آئی سی سی سے فل ممبرز کی بادشاہت ختم کرنے کا فیصلہ

دبئی: آئی سی سی سے فل ممبرز کی بادشاہت ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا جس کے بعد ہر پانچ برس بعد ریویو ہوگا، فنڈز کا مکمل حساب بھی لیا جائے گا۔
بگ تھری کے خاتمے کے ساتھ ہی مدتوں سے آئی سی سی کو ’کلب‘ بنائے رکھنے والے فل ممبران کی بادشاہت بھی ختم ہونے کے قریب ہے۔ آئی سی سی گورننس ورکنگ گروپ کی تجویز تمام ممبر بورڈز کو ارسال کردی گئی، جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اب فل ممبر شپ سب کے لیے اوپن ہوگی، ایفیلیٹ درجہ ختم کرکے صرف2 ممبرز شپ فل اور ایسوسی ایٹس باقی رکھی جائیں گی، فل ممبرز کا ہر پانچ جبکہ ایسوسی ایٹس کا 2 برس بعد جائزہ لیا جائے گا، خاص طور پر یہ دیکھا جائے گا کہ کونسل کی جانب سے فراہم کیے فنڈز کیسے خرچ کیے گئے۔
دوسری جانب ای میل میں کہا گیا کہ فل ممبر اسٹیٹس اب ہمیشہ رہنے والا نہیں ہے، مقررہ معیار پر پورا نہ اترنے والے فل ممبر کو ممبرشپ کمیٹی کی سفارش پر ایسوسی ایٹ ممبر بنادیا جائے گا۔ اسی طرح آئی سی سی کے ایگزیکٹیو بورڈ کو 15 ڈائریکٹرز تک پھیلایا جائے گا جس میں 10 فل ممبربورڈز سربراہان، 3 ایسوسی ایٹس چیئرمین، ایک آئی سی سی چیئرمین اور ایک غیرجانبدار ڈائریکٹر موجود ہوگا، سب کو ووٹ کا حق حاصل ہوگا، کسی بھی معاملے کی منظوری کیلیے حق میں کم سے کم 10 ووٹ آنا ضروری ہوگا۔
علاوہ ازیں ایک اور سفارش بھی کی گئی ہے کہ درخواست پر کسی بھی معاملے کی خفیہ رائے شماری بھی کرائی جانا چاہیے، اس سے کسی ایک بورڈ کے دوسرے کو مجبور کرنے یا دھونس دھمکی سے کام چلانے سے روکنا ممکن ہوگا۔