انسانی اعضاء کی بے حرمتی اور خورشید شاہ کی منطق ( پہلو ۔۔۔۔ ۔ صابر مغل )

جمعرات کی شام سندھ کے ضلع جامشورو کی تحصیل سہون شریف میں دربار عالیہ لعل شہباز قلندر جھولے لعل ؒ کو خون میں نہلا دیا گیا،جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب دربار کے احاطہ میں رہ جا نے وؤالے انسانی اعضاء کو آدھ کلومیٹر دور گندے پانی کے نالے کے کنارے پھینک دیا گیا جنہیں آوارہ جانور اور پرندے نوچ رہے تھے اس بے حرمتی کومقامی بچوں اور بڑوں نے دیکھا اپنی مدد آپ کے تحت ان کی تدفین کی ،میڈیا پر یہ خبر آنے پر حکومت کو کچھ ہوش آیا مگر حکومتی ایوانوں سے تعلق رکھنے والے بعض ۔شرفا۔ اسے بھی سازش کہتے رہے،قومی اپوزیشن لیڈر سید خوشید شاہ تو بہت دور کی کوڑی لائے اور کہا ۔انسانی اعضاء کو کسی نے گندے نالے یا گندگی کے ڈھیر پر نہیں پھینکا بلکہ یہ تو دھماکے کی شدت سے اڑ کر دور جا گرے ۔خورشید شاہ نے بالکل اسی نوعیت کا بیان دیا جس طرح وہ اپنے قومی عہدے سے انصاف کر رہے ہیں ،اصل میں جن لوگوں کی باگ دوڑ کسی اور کے ہاتھوں میں ہو ان سے ایسے ہی بیانات یا کردار کی توقع کی جا سکتی ہے،گندگی کے ڈھیر سے انسانی اعضاء کے ملنے کے بعد ہر انسان کی آنکھ اشکبار ہو گئی ،خورشید شاہ میں شاید ایسی انسانی ۔حس۔ ہی مردہ ہو چکی ہے ،پاکستان بھر یہ وہ واحد شخص بلکہ لیڈؤر اور وہ بھی پاکستان کے اہم ترین عہدے پر فائز جس نے ایسا گھٹیا بیان دیاہو ،حالانکہ اس وقت الیکٹرانک میڈیا پر بات کرنے والوں کو الفاظ ہی نہیں مل رہے تھے،فنکشنل مسلم لیگ اور سندھ اسمبلی کی ممبر نصرت سحر عباسی أ س ضوع پر بات کرتے ہوئے رو پڑیں،انسانیت شرمسار ہو گئی مگرخورشید شاہ کو شرم نہ آئی ،یہ وہی کردار ہیں جن کی وجہ سے ملک میں نیشنل ایکشن پلان نو ایکشن پلان بلکہ ری ایکشن پلان کی صورت اختیار کر چکا ہے ،دہشت گردی کا عفریت ایک بار پھر پھن پھیلا کر سامنے آ گیا ہے حکومت کی جانب سے قومی سطح پر جو نالائقیاں ہوتیں ہیں اپوزیشن لیڈربھی ان کا اتنا ہی ذمہ دار ہوتا ہے،سماجی شخصیت صارم برنی کے مطابق شاید ہمارے لیڈروں نے مرنا ہی نہیں ان کے مطابق شہید ہونے والوں کی تعداد 88نہیں بلکہ بہت زیادہ ہے حکومت ان اموات کو چھپا رہی ہے انسانی اعضاء کا گندگی کے ڈھیر سے ملنا بھی اسی بات کی کڑی ہے ،سندھ میں خورشید شاہ کی پارٹی ہی کی حکومت ہے جہاں پاکستان بھرمیں سب زیادہ پسماندگی اچھل اچھل کر اپنی موجودگی کا احساس دلا تی رہتی ہے ۔نالائقی اور بے غیرتی کی انتہا دیکھیں زندگی میں تحفظ اور موت کے بعدکفن سے محروم شہداء کے ساتھ کیا ہوا؟مطلب جان تو چلی گئی مگر امتحان ختم نہ ہوا ،مر کر بھی چین نہ پانے والے شہداء کی باقیات کو گندگی کے ڈھیر پر پھینکنے کا فیصلہ کس نے کیا ابھی کچھ واضح نہیں ہو سکااس قبیح حرکت کے ذمہ دار کبھی کیفر کردار کو نہیں پہنچے گے،ہم بحیثیت قوم کس حد تک بے حس ہو چکے ہیں،یہ سب حادثاتی طور پر نہیں ہوا بلکہ بیڈ گورنس کی بد ترین اور گھٹیا ترین مثال ہے در اصل ہماری گورنس کا ہی بریک ڈاؤن جبکہ ہمارا نظام حکومت مفلوج ہو چکا ہے ،ڈی سی جام شورو منور مہیرکا فرمان ہے کہ انسانی اعضاء کی باقیات کو انہوں نے دفن کرادیا تھااگر کسی نے کوتاہی کی ہے تو اسے نہیں چھوڑا جائے گا، اس شرمناک صورتحال کے سامنے آنے پر بھی ۔اگر مگر ۔کی گردان سیاستدانوں اور سرکاری افسران کی زبان پر ہے ،حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ڈی سی جام شورو کا یہ بیان ہی حقائق کے بر عکس ہے ۔