کرایہ داری ایکٹ پر گرفتاری و جرمانہ ختم کرنے پر شہریوں کا ہائی کورٹ کو خراج تحسین،

جہلم ( بیورو رپورٹ ) کرایہ داری ایکٹ پر گرفتاری و جرمانہ ختم کرنے پر شہریوں کا ہائی کورٹ کو خراج تحسین، پولیس کی کمائی اور شہریوں کی خواری کا سلسلہ بند ، تفصیلات کے مطابق پنجاب ٹمپریری ریزیڈنس ایکٹ کے تحت پنجاب بھر میں پولیس کرایہ داروں اور مالکان کو رجسٹریشن نہ کروانے کے بہانے تنگ کرنا معمول بنا رکھا تھا اور ضلع جہلم میں ہر روز آدھی رات کے وقت ڈی ایس پیز کی قیادت میں گھروں میں آرام کرتے لوگوں کو بے جا تنگ کرنا اور ان کو رات گئے گرفتار کرکے مقدمات درج کرنے کا سلسلہ جاری تھا ۔ مالکان اور کرایہ داروں کو تھانوں ، کچہریوں میں ذلیل وخوار کرنے اورنذرانہ وصولی پر شہریوں کو شدید تحفظات تھے جس پر ایک شہری نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا جہاں مقدمہ کی سماعت کے دوران جسٹس اسلم جاوید منہاس نے سماعت کرتے ہوئے پولیس کی جانب سے کرایہ داروں کے گھروں پر چھاپوں ، گرفتاری اور جرمانوں کو فوری طور پر غیر قانونی قرار دیتے ہوئے روکنے کا حکم دے دیا ہے۔ جسٹس اسلم جاوید منہاس نے کہا کہ پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود کرایہ داری بار ے معلومات جمع کرئے اور اگر مالک مکان یا کرایہ دار تعاون نہ کرئے تو قانون کے مطابق کاروائی کی جائے براہ راست مقدمات درج کرنا اور مالکان و کرایہ داران کو گرفتار کرنا غیر قانونی فعل ہے اور اس قانون کے تحت آئندہ کسی گھر پر چھاپے مارنے یا مقدمات درج کرنے پر سی پی او ، ایس ایس پی اور ایس ایچ او پر توہین عدالت کا مقدمہ چلے گا۔شہریوں نے معزز عدالت کی جانب سے کرایہ داری ایکٹ ختم کرنے پر انتہائی اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کے غیر قانونی ہتھکنڈوں اور نذرانہ وصولی کو روکنے کیلئے یہ فیصلہ انتہائی کارآمد ثابت ہو گا ۔