اب اسمارٹ فون کی اسکرین سولر چارجر کا کام بھی کرے گی

الینوئے: امریکی اور کوریائی ماہرین کی مشترکہ تحقیقی ٹیم نے ایسی ایل ای ڈی ایجاد کرلی ہے جو نہ صرف روشنی کو خارج اور محسوس کرسکتی ہے بلکہ کسی سولر سیل کی طرح روشنی کی مدد سے بجلی بھی بناسکتی ہے۔
یونیورسٹی آف الینوئے اربانا شیمپین کے کوریائی نژاد تحقیق کار کی قیادت میں ایجاد کی گئی یہ ایل ای ڈی فی الحال صرف ایک ہی رنگ کی روشنی خارج اور جذب کرسکتی ہے تاہم ماہرین کی یہ ٹیم اگلے مرحلے پر اسے زیادہ رنگوں کے ساتھ کام کرنے کے قابل بنانے کی تیاریوں میں مصروف ہے تاکہ یہ مستقبل کی اسمارٹ فون اسکرین میں رنگین پکسل کا کام بھی کرسکے۔ اس ایجاد کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’سائنس‘‘ کے حالیہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔
یہ صحیح معنوں میں پہلی اور کامیاب ’’کثیرالمقاصد ایل ای ڈی‘‘ بھی قرار دی جاسکتی ہے کیونکہ اس نوعیت کی سابقہ کوششیں ناکام رہی ہیں۔ اس نئی ایل ای ڈی میں نینومیٹر جسامت والی خصوصی ساختیں استعمال کی گئی ہیں جنہیں ’’کوانٹم نینو راڈز‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان ساختوں پر مشتمل مادّہ کوانٹم اثرات سے استفادہ کرتے ہوئے روشنی کو محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اوپر پڑنے والی روشنی کو بجلی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے اور جب اس میں سے بجلی گزاری جاتی ہے تو یہ روشنی خارج کرنے لگتا ہے۔
امید ہے کہ اس ایل ای ڈی کی بدولت مستقبل میں ایسے اسمارٹ فونز تیار کیے جاسکیں گے جنہیں ارد گرد نظر رکھنے کے لیے کسی کیمرے کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ یہ کام ان کی اسکرین خود ہی کرلے گی۔ علاوہ ازیں انہیں ہدایت دینے کے لیے اسکرین پر صرف ہاتھ کا سایہ ڈالنا ہی کافی رہے گا جب کہ ایک دوسرے کے سامنے موجود ایسے 2 اسمارٹ فونز آپس میں رابطے کے لیے بلیو ٹوتھ یا وائی فائی کے محتاج نہیں ہوں گے بلکہ وہ روشنی کے باہمی تبادلے ’’لائی فائی‘‘ (Li-fi) سے آپس میں مربوط کیے جاسکیں گے۔
سب سے بڑھ کر، چارجنگ موڈ میں یہی ایل ای ڈی اسکرین اس قابل ہوگی کہ روشنی کو بجلی میں تبدیل کرسکے اور یوں چارجر کی ضرورت بھی تقریباً ختم ہوجائے گی۔