کسی بھی سانحہ ،حادثہ یا قتل و غارت کے بعد انسانی نعش یا اعضا ء قانونی طور پر پولیس کی مرضی اور نگرانی کے بغیر اٹھائے جا سکتے ہی نہیں،اگر کچھ اعضاء بچ گئے ؤتو انہیں ہسپتال پہنچایا جانا چاہئے تھا نہ کہ نا اہل ڈ ی سی کے حکم پر دفنا دینا چاہئے تھا،انسانی اعضاء کی بے حرمتی کرنے والے دھماکہ کرنے والوں سے بھی زیادہ قابل نفرت ہیں،سخی شہباز قلندر ؒ کے مزار پاک پر ہر سال لاکھوں زائرین حاضری دینے آتے ہیں ،محکمہ اوقاف سندھ کو یہاں سے سالانہ اربوں روپے حاصل ہوتے ہیں مگر یہاں زائرین کی سہولیات اور ان کی حفاظت ؤکویقینی بنانے کے لئے کیا کیا اقدامات کئے گئے؟ذرایہ تو عوام کو بتایا جائے،اس سے قبل حضرت داتا گنج بخش ؒ ،عبداللہ شاہ غازی اور شاہ نورانی درگاہ پر بھی دہشت گردی کے واقعات ہو چکے ہیں مگر پاکستان کی اس اہم ترین درگاہ پر حفاظتی انتظامات کی جانب ذرہ بھر توجہ نہ دی گئی ،صرف پولیس اہلکار ،صحت کی سہولیات کافقدان،سہون شریف میں غیر رجسٹرڈ گیسٹ ہاؤسز جو قائم بھی محلوں میں ہیں ان کی جانب انتظامیہ کی توجہ ہی نہیں ہے کہ وہاں کون ٹھہرا،کون آیا کون گیا؟ سندھ حکومت نے ایس پی جام شور وطارق ولایت کو تبدیل کیا ہے ،کیا کسی ٓفیسر کی تبدیلی ہی اس کی نا اہلی کی سزا ہے ؟ہمارے حکمرانوں نے د ہشت گردوں کی سوچ کو ختم کرنے کے لئے کچھ نہیں کیا،دھماکوں کی وارننگ کے باوجودبم دھماکے نہیں رک سکے،سوہنی دھرتی لہو لہو ہے ،پاکستانی عوام پر خوف کے گہرے سائے امڈآئے ہیں،اب مذمت کی نہیں بلکہ مرمت کی ضرورت ہے ہمیں ذاتی اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کو یقینی بناناؤ ہو گا دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ ترین اقدامات کی ضرورت ہے ،یہاں عالم یہ ہے کہ ملک بھر میں نیشنل ایکشن پلان کی آڑ میں ضلعی پولیس افسران نے عام شہریوں اور معمولی جرائم میں ملوث افراد کو یا تو دہشت گردی کے مقدمات میں ۔رگڑ۔دیا یا اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے انہیں ۔پار۔کر دیا گیا،جتنے مقدمات اور وہ بھی دہشت گردی کے نیشنل ایکشن پلان کی آڑ میں صحافیوں کے خلاف قائم کئے گئے ہیں ان کی ماضی میں ایک مثال نہیں ملتی ،پاکستان میں دہشت گردی کرانے والا موذی افغانستان میں رہائش پذیر ہے اوراسے امریکہ کی مکمل آشیر باد حاصل ہے انڈیا ہم پر اثر بڑھا رہا ہے اور ہمارا کم ہو رہا ہے،سارک ،کرکٹ ،تجارت سب اسی کی مرضی سے،مگر ہم پھر بھی اس کے خلاف سب کچھ صرف دباؤ کے تحت کرتے ہیں،افغانستان سے ہی نکلنے والے ہم پر قہر بن کر ٹوٹ پڑتے ہیں ،کیا افغانستان میں سب کچھ ہونے والا امریکہ کی مرضی سے ہٹ کر ہونا ممکن ہے؟ پاک فوج نے ۔آپریشن ضرب عضب۔کے ذریعے دہشت گردوں کی کمر توڑنے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا بعد میں خاموشی کیوں ہو گئی اب دربار لعل شہباز قلندر پر ہونے والی بر بریت کے بعد ایک دم سرچ آپریشن،سینکڑوں دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنا،ہزاروں کی پکڑ دھکڑ عروج پر پہنچ گئی ہونا بھی یہی چاہئے مگر یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ پہلے ممکن نہیں تھا؟اس میں رکاوٹ کون سی قوت تھی؟یہ بھی سوال عوام کے ذہنوں میں کلبلارہا ہے کہ جب بھی پاکستان میں جمہوری قوتوں پر نازک وقت آتا تب پاکستان پر آفتوں کا نزول شروع ہو جاتا ہے۔۔سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ انسانی اعضاء کی خبر ملنے کے بعد دوسرے روز سہون شریف پہنچے اور کہا گندگی کے ڈھیر پر انسانی اعضاء پھینکنے پر وہ بہت شرمندہ ہیں چلو کسی نے تو یہ مانا کہ شرمندگی کا اظہار بھی کیا جاتا ہے ۔۔