاری اور بھارت کی مداخلت کے ثبوتوں کے بعد بھی اگر ایٹم بم اور دیگر مزائلوں کا استعمال عمل میں نہیں لانا تو پھر ان کو کب استعمال کرنا ہے؟؟؟کیا یہ کھیلنے کے لیے کھلو نے بنائے ہیں یا وطنِ عزیز کی حفاظت کے لیے ہتھیار بنائے ہیں ؟؟؟صبر وتحمل مگر کب تک ؟ ۔ دوٹوک فیصلہ کرنے کا وقت آ گیا ہے ۔ اب صرف مذمت یا صرف خالی احتجاج سے کام نہیں چلے گا ۔ دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد پوری قوم میں شدیدغم و غصہ پایا جارہا ہے۔ ہرطرف پریشانی جنم لے رہی ہے کہ روزروز جنازے اٹھانے کے بعدآخر ہم کس بات کا انتظار کر ہے ہیں؟ بھارتی ’’ را‘‘ کے پالتو ایجنٹوں کی گرفتاری کے بعد ہر بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ بھارتی را کے پالتو بھیڑیئے ہماری پاک دھرتی کے معصوم انسانوں کا شکار کرنے کے لیئے خطہ بلوچستان پر دندناتے پھر رہے ہیں تو ان کو پٹہ آخر کس خوف کے سبب نہیں ڈالا جا رہا؟جب ان بھیڑیوں کو چرانے والا خبیث کلبھوشن پکڑا جاچکا ہے تو اس کے ساتھی ابھی تک اس سرزمیں پر زندہ کیوں گھوم رہے ہیں؟؟؟ کلبھوشن یادیو کو لٹکانے میں آخر کونسا امر مانع ہے؟ جب ہمیں بھارتی ارادوں کا علم ہو چکا ہے کہ وہ بلوچستان کو اس پاک سر زمین سے الگ کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے تو اس کی آنکھوں کی بینائی ابھی تک کیوں محفوظ ہے؟کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ جو بھی را کا ایجنٹ ظاہر ہو جائے اسے بلا تاخیر اڑا دینا چاہیئے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ خبر بھی آجائے گی کہ فلاں کالعدم تحریک نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ اگر ایسا ہوتو جہاں سے یا جس بھی ذریعے سے وہ اپنے کئے کا اعتراف کریں اس جگہ تک پہنچنا اس جدید دور میں مشکل نہیں پھر ہم تاخیری حربوں کا کیوں شکار ہو رہے ہیں؟؟؟ انسانیت کے ان قاتلوں کو عبرت کا نشان بنانے سے کیوں کنی کترا رہے ہیں؟؟؟۔اگر یہ کام کسی نام نہاد کالعدم تحریک کا ہے تو اسے بھی صفحہ ہستی سے کیوں نہیں مٹایا جا رہا ہے ؟ جو تحریکیں اسلام جیسے آفاقی سلامتی کے دین کی آڑمیں انسانی خون پانی کی طرح بہا رہی ہیں ان کا اسلام سے تو کیا انسانیت سے بھی دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ درندوں کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں مگر یہ بد بخت لوگ بے ضرر انسانوں کو نا حق مار رہے ہیں مگر حیرت کی بات ہے کہ ان کو پکڑنا اتنا مشکل کیوں ہے ؟کیا ان کے پاس کوئی طلسمی ٹوپی ہے کہ سینکڑوں لوگوں کا خون کر کے بڑی آسانی سے سب کی نظروں سے غائب ہو کر کسی اگلی تباہی کی منصوبہ بندی کرنے لگ جاتے ہیں جبکہ ہم بڑے سکون سے اتنا کہہ دیتے ہیں کہ نامعلوم خودکش بمبار تھا جس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا اور پُرزور مذمت کر کے پرسکون ہو جاتے ہیں۔سوچنے کی بات کہ جسم سے بارود باندھے یہ خود رو پودے کی طرح خود بخود زمین سے اُگ آیا یا کسی نے اس بمبار کو یہاں تک پہنچایا ہے ؟ قانونی شکنجہ آسانی کے ساتھ پہنچانے والے ان سہولت کاروں تک کب پہنچے گا؟؟؟ ۔ اس سے پہلے کہ مادر وطن کو کسی اور بڑے سانحے سے دوچار ہونا پڑے ہر دہشتگر د،ہر انڈین ایجنٹ،ہر ملک دشمن اور ان کے سہولت کاروں کو الٹالٹکا ناہو گا کیوں کہ یہ وحشی درندے ظلم و بریت کی سب حدیں عبور کر گئے ہیں۔ پاک سر زمیں کی بقاء اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے کچھ سخت فیصلے کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔وطن دشمنوں کی صفیں الٹا نے کے لیے پوری قوم ایک ہو نا ہو گا تاکہ دشمن کو یہ پیغام پہنچ جائے کہ ہم سب ایک ہیں۔پاکستان سے مودی ازم اور موذی ازم کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے ایسے عملی اقدامات کرنے ہوں گے کہ دشمن وطن عزیز کی طرف بُری آنکھ سے دیکھنے سے پہلے ہزار دفعہ سوچنے پر مجبور ہو۔ہم کو اپنی صفوں کی طرف بھی دیکھنا ہو گا اور بلا تفریق تحریک و تنظیم،بلا خوف اقتدارو اختیار،جو ہندوستانی یاری کا دم بھرے وطن دشمن ہے۔ مٹا دو اسکو خواہ وہ کوئی بھی ہو اب اگر کوئی رعائت برتی گئی تو تاریخ ہم سے رعائت نہیں کرے گی اور نہ ہم کو معاف کرے گی ۔اس لیے اب دشمن کا صفایا کرنا ضروری ہے کیونکہ جو پاکستان کی رگوں میں دہشتگردی کا تیزاب انڈیل رہے ہیں وہ کسی معافی کے حقدار نہیں ہیں اور اگر ایسا نہ کیا تو پھر لاشیں گرتی رہیں گی، دھماکے ہوتے رہیں گے ،دھرتی ماں کا وجود لہو میں تر ہوتا رہے گا ۔آؤ !مادر وطن کے دشمن کا خاتمہ کرنے کا عہد کریں وہ چاہے مکانوں میں ہو یا ایوانوں میں اسے ڈھونڈ ھ نکالیں اور مادر وطن کی لاج بچالیں۔