وزیر اعظم صاحب اب تو منہ کھولیں،،،میر افسر امان

مشرقی اُفق

کنوینر کالمسٹ کونسل آف پاکستان

پاکستان میں بھارت کی ایما پر دوبارہ تسلسل سے دہشت گردی کے واقعات ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان میں سات دن میں آٹھ خود کش حملے ہو چکے ہیں اس سے قبل دہشت گردی میں پاکستان کے ڈیفنس کے اداروں جس میں فوجی ہیڈ کواٹر، آئی ایس آئی کے دفتر، پولیس کے دفاتر، فوجی اور سول ائر پورٹس، مساجد، امام بار گاہوں،چرچوں، مزاروں، بازاروں ، اسکولوں اور کھیلوں کی ٹیموں یعنی پاکستان میں کوئی بھی قابل ذکر جگہ دہشت گردوں نے نہیں چھوڑی تھی۔ ابھی پاکستانی قوم لاہور کے چیئرنگ کراسنگ پر دہشت گردی کے غم میں مبتلا تھی کہ لال شہباز قلندر کے مزار کے احاطے میں دھمال ڈالنے والوں پر خوش کش حملہ ہو گیا۔ ہماری فوج کے ترجمان بار بار کہہ رہے ہیں کہ بھارت افغانستان سے دہشت گردی کی کاروائیاں کروا رہا ہے۔جماعت الحرار اور تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ اور اس کے لوگ افغانستان میں بیٹھ کر بھارت کے کہنے پر پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کر رہے ہیں۔وزارات خارجہ کے ترجمان نے افغانستان کے حکمرانوں سے کہا ہے کہ پاکستان پر دہشت گرد حملے افغانستان کی سرزمین سے ہو رہے ہیں۔ ان کے خلاف کاروائی کی جائے۔ اسی دوران تورخم اور چمن باڈر کو سیل کر دیا گیا ۔ اس پر پیدل اور ہر قسم کی ٹریفک پر پابندی ہو گی خلاف ورزی کرنے والے کو گولی مار دی جائے گی۔ تازہ دہشت گردی لال شہبازاز قلندر کے مزار کے احاطے کے ا ندر سیون شریف میں ہوئی ۔ جمعرات کی شام عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ لوگ ہوتے ہیں۔لوگ مزار کے احاطے کے اندر قبر کے بل لکل قریب دھمال ڈالنے میں مصروف تھے کہ گولڈن دروازے سے خود کش بمبار داخل ہو ا اور اپنے آپ کو دھماکے سے اُڑا دیا۔ ابتک کی اطلاع کے مطابق ۷۶ لوگ شہید ہوئے اور ۲۵۰ لوگ زخمی ہوئے۔ جس میں بچے، عورتیں اور مرد شامل ہیں۔خود کش بمبار اور ایک عورت کا
سر بھی مل گیا ہے جس پر تحقیق ہو رہی ہے۔سیکورٹی کی اگر بات کی جائے تو میڈیا کی اطلاع کے مطابق صرف آٹھ پولیس کے افراد موجود تھے جو بہت ہی کم تعدادہے۔واک تھرو گیٹ صرف مردوں کے لیے تھا۔ وزیر اعلیٰ سندھ سیون شریف آئی جی سندھ کے ہمراہ پہنچ گئے ہیں۔ آئی جی سندھ کو وہیں رک کر تحقیق کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے سیون شریف کی سول ہسپتال کا دورہ کیا اور زخمیوں کی عیادت کی۔ سندھ حکومت نے تین دن کے سوگ کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا سب سے پہلی کوشش زخمیوں کے علاج کی ہے۔ وزیر اعلی سندھ نے فوج سے مدد کی اپیل کی ہے۔ تینوں مسلح افواج کے جوان موقع پر پہنچ گئے۔ایدھی ویلفیئر کی ایمبولنس گاڑیاں بھی پہنچ گئیں۔ شدید زخمیوں کو نیوی کے ہیلی کاپڑوں اور ایمبولنسوں کے ذریعے حیدر آباد اور نواب شاہ کی ہسپتالوں میں پہنچا دیا گیا۔ فوج کے سی۱۳۰؍ طیارے کے ذریعے شدید زخمیوں کوکراچی کے ہسپتالوں میں علاج کے ذریعے منتقل کر دیا گیا۔ سیون کے قریبی کے چار ضلعوں میں امرجنسی نافذ کر دی گئی۔ کراچی میں جناح ہسپتال اور پی این شفاء ہسپتال میں بھی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔اس سے قبل لاہور میں چیری کراسنگ مال روڈ پر پنجاب اسمبلی کے قریب خود کش بمبار نے اپنے آپ کو اُڑا دیا تھا جس میں پنجاب پولیس آفیسرز سمیت کئے شہری شہید اور زخمی ہوئے۔ بلوچستان کے علاقے آراوان میں سڑک پر نصب بارودی سرنگ سے ایف سی کا قافلہ ٹکرا گیا جس میں تین فوجی شہید ہوگئے۔ صوبہ خیبر پختون خواہ میں پشاور حیات آباد میں سول ججز کو لے جانے والی گھاڑی کو موٹر سائیکل سوار خود کش حملہ آور نے نشانہ بنایا۔ زخمیوں میں ڈرائیور خورشید ،سول جج آصف، تین خواتین جج آمنہ، تحریم اور رابعہ بھی شامل ہیں۔ ایک اور واقعہ میں مہمند ایجنسی ہیڈ کواٹر کے گیٹ پر ایک بمبار نے خود کو اُڑا دیا۔دوسرا لیوی کے جوانوں کی فائرنگ سے مارا گیا۔ اس میں چار لیویز اہلکار شہید ہوئے۔ بدھ کو وزیر اعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں آرمی چیف جنرل قمرباجوہ، ڈی جی کاونٹر ٹیررازم،وززیر داخلہ چودھری نثار، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، قومی سلامتی کے مشیرناصر جنجوعہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک کی سیکورٹی صورتحال پر غور کیا گیا۔ لاہور،کوئٹہ، پشاور اور مہمند ایجنسی میں دہشت گرد حملوں کی مذمت بھی کی گئی۔سیاسی اور عسکری قیادت نے طے کیا گیا کہ دہشت گردی کو دوبارہ پنپنے نہیں دیا جائے گا۔ اب پھر لال شہباز قلندر کے مزار پر خود کش حملہ ہو گیا۔ صدر اوروزیر اعظم نے سیون شریف لال شہباز خود حملہ کی شدید مذمت کی ہے۔چیف آف آرمی جنرل قمر باجوہ نے قوم کو تسلی دی کہ اب کسی سے رعایت نہیں برتی جائے گی خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا دہشت گردوں کو ختم کر کے دم لیں گے۔ اسلام آباد میں افغانستان کے سفیر کو جنرل ہیڈ کواٹر میں بلا کر افغانستان میں۷۴؍ دہشت گرد جگہوں کی فہرست حوالے کی گئی ہے اورکہا گیا ہے کہ ان کو ختم کریں یا انہیں گرفتار کر کے پاکستان کے حوالے کریں۔ صاحبو! یہ ساری باتیں صحیح ہی سی مگر اصل بات پر توجہ نہیں دی جارہی۔ بھارت نے پاکستان کو ختم کرنے کی قسم کھائی ہوئی ہے ۔ بھارت کا دہشت

۲
