پاک چین کے بے مثال دوستی،،،،تحریر۔محمدصدیق مدنی۔ چمن

آج کاکالم ایک ایسی دوستی کے نام کررہا ہوں جولازوال ہے اور اپنی مثال آپ ہے۔ جس نے ہمارا ہر محاذ پر ساتھ دیا۔ آج بھی جب میں انٹر نیٹ پر نیوز پڑھ رہا تھا تو ایک نیوز پڑھ کر دل باغ باغ ہوگیاکیونکہ خبر کچھ اس طرح کی تھی۔چین کے دفتر خارجہ کا ایک بیان میری آنکھوں کے سامنے تھا۔ بقول دفتر خارجہ’’پاکستان کو خطرہ ہوا تو سیسہ پلائی دیوار کی مانند ساتھ ہو ں گے ۔ پاکستان روایتی دوست ملک ہے اسے کسی بھی مشکل میں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ کشمیر اور اروناچل بارے چینی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئیگی۔اس خبر کے پڑھتے ہی چین کی دوستی پر رشک آیاکیونکہ ایسا بیان کوئی اپنا ہی دے سکتا ہے ۔پاک چین دوستی سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے کہیں اونچی ہے۔ کوئی بھی ملک آج تک اس کی گہرائی اور اونچائی کی پیمائش نہیں کر سکا۔ چین ہمارا ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات ہیں جوروز بروز مضبوط سے مضبوط تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ چین نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔
چین آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے جس کی آبادی تقریباً 130 کروڑہے۔ معاشی لحاظ سے یہ ملک امریکہ کے بعد دنیا کی مضبوط ترین ریاست ہے۔ پاکستان اور چین پڑوسی ہونے کے ناطے ہی ایک دوسرے کے قریب نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔اِقتصادی حجم کے لحاظ سے آج چین پوری دنیا میں چوتھے درجے پر ہے۔چین کا پہلا دستور1954میں بنا۔1982میں چینی دستور میں کچھ نئے اصول و ضوابط شامل کئے گئے۔ 1999میں نیشنل پیپلز کانگریس (NPC)نے چینی آئین میں ترمیم کرکے قانون کی حاکمیت کو آئین کا حصہ بنالیا۔2004میں انسانی حقوق کی ضمانت کو بھی آئین کا حصہ بنادیا ۔
چین اقوام متحدہ کے بانی ممالک میں شامل ہے اس وجہ سے چین کو سلامتی کونسل میں ویٹو کا حق بھی حاصل ہے۔ دوعشروں تک مغرب کی چین دشمنی کی وجہ سے اسے اقوام متحدہ میں اپنے جائز مقام سے محروم رہنا پڑا۔ 25اکتوبر1971چین کی تاریخ میں ایک بہت بڑی اہمیت کا حامل دن ہے کیونکہ اس روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت کے ساتھ عالمی ادارے میں چین کی مراعات بحال کر دیں۔ چین کی اقوام متحدہ میں یہ غیر معمولی کامیابی دنیا کے دیگر ترقی پذیر ممالک کے لئے بھی بہت اہمیت رکھتی تھی کیونکہ چین ہر فورم پر ترقی پذیر ممالک کے حقوق کے لئے آواز اٹھاتا رہا ہے۔
ایک مشہور اورقدیم چینی کہاوت ہے کہ خوراک انسان کی سب سے اولین ضرورت ہے۔چین کے لوگ آج بھی اس مقولے پر عمل پیرا ہیں وہ خوراک کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ چین بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اس کی بیشتر آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے۔ زراعت کو شروع ہی سے چینی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل رہی ہے۔
پاکستان کے ساتھ چین کے ساتھ تعلقات قیام پاکستان کے بعد ہی قائم ہوگئے تھے مگر اچھے تعلقات کی بنیادکی پہلی اینٹ اس وقت رکھی گئی جب پاکستان نے 1950ء میں تائیوان کی حکومت کو ماننے سے انکار کیا۔ اس کے بعد 1962 میں چین بھارت جنگ، پاکستان اور چین کو اور قریب لے آئی جس کی وجہ ہندوستان پر دباؤ قائم رکھنا تھا۔ 1978 میں چین اور پاکستان کے درمیان پہلے اور اب تک کے واحد زمینی راستے قراقرم ہائی وے کا باقاعدہ افتتاح ہوا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور رابطوں میں اضافہ ہوگیا۔
