پنجاب میں رینجرز اہم ترین فیصلہ ( پہلو ۔۔۔۔۔۔ صابر مغل )

13فروری کو لاہور کی مشہور ترین شاہراہ مال روڈ پر پنجاب اسمبلی کے سامنے فیصل چوک المعروف چیرنگ کراس پر افغانستان سے آنے والے خود کش بمبار کے حملہ کے نتیجے میں ڈی آئی جی ٹریفک کیپٹن (ر) سید احمد مبین اور ایس پی گوندل سمیت 13 افراد شہید اور85زخمی ہوئے تھے ،اس واقعہ کے ساتھ ہی ملک بھر میں دہشت گردی بد ترین لہر سامنے آئی جن میں دہشت گردی کی سب سے بڑی واردات سخی شہباز قلندر کے مزار کے احاطہ میں ہوئی جس نے بچوں ،عورتوں سمیت90افراد کو نگل لیا جبکہ 200سے زائد زخموں سے چور ہیں،صرف پانچ دن میں دہشت گردی کی آٹھ وارداتوں نے ریاست پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا،پہلی بار وزیر اعظم میاں نواز شریف نے دہشت گردوں کے خلاف دبنگ بیان دیا کہ اب ان دہشت گردوں کو کہیں پناہ نہیں ملے گی اور بے رحم کاروائی میں ان کو چن چن کر مارا جائے گا،پاک آرمی نے بھی بھرپور کاروائی کرتے ہوئے درجنوں دہشت گردوں کو محض دو دن میں نہ صرف جہنم واصل کیا بلکہ افغا ن سفارتی عملہ کو جی ایچ کیو میں طلب کر کے سخت پیغام دیا،جنرل اختر جاوید باجوہ نے افغانستان میں تعینات امریکی جنرل پر بھی واضح کر دیا کہ اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہی، دہشت گردی کی حالیہ تیز تر لہر کے بعد سیکیورٹی ایجنسیوں نے ملک بھر میں کمبنگ سرچ آپریشن کر کے اب تک ایک ہزار سے زائد مشکوک و مطلوب افرادکو گرفتار کر لیاہے،اتوار کے روز ہنگامی بنیادوں پر منعقدہ اجلاس جووزیر اعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت منعقد ہوا پنجاب حکومت نے اپیکس کمیٹی کےؤ ایک اجلاس جس میں مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ ،کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل صادق علی ،صوبائی وزیر انسداد دہشت گردی کرنل (ر) محمد ایوب ،ڈائریکٹر جنرل رینجرز پنجاب میجر جنرل اظہر نوید حیات ،جنرل آفیسر کمانڈنگ 10ڈویژن میجر جنرل سردار طارق امان ،چیف سیکرٹری کیپٹن (ر) زاہد سعید ،انسپکٹر جنرل پولیس مشتاق احمد سکھیرا،سیکرٹری داخلہ میجر (ر) اعظم سلیمان خان سمیت مزید اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی،اپیکس کمیٹی کے اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردوں سے نبٹنے کی کوششوں میں رینجرز کا بھی تعاون حاصل کیا جائے گا،اس تعاون کی نوعیت اور حد کیا ہو گی اس کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا،اسی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بے رحمانہ آپریشن کے دوران بلا امتیاز کاروائی ہو گی ،مالی معاونت کے تمام ذرائع بند کر دیئے جائیں گے،صوبہ بھر میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر ہونے والے آپریشن کا دائرہ کار مزید وسیع کرنے پر بھی اتفاق ہوا،واضح رہے کہ حالیہ دہشت گردی کے بعد پولیس اور رینجرز نے سب سے زیادہ کاروائیاں پنجاب میں ہی کی ہیں اور حراست میں لئے گئے زیادہ تر افراد کا تعلق افغانستان سے ہے ،وزارت داخلہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں دہشت گردی کے785 واقعات کے نتیجہ میں گذشتہ سال 804 افراد شہید ہوئے یہ تعداد 2015میں 804تھی،2003سے لے کر 2016تک صرف پنجاب میں ہونے والی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھنے والوں کی تعداد1236جبکہ زخمیوں کی تعداد3804 ہے،ان واقعات میں لاہور میں ،گلشن پارک ،پولیس لائن قلعہ گجر سنگھ ،یوحنا آباد،قذافی سٹیڈیم،آر اے بازار(2مرتبہ)،اردو بازار،ماڈل ٹاؤن،ماڈل ٹاؤن و گڑھی شاہو،دربار عالیہ حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ ،کربلا گامے ؤشاہ،CCPO اور آئی ایس آئی آفس،مون مارکیٹ،نیوی وار کالج،FIAہیڈ کوارٹراور موچی گیٹ۔راولپنڈی میں آر اے بازار،این ایل سی آفس،لیاقت باغ،جھنڈا چیچی،کنٹونمنٹ ایریا،جی ایچ کیو ،جامع مسجد کینٹ۔اٹک میں شجاع خانزاد ہ پر خود کش حملہ،ملتان ،کامرہ ،سرگودھا،واہ کینٹ،ڈیرہ غازی خان،تونسہ شریف،چکوال۔بھکر اور سیالکوٹ شامل ہیں جہاں دہشت گردی کے بڑے بڑے واقعات ہوئے،جنوبی پنجاب کو دہشت گردوں کو گڑھ سمجھا جاتا ہے،کچے کے علاقہ میں چھٹو گینگ پر بھی پنجاب حکومت پر بہت سے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے،کراچی میں دہشت گردی اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ٹارگٹڈ رینجرز آپریشن طویل عرصہ سے جاری ہے ، پنجاب میں دہشت گردی کے بڑے واقعات کے باوجود یہاں رینجرز کی تعیناتی نہ ہونے پر ہر دوسری سیاسی جماعت کے رہنماء اور عوام اس بات پر بہت شاکی تھے کہ آخر پنجاب میں رینجرز آ پریشن سے صوبائی حکومت کیوں بھاگ رہی ہے،حالانکہ دہشت گردی کی وارداتوں کے علاوہ امن و امان کی حالت بھی کسی طور بہتر نہ تھی اور نہ ہی ہے،کرپشن لوٹ مار ،قبضہ مافیا،منشیات فروشوں ،دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی وسیع تعداد کا بسیرا بھی اسی صوبہ میں ہے،کئی کالعدم تنظیموں کے مرکزی دفاتر بھی پنجاب میں ہی ہیں ،حالیہ ہونے والی گرفتاریوں کا ٰزیادہ تر تعلق بھی پنجاب ہی سے ہے،پنجاب میں رینجرز آپریشن میں پہلے ہی بہت تاخیر ہو چکی ہے مزید تاخیر نہ کرنے کافیصلہ خوش آئند ہے،رینجرز کو پنجاب میں کیا کیا اختیارات ملتے ہیں ابھی کچھ واضح نہیں تاہم صوبائی وزیر قانون رانا ثنا ء اللہ نے بتایا ہے کہ رینجرز کو گرفتاری اور تلاشی کے اختیارات دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے،رینجرز کئی دہائیوں سے سرحدوں کے علاوہ شہری علاقوں میں بھی قیام امن کی ذمہ داری نبھا رہی ہے،بعض مقامات پر تومستقل بنیادوں پر تعینات ہے جن میں گلگت بلتستان ،تربیلا،کشمور،راجن پوراور اسلام آباد شامل ہیں،پنجاب میں رینجرز کی معاونت اس لحاظ سے بھی بہت درست فیصلہ ہے کیونکہ حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں اور مبصرین پنجاب اور خاص طور پر جنوبی پنجاب کے ان علاقوں میں جہاں پنجابی طالبان نے جنم لیا اور پروان چڑھے وہاں کراچی کی طرز پر آپریشن کرنے کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں اس سے یہ تاثر بھی زائل ہو جائے گا کہ مسلم لیگ (ن)کی صفوں میں ایسے افراد موجود ہیں جو دہشت گردوں کی حمایت کرتے ہیں۔۔۔