دربار لعل شہباز قلندر پر خون کی ہولی ( صابر مغل ۔۔۔۔۔ اوکاڑہ)

جمعرات کی شام.10 7بجے کراچی سے نیشنل ہائی وے 55۔Nکے راستے284جبکہ حید ر آباد سے تقریباً130کلومیٹر دور شمال مغرب کی جانب ضلع جامشورکے شہر سہون شریف جو صوبہ سندھ کا قدیم ترین شہر اور دریائے سندھ کنارے آباد ہے وہاں دنیا کے عظیم ترین صوفی قلندر لعل شہباز قلندر کے مزار پاک پر بر بریت کی وہ تاریخ رقم کی گئی جس سے خاندان کے خاندان درندگی کی بھینٹ چڑھ گئے،جمعرات ہونے کے باعث معمول سے زیادہ رش تھا ،یہ مزار پاک ہے جہاں دنیا بھر سے عقیدت مند سارا سال حاضری کے لئے حاضر ہوتے رہتے ہیں،یہاں ایسا کچھ ہوا جہاں انسانیت حیوانیت سے بھی بد تر درندگی کو شرما دیتی ہے،نماز مغرب کے بعد حسب معمول دھمال جاری تھے کہ گولڈن گیٹ (یہ وہ دروازہ ہے جسے ایران کے شہنشاہ رضا شاہ دربار عالیہ کے لئے تحفہ دیاتھااس سونے سے بنے اس دروازے کو ذوالفقار علی بھٹو نے نصب کرایا تھا) سے خود کش بمبار دربار کے احاطہ میں داخل ہو گیا اور عام زائرین کے درمیان پہنچ کر خود کو اڑالیا جس پر ایک کہرام مچ گیا ہر طرف انسانی اعضاء بکھرے نظر آئے ،آہ بکاکے رقت آمیز اور دل ہلا دینے والے مناظر سے قیامت کا منظر نظر آنے لگا،ہر طرف آ ہ و بکا ،ہر طرف بارود کی بو،ہر کوئی غم زدہ،ایک معمر خاتون اپنے بچوں اور میاؤں کو ڈھونٹتی رہی کئی اپنے معصوم بچوں کی تلاش میں دہائی دیتے رہے ،زخموں سے چورافراد مدد کے لئے دہائی دیتے رہے ،ایک عینی شاہد غلام قادر کے مطابق وہ درگاہ کے سنہری گیٹ کے پاس دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا کہ اس دوران زوردار دھماکہ ہو گیاتو دیکھادرگاہ کے احاطے میں قیامت کا منظر تھا ہر طرف انسانی اعضاء بکھرے ہوئے تھے ،افراتفری کا عالم تھااس نے بتایا کہ اس نے ایسی تباہی زندگی میں پہلی بار دیکھی،اس قیامت خیز سانحہ کی اطلاع ملنے پر بے بس اور لاچار زخموں سے چور افراد کو منتقلی کا سلسلہ شروع ہوا تو ایک لاکھ کی آبادی کے اس عالمی شہرت یافتہ شہر میں صحت کی سہولتیں یکسر نہ تھیں سہون شریف کا ضلعی ہیڈ کوارٹر جام شورو بھی یہاں سے 100کلومیٹر دور تھا جہاں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں پہلے صرف ایک ڈاکٹر تھا بعد میں مزید تین ڈاکٹر پہنچ کرزخمیوں کو طبی امداد دینے میں مصروف ہو گئے،صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار کے احاطے میں ہونے والی اس بر بریت میں 76افرادجن میں 2سے 10سال عمرکے 20بچے،9خواتین،ایک مقامی سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہے شہید ہوئے، جبکہ250سے زائد زخمی ہوئے جن میں سے100کو طبی امداد کے بعد فارغ کر دیاگیا ،بتایا جاتا ہے کہ 40افراد کی حالت انتہائی نازک ہے،70لاشیں سول ہسپتال سہون شریف اور باقی کو نواب شاہ منتقل کیا گیا،سات زخمیوں کو C.130میں کراچی پہنچایا گیا اس امدادی آپریشن میں60ایدھی ایمبولینسوں کے علاوہ سرکاری ایمبولنسیں اور