گرد وزیر اعظم دنیا میں ہونے والے کسی بھی پروگرام کے اندر پاکستان کو دہشت گرد ثابت کرنے کی ایڑی چوٹی کا زور لگاتا رہتا ہے۔ اس کا اتحادی اور ہمارا دوست نما دشمن امریکا ہر روز ہمیں دھمکیاں دیتا رہتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گرد ی کی نرسیاں ہے جسے پاکستان کو ختم کرنا چاہیے۔ پاکستان فوج نے امریکا کے کہنے پر فاٹا میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کیا۔ امریکا اورساری دنیا نے اس آپریشن کی تعریف کی ہے۔پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے وہ کیسے پڑوسی ملکوں میں دہشت گردی کروا سکتا ہے۔ اس کے باوجود بھارت اور اس کا اتحادی امریکا پاکستان کو ہی دہشت گردی کی نرسی قرار دیتا ہے۔ بھارت میں درجنوں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں بھارت ان کو دبانے کے لیے ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔یہ علیحدگی کی تنظیمیں تنگ آ کر بھارت میں کہیں بھی دہشت گردی کی کاروائی کرتیں ہیں تو بغیر ثبوت کے اس دہشت گردی کا الزام فوراً پاکستان کے سر دھر دیا جاتاہے۔بھارت میں پاکستان سے کوئی کبوتر بھی اُر کر جاتاتو اسے پکڑ کر جاسوس قرار دے دیا جاتا۔ جبکہ ہمارے سیکورٹی کے اداروں نے کلبھوشن یادیو حاضر نیوی سروس آفیسر کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا ۔ وہ ویڈیو اعترافی بیان میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات اور بھارت کے مقامی ایجنٹوں کو فنڈ دینے کی تصدیق بھی کرتا ہے۔پاکستان میں سفارت کاروں کے روپ میں بھارت کے لوگ جاسوسی کرتے رہے جنہیں اسلام آباد سے نکالا بھی گیا۔ پھر بھی ہمارے وزیر اعظم کا منہ بند ہے وہ بھارت کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولتے صرف دوستی اور آلو پیاز کی تجارت کی بات کرتے ہیں۔ہمارے وزیر اعظم صاحب کو نہ جانے کیا ہو گیا ہے۔وہ ہر وقت اپنی فوج کو پنجاب پولیس کی طرح زیر دست لانے کی تدبیریں کرتے رہتے ہیں۔ فوج کے خلاف بولنے والوں کو کھلی چھٹی دی ہوئی ہے جب فوج اس پر گرفت کرتی ہے تو کبھی ایک وزیر اور کبھی دوسرے وزیر کو سزا دے کر فارغ کرتے ہیں۔ فوج کے خلاف ڈان لیکس کی تحقیق کے لیے ایک ہفتہ لیا گیا تھا اب جبکہ کئی مہینے گزر گئے ہیں تحقیق عوام کے سامنے نہیں لائی گئی۔ بلا گرز جو کھلم کھلا اللہ اور رسولؐ کی شان میں گستاخی اور توہین کرتے رہے۔پھرخود ہی روپوش ہو جاتے ہیں او ر خود ہی واپس آ جاتے ہیں اور الزام آئی ایس آئی پر لگاتے رہے۔ ان کی روپوشی پر ملک میں نام نہاد ہیومن رائٹس کی تنظیمیں ،بیرونی فنڈڈ این جی اوز اور موم بتی مافیا فوج کے خلاف نعرے لگاتے ہیں۔’’ کل بھی فوج قاتل تھی اب بھی فوج قاتل ہے‘‘۔ مگر حکومت کی طرف سے اپنی فوج کا تحفظ نہیں کیا جاتا اور نہ ہی ان بلاگرزکے خلاف کوئی بھی قانونی کاروائی کی گئی۔جس نجی ٹی وی نے ان بلاگرزکے خلاف مہم چلائی اس کا پروگرام بند کر دیا گیااور نجی ٹی کو نوٹس بھی دیا گیا۔ بھارت پاکستان کے خلاف جارحانہ رویہ اپنایا ہوا ہے اور ہماری وزیر اعظم نے معذرتانہ رویہ اختیار کیا ہوا ہے۔وزیر اعظم صاحب،بھارت نے دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے آپ کب منہ کھولیں گے؟ وزیر اعظم صاحب خدا کے لیے اب تواپنامنہ کھولیں۔