سی پیک منصوبے پر بھارت کا اصل چہرہ کھل کر سامنے آگیا

بیجنگ: یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارت کو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ایک آنکھ نہیں بھا رہا اوراس کی تازہ مثال اس وقت دیکھنے میں آئی جب بھارتی سیکرٹری خارجہ جے شنکر نے اپنے چینی ہم منصب سے ملاقات کی اوراس دوران وہ سی پیک منصوبے کا رونا روتے رہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سیکرٹری خارجہ جے شنکر نے چینی ہم منصب سے بیجنگ میں ملاقات کی جس میں دوطرفہ معاملات سمیت پاک چین اقتصادی راہداری پر خصوصی طور پر بات چیت کی گئی۔ اس موقع پر بھارت نے سی پیک منصوبے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے بھارتی خودمختاری کے خلاف قراردیا۔
اجلاس کے دوران بھارتی وزیرخارجہ جے شنکر کا کہنا تھا کہ چین کی جانب سے 46 ارب ڈالر کا سی پیک منصوبہ پاکستان کے کشمیر سے گزر رہا ہے جو کہ بھارتی خودمختاری کے خلاف ہے۔ اس موقع پر چینی وزیرخارجہ وانگ ژی نے بھارت کو رواں سال بیجنگ میں ہونے والی ’’سلک روڈ سمٹ‘‘ میں شرکت کی دعوت دی اور کہا کہ سمٹ میں 20 ممالک کے سربراہان مملکت شریک ہوں گے تاہم بھارتی سیکرٹری خارجہ نے سی پیک کا ہی راگ الاپتے ہوئے کہا کہ چین اپنی خودمختاری کے حوالے سے بہت حساس ہے اس لئے ایسے ملک کو سمجھنا چاہئے کہ بھارت کی خودمختاری کی بھی خلاف ورزی ہورہی ہے اور وہ کیسے اس سربراہی کانفرنس میں شرکت کرسکتا ہے۔