ایسا دیوقامت پرندہ جو ڈائنو سار کا بھی شکار کرسکتا تھا

لندن: برطانوی ماہرین نے رومانیہ کے علاقے ٹرانسلوینیا میں آج سے 7 کروڑ سال پہلے پائے جانے والے ایک دیوقامت پرندے کی ہڈیوں کا جائزہ لینے کے بعد کہا ہے کہ شاید یہ سب سے خطرناک پرندہ بھی تھا جو زمین پر بسنے والے چھوٹے ڈائنوساروں کا شکار کرکے کھایا کرتا تھا۔
اس معدوم پرندے کو ’’ہیٹزیگوپٹیرکس‘‘ (Hatzegopteryx) کہا جاتا ہے جس کے پروں کا پھیلاؤ 10 سے 12 میٹر تک تھا یعنی دورانِ پرواز یہ کسی چھوٹے ہوائی جہاز کی طرح دکھائی دیتا ہوگا۔ اس کا تعلق معدوم پرندوں کے خاندان ’’اژڈارکڈ‘‘ (Azhdarchid) سے تھا۔ اس خاندان کے تمام دیوقامت پرندوں کے منہ میں دانت نہیں ہوتے تھے لیکن وہ شکار کرنے کے لیے اپنی لمبی اور نوکیلی چونچ کا استعمال کرتے تھے۔
ساؤتھ ایمپٹن یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اژڈارکڈ خاندان کے دوسرے پرندوں کے مقابلے میں ہیٹزیگوپٹیرکس کی گردن کی ہڈی 3 گنا زیادہ چوڑی اور انتہائی مضبوط تھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اپنے زمانے کا سب سے خطرناک شکاری پرندہ بھی تھا۔ علاوہ ازیں اس کی گردن بھی اپنے خاندان کے دوسرے پرندوں کے مقابلے میں چھوٹی لیکن زیادہ موٹائی والی تھی۔
ماہرین کے مطابق یہ پرندے اپنی مضبوط چونچ، بڑے منہ اور سخت ہڈیوں کا استعمال کرتے ہوئے زمین پر پائے جانے والے چھوٹے ڈائنوساروں کو گرفت میں لیتے تھے اور سالم ہی نگل جایا کرتے تھے کیونکہ ان میں اپنے شکار کو چبانے کے لیے دانت نہیں ہوتے تھے۔
واضح رہے کہ اژڈارکڈ خاندان سے تعلق رکھنے والے پرندوں کی اونچائی آج کے زرافے جتنی ہوا کرتی تھی جنہیں خطرناک ترین گوشت خور ڈائنوسار ’’ٹی ریکس‘‘ کا فضائی مدمقابل بھی قرار دیا جاتا ہے۔