چین نے پاکستان کی ہر میدان میں مدد کی۔دفاعی میدان میں چین نے پاکستان کو مکمل سپورٹ دی۔ دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون کے اہم منصوبے جن میں 2001 میں الخالد ٹینک، 2007 میں لڑاکا طیارے ’’ے ایف ۔17 تھنڈر‘‘ 2008 میں’’ایف۔22 پی‘‘ فریگیٹ اور’’کے۔8 قراقرم‘‘ایڈوانسڈ تربیتی طیاروں کی تیاری اور دفاعی میزائل پروگرام میں قریبی اشتراک شامل ہے۔ دونوں ممالک کی افواج کئی مشترکہ فوجی مشقیں بھی کرچکی ہیں جن میں سب سے اہم رواں سال ہونے والی فوجی مشق تھی جس کا مقصد انسدادِ دہشت گردی کے لیے باہمی تعاون کا فروغ قرار دیا گیا تھا۔ دفاعی تعاون کی انہی سمجھوتوں کی بدولت 2007 میں چین پاکستان کو ہتھیار فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیاتھا۔
وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے موجودہ دور حکومت میں دونوں ممالک کے یہ تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں اور حکومتی کوششوں ہی کا نتیجہ ہے کہ چین نے پاکستان میں مختلف شعبوں میں 32 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا عندیہ دیا ہے جو بہت بڑی سرمایہ کاری ہے، دنیا کا کوئی اور ملک پاکستان میں اتنی بڑی سرمایہ کاری نہیں کر رہا۔ چینی انجینئرز اور ماہرین اس وقت پاکستان میں مختلف شعبوں کی ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں۔ پاکستان اور چین کی اس لازول دوستی پر سٹیٹ بینک نے 20 روپے کا یادگاری سکہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق یہ یادگاری سکہ 31 جنوری کو جاری کیا جائے گا جس پر پاکستان اور چین کے قومی پرچم بنے ہیں۔
محمدصدیق مدنی کا کہنا ہے کہ مشرق سے اُبھرتی ہوئی معاشی طاقت چین مغرب اور امریکہ کے لیئے مسلسل درد سر بنا ہوا ہے۔اگر امریکہ نے فوجی زور سے دُنیا کو زیر رکھا ہے تو دوسری طرف چین نے معاشی طاقت سے دُنیا اور خصوصا ایشیاء کو اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے۔ دونوں پاورز کے درمیان عرصہ دراز سے سرد جنگ جاری ہے،دونوں کی پالیسیاں بلکل الگ تلگ ہے۔امریکہ فوج، ڈالر اور خانہ جنگی پر ایمان رکھتا ہے جبکہ چین امن، بزنس اور برابری پر یقین رکھتا ہے۔دونوں تیزی سے اپنی منزل کی طرف تیزی سے رواں دواں ہیں۔
تقریبا 80% ورلڈ پاور امریکہ کے مُھٹی میں ہیں اور وہ ایسے اپنی مفادات کے طور پر خرچ کر رہا ہے۔اگر UNجیسے دُنیا کی عظیم ادارہ امریکہ کی لونڈی بن سکتی ہے تو UN کی دیگر ادارے کیسے نہیں؟
ورلڈ بینک اور ائی ایم ایف جیسے گلوبل فائنانشل ادارے امریکہ کی مفادات میں دن رات مشغول ہیں اسی وجہ سے مجبور ہوکر چین نے ایک جراتمندانہ فیصلہ کیا اور اپنی سربراہی میں ایک عظیم ایشیائی ڈولپمنٹ بینک کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ابتدائی مرحلے میں صرف 21 ممالک نے شرکت کی لیکن بہت جلد اس کو اچھی شہرت مل جائیگی۔
