رنگ لائے گا شہدائے وطن کا لہو۔۔۔!،،،،تحریر: رانا اعجاز حسین

دہشت گردی کی حالیہ لہر نے ملکی فضاء کو سوگوار کردیا ہے ، گزشتہ پانچ دنوں میں پے در پے سات دھماکوں میں سینکڑوں قیمتی جانوں کے ضیاع پر ہر آنکھ اشکبار ، ہر دل مغموم ہے ۔ پاکستانی قوم کوئٹہ، پشاور ، مہمند اور لاہور دھماکوں کے صدموں سے ہی نہ نکل پائی تھی کہ سیہون شریف میں درگاہ حضرت لعل شہباز قلندر پر خودکش حملے میں درجنوں بے گناہوں کو شہید کرکے دہشت گردی کی مذموم کاروائی کو فرقہ واریت کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ پاکستان میں دہشت گردی کی موجودہ لہر کے بارے میں حساس اداروں کی تحقیقات کے مطابق بھارت کے زیر سرپرستی افغانستان، شام، عراق سے تربیت یافتہ دہشت گردوں اور ملکی کالعدم تنظیموں کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ، چائنہ کے صوبہ ایغور سنکیانگ کے علیحدگی پسند جنہوں نے شام اور عراق سے تربیت حاصل کررکھی ہے، کالعدم تنظیم کا مبشر گروپ جبکہ بلوچستان لبریشن آرمی سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے لئے دہشت گردی کے کھناؤنے منصوبے میں شامل ہیں۔ان دہشت گرد گروپوں نے پاکستان میں امن و امان کی صورتحال کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لئے ملک میں خودکش حملوں، فائرنگ، دھماکہ خیز مواد نصب گاڑیوں کے ذریعے دہشت گردی کی کارروائیوں سے اہم عمارتوں، ہسپتالوں،مساجد، سکولوں سمیت آسان اہداف کو نشانہ بنانے کی سازش تیار کررکھی ہے۔ اس صورتحال میں اعلیٰ سول و فوجی حکام، سکیورٹی ادارے اورنیشنل کاؤنٹر ٹیررزم اتھارٹی دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لئے مصروف عمل ہیں۔ جس پر گزشتہ دنوں علیٰ سطحی اجلاس میں سول اور عسکری قیادت کی جانب سے دہشت گردوں کیخلاف بھرپور طاقت کے استعمال کا فیصلہ کیا گیا ہے ، اور اس فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے زمینی اور فضائی آپریشن کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف علاقوں میں کومبنگ آپریشن کا آغاز کردیا گیا ہے جس میں گرفتار ہونیوالے افراد کی مدد سے دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے ساتھ ساتھ انکے سرپرستوں، سہولت کاروں اور معاونین کی بھی نشاندہی ہورہی ہے۔ اگر سول اور عسکری اداروں اور قوم کی ہم آہنگی کے ساتھ اسی جذبے اور مربوط حکمت عملی کے تحت ملک کے تمام متعلقہ علاقوں میں بلاامتیاز اور بے رحم آپریشن جاری رہا تو ملک اور قوم کو دہشت گردی کے ناسور سے مکمل اور مستقل نجات دلانے کیلئے اب زیادہ عرصہ درکار نہیں ہوگا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے افغانستان میں دہشت گرد محفوظ پناہ گاہوں میں دوبارہ منظم ہونے اور ہمارے معاشرے میں مایوسی اور بے یقینی پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں، دشمن کے ناپاک عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ دہشت گردی کے واقعات سے دہشت گردی کیخلاف قوم کے عزم و حوصلہ اور انسداد دہشت گردی کیلئے ہماری کوششوں کو کم نہیں کیا جا سکتا بلکہ ہر رنگ و نسل کے دہشت گردوں، ماسٹر مائنڈز، سرپرستوں، مالی معاونین، منصوبہ سازوں اور انکے غیرملکی مددگاروں سمیت سب کو ملک بھر میں چھپنے نہیں دیا جائیگا اور انہیں ملک بھر میں تلاش کرکے عبرت کا نشان بنایا جائیگا۔
جب سے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا آغاز ہوا ہے یہ منصوبہ پاکستان کی ترقی کے دشمنوں کی آنکھ کا شہتیر بنا ہوا ہے ،اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی اور مذموم خودکش حملوں کیلئے سرگرم عمل دہشت گردوں کو بھارت کی سرپرستی حاصل ہے جس نے اپنی ایجنسی ’’را‘‘ کے ذریعے بلوچستان اور دوسرے علاقوں میں اپنا نیٹ ورک پھیلا رکھا ہے اور اس نیٹ ورک کے ذریعہ ہی دہشت گردوں کی تربیت کی جاتی ہے اور انہیں اسلحہ اور فنڈز فراہم کرکے پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کیلئے بھجوایا جاتا ہے۔ بھارت کی جانب سے ان دہشت گردوں کو افغانستان کی سرزمین پر تربیت دی جاتی ہے جس کیلئے بھارت نے کابل انتظامیہ کی ملی بھگت سے افغانستان کے کئی غیرمعروف شہروں میں اپنے قونصل خانے قائم کر رکھے ہیں جو درحقیقت پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کی سازشوں کے بھارتی مراکز ہیں۔ انتہاء پسند بھارت کی ہمیشہ سے یہی کوشش رہی ہے کہ پاکستان کبھی ترقی نہ کرپائے، اور پاکستان میں جاری سی پیک سمیت ترقیاتی منصوبے پائیہ تکمیل کو نہ پہنچ سکیں۔ اگرچہ باصلاحیت اور مشاق افواج پاکستان نے ملکی سلامتی کیخلاف تمام بھارتی سازشیں ناکام بنائی ہیں اور بھارتی افواج کو ہر محاذ پر منہ توڑ جواب دیا ہے ،اس پر سرجیکل اسٹرائیک کا دعویٰ کرنے والا بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ شرپسند عناصریہ بات ذہن نشین کرلیں کہ بزدلانہ عمل سے وہ پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن ہونے سے نہیں روک سکتے۔ ملکی ترقی اور دشمن سے مقابلے کے لئے حکومت،سیکورٹی اداروں اور عوام پاکستان کے حوصلے بلند ہیں، پاکستان میں اقتصادی ترقی کا خواب ضرور پورا ہو کر رہے گا۔ قوم دہشت گردوں کیخلاف بھرپور ریاستی قوت استعمال کرنے سے متعلق سول اور عسکری قیادتوں کے فیصلہ کی مکمل تائید کرتی ہے ۔ پاکستانی سیکورٹی فورسز ملک دشمن عناصر کی ہر سازش کو ناکام بنانے، اور ملک میں امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کیلئے پوری قوت سے اپنا کردار ادا کریں، اور آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کرتے ہوئے شہریوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنائیں۔
*۔۔۔*۔۔۔*