دو آرمی ہیلی کاپٹرز نے بھی حصہ لیا،سہیون شریف وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کاآبائی اور انتخابی علاقہ بھی ہے جہاں ہر سال لاکھوں افراد حاضری دینے آتے ہیں مگر حکومتی بے بسی ،لاپرواہی اور غفلت کا شاخسانہ ہے،سیکیورٹی کا نظام کسی مذاق سے کم نہیں یہاں لگائے گئے دو واک تھرو گیٹ عرصہ دراز سے ناکارہ ہیں، رات گئے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وزیر صحت سکندرعلی میندھرو بھی ان کے ساتھ تھے وزیر اعلیٰ کا فرمانا تھا کہ اگر سیکیورٹی لیپس ہوئے تو ذمہ داران کے خلا ف سخت کاروؤائی کی جائے گی ،یہ عجب مخلوق ہمہ وقت عوام کو بیوقوف بنانے پر تلی نظر آتی ہے ،سیکیورٹی لیپس تھے تو اس کا ذمہ دار جناب پیر سائیں نہیں تھے؟ذرہ کوئی یہ بھی بتائے عوام کس کی جانب دیکھے ،ریاست کدھر ہے ؟جو بڑھکیں لگاتے ہیں،نوٹس لینے کا اعلان کرتے ہیں،رپورٹ طلب کرتے ہیں،ٹسوے بہاتے ہیں مگر عملاً کیا کرتے ہیں؟شہلا رضا جو سندھ اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر ہیں کہتی ہیں ایسے موقعوں پر سیکیورٹی لیپس ہوجاتے ہیں ،یہ ہے ہمارے پارلیمانی لیڈران کی سوچ ،،اس وقت ملک بھر میں 26ایجنسیاں کام کر رہی ہیں،کراچی میں تمام نیول ہسپتالوں میں بھی ایمر جنسی نافذ کر دی گئی،پاک فوج اور رینجرز کی طبی ٹیمیں جائے موقع پر پہنچ گئیں،سابق صدر آصف علی زرداری نے وزیر اعلیٰ سے پوچھا ہے دہشت گردی کا یہ وقعہ کیوں ہوا؟آصف علی زرداری بھی یہاں اکثر آتے ہیں مگر ایسی اشرافیہ کے آنے پر تو کرفیو نافذ ہو جاتا ہے،غریب عوام کے راستے مسدود کر دئیے جاتے ہیں۔وزیر اعظم میاں نواز شریف کہتے ہیں کہ دہشت گردی کا یہ حملہ پاکستان پرحملہ ہے ،حضور ایسے حملے تو گذشتہ پانچ دن میں آٹھ ہو چکے ہیں جن میں 125افراد سے زائد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں،آرمی چیف کا یہ بیا ن حوصلہ افزاء ہے کہ شہداء کے ایک ایک قطرے خون کا حساب لیا جائے گاان کے مطابق دہشت گرد ایک بار پھر افغانستان میں منظم ہو رہے ہیں اور وہاں سے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ،پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر نے ایک نیا چیلنج پیدا کر دیا ہے ،محض پانچ دن میں دہشت گردی کے بدترین آٹھ واقعات کے باوجود ہمارے سیاسی قائدین میں سے کئی ایک ایسے عناصر کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں ،فوجی عدالتوں کو ہی لے لیں ابھی تک ان پر بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو مل رہیں ہیں ،دوسری جانب اگر دیکھا جائے تو موجودہ حکومت نے ملٹری کورٹس کے فیصلوں پر کس حد تک عمل درآمد کیا؟۔نیشنل ایکشن پلان پر کیا کیا عمل ہوا؟نیکٹا کدھر گیا؟حقیقت یہی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد پر فقدان واضح ترین نظر آ رہا ہے ،ان باتوں کا جواب اس ملک کی لہولہان عوام کو کون دے گا؟ امریکہ کے مطابق اس علاقہ میں 20شدت پسند گروپ آج کل سر گرم عمل ہیں لیکن اس لڑائی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان،مہمند ایجنسی سے آغاز پانے والی جماعت الحرار پیش پیش ہیں،جماعت الحراراگست2014میں تحریک طلابان سے الگ ہوئی اسی جماعت نے داعش کی بیعت کی،مارچ2015میں اس جماعت نے دوبارہ سے تحریک طالبان میں شرکت کر لی،پاکستان میں آپریشن ۔ضرب عضب۔کے بعد سیکیورٹی فورسز کی جانب سے شروع ہونے والی کاروائیوں کی وجہ سے دہشت گرد تنظیمیں کمزور ہو گئی تھیں مگر اب ماہرین کے مطابق تحریک طالبان میں ایک محسود گروپ کی واپسی اور جماعت الحرار کی جانب سے غازی نامی کاروائیوں کے آغازکا اعلان بہت تشویشناک ہے ان دونوں تنظیموں کی قیادت افغاستان میں روپوش ہے،درگاہ لعل شہباز قلندر میں دہشت گردی کے فوری بعد پاک افغان سرحد کے راستوں کوقسم کی نقل و حمل کے مکمل طور پر بند کر دیا،جبکہ جنرل ہیڈ کوارٹر ) (GHQمیں افغان سفارت خانے کے حکام کی طلبی کے بعدافغانستان میں دہشت گردوں کی74پنا ہ گاہوں کی فہرست دیتے ہوئے واضح کیا کہ ان کے خلاف کاروائی کی جائے یا انہیں ہمارے حوالے کیا جائے۔ہماری وزارت داخلہ کہتی ہے ہم نے سیکیورٹی Threatsجاری کر دئیے تھے ،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے بعد کی کاروائی کس کی ذمہ داری ہے ؟گذشتہ سال نومبر میں بلوچستان کے علاقہ خضدار میں درگاہ نورانی میں بھی ایک زوردار دھماکہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں 52افراد شہید ہوئے جبکہ 100سے زائد زخمی مگر آج تک اس بارے مکمل خاموشی ہے اور ملک بھر میں موجود دربار سیکیورٹی سے محروم نظر آتے ہیں ۔حضرت لعل شہباز قلندر جو افغانستان کے ایک درویش سید کبیر الدین ؒ کے بیٹے تھے آپ کے لقب کی وجہ یہ تھی کہ آپ کے چہرہ انور پر ہر وقت لال رنگ کے قیمتی پتھر ۔لعل۔کی مانند سرخ کرنیں پھوٹتی رہتی تھیں ،آپ نے اسلامی دنیا کے لاتعداد سفر کئے یہی وجہ تھی کہ انہوں نے فارسی ،ترکی،عربی،سندھی اور سنسکرت پر مکمل عبور حاصل کیا ،آپ روحانیت کے اعلیٰ ترین درجہ پر فائز تھے ،آپ ہمیشہ سرخ لباس پہنتے،آپ کا اصل نام سید عثمان مروندی تھا وہ ایک وقت میں صوفی بزرگ،شاعر،فلسفی اور قلندر تھے ،ان کا تعلق صوفی سلسہ سہروردیہ سے تھا،آپ کی ولادت 538ہجری آذربائیجان کے علاقے مروند میں ہوئی اور 13واسطوں سے ان کا تعلق امام جعفر صادق تک جا پہنچتا ہے، دہشت گردی کی حالیہ وارتیں بلا شبہ کی تمام تر کڑیاں افغانستان اور ہندوستان سے جا ملتی ہیں اس کے لئے ہمارے بلا تفریق اقدامات کرنا ہو ں گے،ہمارے حکمران بہت بڑے حصاروں میں بس کچھ درست کرنے کے دعوے کرتے ہیں مگر انہیں عوام سے کوئی دلچسپی نہیں ،جب بھی کوئی سانحہ ہوتا ہے ایک دم ان کی ہمدردیاں جاگ اٹھتی ہیں ،بد قسمتی تو یہی ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے خود کو بنکروں میں بند کرے کے عوام کو کھلے عام درندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے۔