بینک کا نامAsian Infrastructure Investment Bank(AIIB) ہے۔اس کا مقصد بنیادی طور پر کمزور انفراسڑکچر کو مضبوط بنانا ہے،چونکہ ایشیاء میں ٹرانسپورٹیشن،ٹیلی کمیونیکیشن اور انرجی پاورمضبوط معیشت کے راستے میں اہم روکاوٹیں ہیں اس لیئے اس بینک کا قیام ضروری سمجھاگیا۔اس پراجیکٹ پر کام ایک سال سے جاری تھا، امریکہ نے اپنی اخری حد تک اسکی مخالفت کی چونکہ اس کو ڈر ہے کہ اس سے ایشیاء میں امریکی تھانیداری کم ہوجائیگی اور حریف چین کا گرفت مضبوط ہوجائیگا۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد ورلڈ بینک پر امریکی کنٹرول ہے جبکہ ADP یعنی ایشین ڈولپمنٹ بینک جاپان کے قبضہ میں ہے۔AIIB کھلی طور پر ADP,WB اور IMF کابقابلہ کریگی۔
24اکتوبر 2014 کو ایک عظیم پروگرام میں اس کا افتتاح ہوا۔ چین نے 50 میلین ڈالر دینے کا فیصلہ کیا جبکہ50 میلین ڈالر پرائیویٹ سیکٹر سے ائیگا۔ چین کے کوششوں سے قطر اور سعودی عرب جیسے مالدار ممالک نے بھی شرکت کی۔اگرچہ بینک کا بنیادی سرمایہ یعنی 100 میلین ڈالرز دوسرے بینکوں کے مقابلے میں بہت کم ہے لیکن چین ایشیاء پر غلبہ حاصل کرنے کیلئے ایسے ضرور ٹاپ پر پہنچائیگا کیونکہ دوسرے بینکوں پر امریکی اثر کی وجہ سے سب ممالک بہت تنگ اچکے ہیں اور امریکی نفرت بڑھتی جا رہی ہے۔
چین کے اس دلیرانہ فیصلے سے امریکہ بڑی حد تک ٹینشن میں ہے، انہوں نے اس کے خلاف ہر اقدام اُٹھایا اور لابیز استعمال کی لیکن مذکورہ بینک عمل میں اگیا جبکہ امریکی لابی کی وجہ سے تین ممالک نے عین موقع پر جوائن کرنے سے انکار کیا،انڈونیشیاء، ساؤتھ کوریا اور اسٹریلیا اگرچہ بہت انٹرسٹ تھے لیکن امریکی خوف ذیادہ رہا اور اُنہوں نے شمولیت نہیں کی لیکن اُمید ہے کہ مستقبل میں ضرور پاس ائینگے۔اس بینک کے ارکان میں چین،پاکستان،انڈیا،بنگلہ دیش، قطر، سعودی عرب، کویت،منگولیا،سری لنکا،نیپال،اذر بائجان،برونائی، قازکستان،ازبکستان،کمبوڈیا، لاؤس، میانمر،تھائی لینڈ، سنگاپور، ملائیشیاء،ویتنام،اومان اور فیلفائن شامل ہیں۔
چین کے بعد انڈیا بڑا سٹیک ہولڈر ہے،یہ بینک اگلے سال کام شروع کریگا اور اس کا ہیڈ افس بیجنگ میں ہوگا۔اس اہم فائنانشل ادارے کے قیام کے بعد چین گورنمنٹ نے اپنا ایک تجربہ کار بینکر’’جِن نیقون‘‘ کو اس کا سربراہ بنایا۔
اس بینک کے قیام کا مقصد مغربی ممالک کے چنگل سے اذاد ہونا ہے،دُنیا میں سب سے ذیادہ ابادی اور رقبہ ایشیاء کے پاس ہے جبکہ مالی ادارے مغرب اور امریکہ کے کنڑول میں ہیں اس لیئے اس ادارے کے قیام نے ذور پکڑا۔اگرچہ اس سے چین کو اپنی مقاصد میں کچھ حد تک امریکہ کے خلاف کامیابی بھی ملیگی جس کی امریکہ کو بہت ذیادہ فکر ہو رہی ہے لیکن ساتھ ہی ایشیاء کی کمزور معیشت کو فائدہ ہوگا اور یہ کمزور ممالک ائی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اڑ میں امریکی غلامی سے نجات پائینگے، کیونکہ UN اور اس کے تمام ادارے امریکی مُٹھی میں بند ہے اور امریکہ اپنی مُٹھی صرف اپنی مفادات پوری ہونے پر کھولتا ہے اور ساتھ ہی صرف منظور نظر حکمرانوں کو خوش کیا جاتا ہے۔
چین کے اس فیصلے پر تمام ایشیائی ممالک اور خصوصا پاکستان کوبڑی خوشی ہوئی اور اُمید ظاہر کرتے ہیں کہ اس کو ADB,IMF &WB پر سبقت حاصل ہو۔
چین کے صدر حالیہ دورہ بھارت پر بہت سے لوگوں نے انگلیاں اٹھائیں۔اصل میں چینی صدرنے دورہ بھارت سے پہلے پاکستان آنا تھا مگر دھرنے کی وجہ سے انہوں نے اپنا دورہ کینسل کیا۔کچھ لوگ سمجھ رہے تھے کہ چین بھارت کو پاکستان پر فوقیت دے رہا ہے مگر چینی حکمرانوں نے ہمیشہ پاکستان کو اہمیت دی اور باقی ممالک سے صرف تعلقات رکھے۔ پاک چین عوام کو اس دوستی پر نازہے اور دعا ہے کہ یہ تعلقات مزید مستحکم اورتاحیات رہیں۔آمین