( محمدﷺرحمت العالمین)،،،،تحریر: شیخ گوہر وقاص پراچہ، دھریالہ جالپ

کی محمد ﷺ سے وفا ، تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا ، لوح و قلم تیرے ہیں

اللہ تعالیٰ نے اس جہاں میں کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر مبعوث فرمائے۔اللہ تعالیٰ نے جس ہستی کے لیے یہ جہان تخلیق کیا اور انسانوں کا میلا سجایاوہ ہستی کوئی عام نہیں تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کی معبوب ترین ہستی آپﷺ تھے ۔ جس دن آپﷺ دنیا میں تشریف لائے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں اور جنت کی حوروں کو مکہ میں اُتار دیا کہ جاؤ میرے نبیﷺ کا دُنیا میں استقبال کرو۔ اماں آمنہ نے یمن کے محل دیکھے ایک دم ابر آیا اُس نے نبی کریمﷺ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آواز آئی میرے اس بندے کو شمال پھیراؤ جنوب پھیراؤکہ نبیوں کا سردار آ گیا۔ اُس سال اللہ نے ہر ماں کو بیٹا دیا۔آپﷺ کے اعزاز میں دُنیا کے بُت زمین پر جاگرے۔ کسریٰ کے محل میں ایک ہزارسال سے لگی آگ یک دم بُجھ گئی۔ سمندر کی مچھلیوں نے دوسرے سمندر کی مچھلیوں کو خوشخبری دی دو جہان کا سردار آگیا۔ آپﷺکے والد محترم آپﷺ کی پیدائش سے پہلے ہی دُنیا سے پردہ فر ما گئے ۔آپﷺ کی والدہ محترم بھی آپﷺ کی پیدائش کے چھ سال بعد پردہ فرما گئیں۔ آپﷺ کی پرورش آپﷺ کے داداعبدالمطلبؓ اور حلیمہ سعدیہؓ نے کی ۔جب آپﷺ کی عمرآٹھ سال کی ہوئی تو آپﷺ کے دادابھی دُنیا سے رُخصت ہو گئے پھر آپﷺ کی پرورش کی ذمہ داری آپﷺ کے چچاابو طالب نے اُٹھائی ۔آپﷺ کی پیدائش سے قبل پورا عرب جہالت میں ڈوبا ہوا تھا۔جس کے گھر بیٹی پیدا ہوتی اُسے زندہ درگور کر دیا جاتا۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائی شروع ہو جاتی ۔ مثلاََ آپ کے اونٹ نے میرے تالاب سے پانی کیوں پیا؟ تم نے مُجھ سے گھوڑا آگے کیوں بڑھایا؟ وغیرہ وغیرہ۔۔اور یہ لڑائی صدیوں تک جاری رہتی اور عرب کے دریا خون سے لہو لہان ہو جاتے اور لڑائی رُکنے کا نام نہیں لیتی ۔ جہالت کی انتہا اتنی تھی کہ انسانوں کی کھوپڑیوں میں شراب پیتے تھے ۔پورے عرب میں ہر طرف جہالت کا اندھیرا ہی اندھیرا تھا ، کوئی بھی روشنی کی کرن نظر نہیں آتی تھی ۔ جب آپﷺ کا ظہور ہوا تو ہر طرف رنگ و نور کی بہاریں ہو گئیں ۔ صدیوں سے تاریکی میں ڈوبا ہو ا عرب ہر کونے سے جگمگا اُٹھا ۔آپﷺ اللہ کے معبوب ترین پیغمبر تھے۔جب آپﷺ چھوٹے تھے تو آپﷺ کی پرورش حلیمہ سعدیہؓ نے کی ۔حلیمہ سعدیہؓ کی بیٹی ہر روز بکریاں چرانے جنگل جاتی تھی ، ایک دن بیٹی نے کہا کہ یہ کام مجھ سے نہیں ہوتا، بکریاں مجھے بہت تنگ کرتی ہیں ۔ بکریاں چرانے والا کام کسی اور سے کہیں ، ماں نے کہا کہ بیٹی میں بوڑھی ہوں میں یہ کام کیسے کر سکتی ہوں ؟ بیٹی نے کہا کہ آپ میرے ساتھ بھائی محمدﷺ کو بھیج دیا کریں تا کہ میر ی مدد ہو سکے ۔ماں نے حیران ہو کے کہا کہ یہ چھوٹا بچہ تمہاری کیا مدد کر سکے گا؟ بیٹی نے کہا اماں ایک دن میں محمد ﷺ کو ساتھ لے کر گئی تھی سخت گرمی تھی میں جس طرف جاتی بادل کا ایک ٹکڑا ہمارے سر پر موجود رہتا ، میں ایک جگہ پر بیٹھ جاتی اور محمدﷺ کو لوری دیتی اور میری بکریاں بھی دور چرنے کے لیے نہیں جاتی تھیں ۔ بکریاں ہمارے آس پاس ہی چرتی رہتی تھیں اور جب شام ہوئی تو ساری بکریاں ہمارے پاس آ جاتیں اور میں اُن کو آسانی کے ساتھ گھر لے آتی ، مجھے کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہوتی (سبحان اللہ)۔ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو سارے پیغمبروں کا سردار بنا کر بھیجا۔اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو ایک خاص مقام دیا۔ آپﷺ کو رحمت العالمین بنا کر بھیجا گیا ۔آپﷺ کی پوری زندگی بنی نوع انسان کے لیے مشعلِ راہ ہے ۔چالیس سال کی عمر میں آپﷺ پر قرآن پاک کا نزول شروع ہوا اور پورا قرآن کا نزول اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کی زندگی میں پورا کر دیا۔ قرآنِ پاک تمام مسلمانوں کے لیے مقدس کتاب ہے اور دوسری کتابوں مثلاََ تورات، انجیل اور زبور پر فضیلت حاصل ہے ۔پوری مکی زندگی آپﷺ کے لیے تکلیف کا باعث رہی ۔طائف میں لوگوں نے آپﷺ کو پتھر مار مار کر لہو لہان کر دیا۔ مکہ کی جس گلی سے آپﷺ گزرتے ایک بورڑھی عورت روزانہ آپ پر کوڑا کرکٹ گرا دیتی ۔آپﷺ مسکرا کر گزر جاتے ۔ ایک دن بوڑھی عورت نے حسبِ معمول کوڑا کرکٹ نہ پھینکا تو آپﷺ کو تشویش ہوئی کہ آج کیا ماجرہ ہو گیا ہے کہ بوڑھی عورت نے حسبِ معمول آج کوڑا کرکٹ نہیں پھینکا ؟ آپﷺاُس کی خیریت دریافت کرنے کے لیے اُس کے گھر تشریف لے گئے ۔ جب آ پ ﷺ اُس کے گھر پہنچے تو بوڑھی عورت بخار سے کراہ رہی تھی ۔آپﷺ نے اُس کی خیریت دریافت کی ، اُسے پانی پلا یا اور دُعا دی ۔بوڑھی عورت آپﷺ کا حسنِ سلوک دیکھ کر فوراََ مسلمان ہو گئی ۔ جب آپﷺ مدینہ ہجرت کر کے گئے تو آپﷺ کی تشریف آوری سے پہلے مدینہ بیماریوں کا شہر تھا ۔آپﷺ کے قدم مبارک مدینہ کی زمین پر پڑے تو مدینہ خوشبوؤں کا شہر بن گیا(سبحان اللہ)۔ حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ جمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ۔ ایک آدمی آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ آپ ﷺ دعا کریں کہ بارش ہو جائے۔ بارش نہ ہونے کی وجہ سے قحط کا امکان ہے ۔ آپﷺ نے دعا کی اور صحابہ کرامؓ کے دیکھتے ہی دیکھتے بادل کے ٹکڑے آپس میں ملنے لگے جن کا کوئی نام و نشان نہیں تھا اور آپﷺ کی دعا سے بارش شروع ہو گئی اور اگلے جمعہ تک مسلسل بارش ہوتی رہی۔ مدینہ کی گلیاں پانی سے سراب ہو گئیں ۔ ایک آدمی نے عرض کی کہ یا رسول اللہﷺ آپﷺ سے دعا کریں کہ بارش رُک جائے اور کسی اور جگہ پر برسے ۔آپﷺ نے دعا کی تو بارش مدینہ منورہ سے رُک کر کسی اور جگہ پر ہونے لگ پڑی۔(سبحان اللہ)۔فتحِ مکہ کے موقع پر بہت سارا مال غنیمت اور غلام آپﷺ کی قید میں آگئے ۔ایک صحابی آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ غلاموں میں ایک عورت ایسی ہے جو کہتی کہ میں آپ کے سردار محمدﷺ کی بہن ہوں ۔ آپﷺنے کہا کہ میری کوئی بہن نہیں ہے ۔ بار بار کہنے پر آپ ﷺ نے کہا کہ اُس عورت کو بلا کر لے آؤ ۔ جب عورت آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو اُس نے کہا کہ میںآپﷺ کی بہن ہوں ۔آپﷺ نے کہا کہ میری تو کوئی بہن نہیں تو اُس عورت نے کہا کہ میں حلیمہ سعدیہؓ کی بیٹی ہوں ، میں وہ ہی ہوں جو بچپن میں آپﷺ کو گود میں بیٹھا کر لوریاں دیتی تھی اور بکریاں چرانے کے لیے آپﷺ کو ساتھ لے کر جاتی تھی ۔آپﷺ کو فوراََ یا د آگیا اور فوراََ حکم دیا کہ میری بہن کو رہا کر دیا جائے ۔ اس بہن نے عرض کی کہ میں اکیلی اپنے قبیلے میں جاؤں گی تو میرا قبیلہ کہے گا کہ چونکہ تم نبیﷺ کی بہن ہو اس لیے آزادی مل گئی ہے اور میری بہت بے عزتی ہو گی۔ میرے قبیلے کے لوگ بھی آپﷺ کی قید میں ہیں ، اُن کو بھی رہا کیا جائے ۔آپﷺ نے فوراََ کہا کہ میری بہن اور اس کے قبیلے کے لوگوں کو انعام و اکرام اور مال مویشیوں کے ساتھ رہا کر دیا جائے ۔ حجتہ الوداع کے موقع پر آپﷺ نے کم و بیش ایک لاکھ مجمے سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آج کے دن میں نے دین مکمل کر دیا ہے جس کا نام اسلام ہے ۔ کسی عربی کو عجمی پر کسی گورے کو کالے ، کسی بڑے قبیلے کو چھوٹے قبیلے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ،ماسوائے تقویٰ کے۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک معبوب ترین ہو شخص ہے کہ جو متقی اور پرہیز گار ہے ۔ جو باتیں میں نے تُم سے کہی ہیں اب تمہا را فرض ہے کہ یہ باتیں اُن لوگوں تک پہنچادیں جو یہاں موجود نہیں ہیں ۔
بنائی کیا خدا نے سوہنی صورت محمدﷺ کی ہوا عاشق وہ جس نے دیکھ لی صورت محمدﷺ کی
جمالِ حُسنِ یوسف پر فقط عاشق زلیخہ تھی خدا خود جس پے عاشق ہے وہ صورت ہے محمد ﷺ کی
مسلمانوں کو جب جنت کے دروازے پے روکیں گے حُکم ہو گا کہ جانے دو یہ اُمت ہے محمدﷺ کی