تعلیمی ادارے اور بڑھتا ہوا عشق،،،، محمد اشفاق حیدر

ان دنوں تعلیمی اداروں میں تواتر کے ساتھ عشق کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔اور اس میں خطرناک بات یہ ہے کہ اس میں معصوم
طلبا اس کا شکار بن رہے ہیں۔۔افسوسناک بات یہ ہے ۔یہ عشق تو تعلیم سے ہونا چایئے لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہے لڑکے اور لڑکیاں تعلیم حاصل کرنے نہیں بلکہ عشق کی کلاسز لینے آتے ہیں۔ وہ کراچی کے سکول میں خود کشی کرنے والے لڑکا یا لڑکی ہو یا راولپنڈی میں اپنی ٹیچر سے محبت کرنے والا نویں جماعت کا طالب علم۔۔۔ اور ہم نے ا بھی تک کبوتر کی طرح اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔سوچنے والی بات یہ ہے کہ اس طرح کے واقعات کیوں رونما ہو رہے ہیں۔اور اس کا زمہ دار کون ہے۔والدین۔۔اساتذہ یا بچہ ۔ ہر کوئی اک دوسرے پر الزام لگا سکتا ہے کہ وہ اس کا ذمہ دار ہے۔۔ میرا خیال ہے ہم بچوں کو سکولز میں تعلیم اور تربیت کے لیئے بھیجتے ہیں۔ لیکن ہم کیا کر رہے ہیں۔ہم اپنے ان بچوں کو اعلی سے اعلی تعلیمی اداروں میں اس لیئے داخل کرواتے ہیں کہ وہ معاشرے میں میں اعلی سے اعلی مقام حاصل کریں۔لیکن وہ تعلیم تو حاصل کر رہے ہیں لیکن ان کی اخلاقی تربیت نہیں ہوتی۔ ظاہری بات ہے اخلاقی تربیت کا آغاز گھر سے ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے والدین کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ اپنے بچوں کو ٹائم دے سکیں اور ان کی اخلاقی تربیت کر سکیں۔اسلام سے دوری اور اور اپنی مثبت روایات سے عدم دلچسپی کا عا لم ہے۔میں سب سکولز کو تو اس کا ذمہ دار قرار نہیں دیتا لیکن گلی گلی اور محلہ میں کھلے مش رومز کی طرح وہ پرایؤیٹ سکولز اس کے ذمہ دار ضرور ہیں جو نا صرف پیسے کمانے کی فیکٹریاں بلکہ ان بے روز گار پڑھے لکھے لڑکیوں اور لڑکوں کی معاشی اور اخلاقی استحصال کی آماجگاہ بھی ہیں۔۔سوشل میڈیا میں ان اڈوں کے بارے بہت سی خبریں تواتر سے آتی رہی ہیں۔ان میں سے تو بہت سی ایسی خبریں ہیں جن کے بارے میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔۔ اک میٹرک پاس یا ایف اے پاس لڑکی جو اک اوسط درجے کے سکول میں ٹیچنگ میں پڑھا رہی ہوتی ہے پہلے تو 7000 روپے کی تنخواہ پر دستخط کروا کر صرف 2500 سے 3000 روپے ان کو تھما دیئے جاتے ہیں۔۔ اس ٹیچر کی اوسط عمر بیس سے بائیس سال کے درمیان ہوتی ہے اور وہاں زیر تعلیم طلبا کی اوسط عمر بھی 16 سال کے قریب ہوتی ہے اور اس عمر میں لڑکے کا لڑکی سے محبت میں گرفتار ہو جانا فطری امر ہے یا اپنی ہی عمر کی ٹیچر کے ساتھ عشق میں مبتلا ہو جانا بھی نئی بات نہیں۔۔ کیوں کہ پرایؤیٹ سکولز کی ٹیچرز well Dress اور میک اپ کر کے آتی ہیں جن سے لڑکوں کا ان کی طرف متوجہ ہو جانا بھی فطری امر ہے ایسے سکولز میں ان ٹیچرز کو ذومعنی جملوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان مافیا کے کرتوتوں کے بارے میں پھر کبھی کالم لکھوں گا۔۔ co education بھی اس بے راوی کا اک بڑا جواز ہے۔۔ لیکن سوشل میڈیا جس میں Facebook اور WatsApp اور internet کا وہ منہ زور طوفان ہے جس پر قابو پانا نا صرف مشکل نظر آ رہا ہے بلکہ ناممکن نظر آ رہا ہے۔۔کیوں کہ cellphone اک symble status بن گیا ہے۔اک دوسرے سے آگے بڑھنے کی دھن میں سب کچھ روند ڈالا ہے۔۔باپ جس کا کام بچوں کو آسائشیں فراہم کرنا ہے لیکن اس کے ساتھ ان پر گہری نظر بھی رکھنا ہے۔۔ لیکن باپ پیسے کمانے کی دھن میں وہ اس قدر آگے نکل چکا ہے اسے اپنے بچوں کی معاشی ضرورتیں پوری کرنے کی فکر تو ہے لیکن ان کی اخلاقی تربیت کی کوئی فکر نہیں۔جب وہ آج کل کے معاشی دباؤ سے نبردآزما رات کو گھر واپس آتا ہے تو اس کو بچے سوئے ہوئے ملتے ہیں۔کئی کئی دن ان کی شکلیں دیکھ نہیں پاتا۔اور باپ کے اس Gape کو جب کوئی اور پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو بچے بے را ہ روی کا شکار ہو جاتے ہیں۔۔وہ اپنی تسکین کی جگہ انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا میں ڈھونڈتے ہیں اور رہی سہی کسر انڈیں فلموں نے پوری کر دی ہے اک ا نڈیں فلم sixteen کے کچھ مناظر آج کل کے تعلیمی اداروں میں ہونے والے عشق سے مماثلت رکھتے ہیں۔۔ مجھے فیس بک پر لگنی والی وہ پو سٹ یاد آگئی جس میں 8th جماعت کے بچے کو دل کی Diagram بنانے اور اس کی وضاحت بھی کریں تو جواب میں بچہ کیا کہتا ہے۔ ذرا ملاحضہ کیجیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔ دل بہت ضروری چیز ہے۔ دل کے بہت سے گانے ہیں جیسے دل دل پاکستان۔دل کا کیا کریں صاحب۔۔ دل تو بچہ ہے۔۔ دل لگایا تھا دل لگی کے لئے۔۔۔ تو قارئیں دیکھ لیں آج کل کے بچے کون سی سائنس پڑھ رہے ہیں میری تمام والدیں سے گذارش ہے خدارا اپنے بچوں پر پیسہ ضرور خرچ کریں بلکہ ان پر نظر بھی رکھیں ان کے معمو لات میں ہونے والی تبدیلوں کا بغور مطالعہ بھی کریں تاکہ ہم اپنے مستقبل کو بچا سکیں جن کو دشمن ملک ثقافتی جنگ میں تباہ کرنا چاہا رہا ہے۔۔۔