پولیس چوکی دو کمروں کا چھت گر گیا

ْْْْْٓپنڈدادن خان (آصف حیات مرزا،عابد قریشی)پولیس چوکی دو کمروں کا چھت گر گیا بلڈنگ کسی وقت بھی پولیس ملازمین اور عوام کی جان کے لیے خطرہ بن سکتی ہیپنڈدادن خان پولیس چوکی پنڈدادن خان کی بلڈنگ خستہ حال ہونے کی وجہ سے کسی وقت بھی جانی نقصاں کا باعث بن سکتی ہے 1857میں انگریز دور حکومت کے وقت پتھروں سے تیار کی گئی یہ خوبصورت بلڈنگ کاریگروں کی مہارت کا بہترین نمونہ ہے عدم توجہی کی وجہ سے یہ عمارت گرنے کے قریب ہے دیواروں سے پتھر گر رہے ہیں چھت جگہ جگہ سے ٹوٹ چکی ہے اور کسی وقت بھی گر کر پولیس ملازمین اور عوام کی جان کے لیے خطرہ بن سکتی ہے برٹش حکومت نے1857میں پنڈدادن خان پولیس اسٹیشن قائم کرنے کے لیے پتھروں سے تراشی ہوئی خوبصورت بلڈنگ تیار کی جو فن مہارت کی اپنی ایک مثال ہے پاکستان بنے کے بعد بھی اس بلڈنگ میں پولیس تھانہ ہی رہا محکمہ پولیس اس تاریخی اس تاریخی عمارت کو استعمال تو کرتا رہا لیکن اس میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کو مرمت کروانا گوارہ نہ کیا جو بڑھتے بڑھتے آج بلڈنگ کے گرنے کا سبب بن گئی اور جو گر کر کسی وقت بھی عمارت میں موجود پولیس عملہ اور مسائل لے کر آہے ہوئے عوام کی جانوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے اہل علاقہ نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پنجاب اور محکمہ پولیس ہنگامی بنیادوں پر اس تاریخی ورثہ کو بچانے اور کسی وقت بھی کوئی بڑا حادثہ رونما ہونے سے پہلے اس کی مرمت کروا ئی جائے