ملکی تاریخ کاسب سے بڑا آپریشن۔ ردا لفساد ( پہلو ……………..صابر مغل)

منگل 21فروری کو فوج کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تاہم آئی ایس پی آر کی جانب سے اس کا اعلان دوسرے دن اس وقت کیا جب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لاہور میں سیکیورٹی سے متعلق ایک اہم اجلاس کی صدارت کی ،آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن ۔دارلفساد۔ کا مقصد ریاست پاکستان کو فسادیوں سے مکمل نجات دلانا ، بلا تفریق ملک سے بچے کھچے دہشت گردوں کا خاتمہ کرنا ہے ،دہشت گردوں کی لعنت ختم کرنے کے لئے تمام ادارے پاکستانی فضائیہ،نیوی ،بری فوج،سول آرمڈفورسزاور دیگر سیکیورٹی ادارے حصہ لیں گے،پاک فوج کی جانب اس بہت بڑے اعلان نے پوری قوم میں ایک نئی روح پھینک دی ہے جس میں نیشنل ایکشن پلان پرمکمل عمل درآمد کو طرہ امتیاز کہا گیا ہے،اس آپریشن سے ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں ہو ں گی،شدت پسندی کو کچل دیا جائے گا،ملک کو غیر قانونی اسلحہ سے پاک ،اب تک کی کامیابیوں کو مستحکم اور قومی سلامتی کو یقینی بنایا جائے گا،افضل مقصد ملک کو بارود اور اسلحہ سے پاک کرنا ہے،اس آپریشن سے سرحدوں کی سیکیورٹی کو بھی یقینی بنائے جانے کا عزم ہے،فوج نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اس بڑے اور جارحانہ آپریشن میں دہشت گرد اور ان کے سہولت کار جہاں بھی ہوں گے ان کا تعاقب کر کے ان کا خاتمہ اور انہیں چن چن کر نشانہ بنایا جائے گا ۔پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر جو 13فروری کو مال روڈ لاہور سے خود کش حملہ سے شروع ہوئی،کوئٹہ میں بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکاروں کی شہادت،مہمند ایجنسی میں خاصہ داروں سمیت 5افراد کی شہادت،پشاور میں ججز کی گاڑی پرحملہ،سہون شریف میں خود کش حملہ ،بلوچستان کے علاقہ آواران میںؤ دیسی ساختہ بم سے کیپٹن سمیت تین اہلکاروں کی شہادت اور چارسدہ میں خود کش حملہ میں 7افراد کی شہادت جیسے واقعات نے ۔آپریشن دارلفساد۔کو جنم دیاہے،2003تک پاکستان میں دہشت گردی نہ ہونے کے برابر تھی ،2009میں دہشت گردی نے پاکستان کو بری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا تب سے لے کر اب تک ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 60ہزار سے زائد افراد کی قربانی دینے کے ساتھ تقریباً80ارب ڈالر کا مالی نقصان بھی برداشت کر چکے ہیں،پاک فوج اس سے قبل بھی دہشت گردوں کے خلاف کئی آپریشن کر چکی ہے،2007میں وادی سوات اور شانگلہ میں آپریشن راہ حق،2008میں وادی سوات اور شانگلہ میں ہی راہ حق دوئم ،اسی سال خیبر میں ایجنسی میں آپریشن صراط مستقیم اور باجوڑ ایجنسی میں آپریشن ۔شیر دل۔جس میں فرنٹیر کور نے بھی حصہ لیا تھا،2009میں وادی سوات اور شانگلہ میں آپریشن راہ حق سوئم،بونیر ،لوئیر دیر اور شانگلہ میں آپریشن بلیک تھنڈراسٹروم،مہمند ایجنسی میں آپریشن ۔بریخنا،سوات میں آپریشن راہ راست جسے سوات آپریشن بھی کہا جاتا ہے،جنوبی وزیرستان میں آپریشن راہ نجات یہ آپریشن شدت پسند کمانڈر بیت اللہ محسود کے گروپ کے خلاف تھاجو پاک فوج کے ہیڈ کوارٹر زپر شدت پسندوں کے حملے کے بعد شروع ہوا،خیبر ایجنسی میں آپریشنز کو نمبر ون ،2اور تھری کا نام دیا گیا اور 2014میں آپریشن ۔ضرب عضب شروع کیا گیا، گذشتہ برس کومبنگ آپریشن کا بھی آغاز ہوا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر دہشت گردوں کی گرفتارکرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے،دہشت گردی کی وارداتوں کے دوران پاکستانی ریاست کئی بار چھوٹے چھوٹے گروپس کے ساتھ محدود علاقوں کے لئے امن معاہدے کرتی رہی لیکن دو برس قبل پہلی بار وفاقی حکومت نے تحریک طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی پالیسی اپنائی مگر یہ سب ناکام رہا،اس موقع پر حکومت نے طالبان کے حوالے سے نرم گوش رکھنے والوں کوہر ممکن سہولت بھی دی ،یہ طبقہ ہر طرح سے عوام اور حکومت کو ڈراتا رہا کہ طالبان بھٹکے ہوئے لوگ ہیں ہمارے اپنے ہیں اگر ان کے خلاف فوجی کاروائی کی گئی تو پتا نہیں کیا قیامت ٹوٹ پڑے گی حالانکہ اس طوالت سے شدت پسند مزید مضبوط ہوتے گئے،،ضرب عضب کے چند ماہ بعد دسمبر میں آرمی پبلک سکول پشاور میں معصوم پھولوں کو خون میں نہلا دیا،تب پاکستانی حکام نے نیشنل ایکشن پلان مرتب کیا 30نکاتی نیشئل ایکشن پلان میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے بنائے گئے لائحہ عمل پر دو برس گذرنے کے باوجود سیاسی جماعتوں کی مصلحتوں کے تحت عمل درآمد نہ ہو سکا،ضرب عضب کی دو سالہ رپورٹ کے مطابق شمالی اور جنوبی وزیرستان میں نو گو ایریاز ختم کر دئیے گئے،تقریباً3600کلومیٹر کا علاقہ دہشت گردوں سے کلیر کرایا گیا،قبائلی علاقوں سے بھارتی خفیہ ایجنسی ۔را۔اور افغان انٹیلی جنس ایجنسیوں کا نیٹ ورک ختم کیا گیا،دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی بار کسی ملک کا حاضر سروس افسر(کلبھوشن یادیو) ؤدوسرے ملک میں جاسوسی کرتے ہوئے دھر لیا گیا،500فوجی افسر و جوان شہید ہوئے جبکہ 3500دہشت گردمارے گئے،لشکر اسلام کو خیبر ایجنسی سے اکھاڑ پھینکا گیا جس میں ان کے 900سے زائددہشت گرد جہنم واصل ہوئے ان دہشت گردوں کے پاس اتنا دھماکہ خیز مواد تھا جس سے وہ15سال تک لڑ سکتے تھے،7ہزار دھماکہ خیزمواد کی فیکٹریاں تباہ کی گئیں ،35ہزار سے زائد راکٹ اور مارٹر گولے برآمد ہوئے،انٹیلی جنس بنیادوں پر 19ہزار کامیاب آپریشن ہوئے،۔مگر اس کے باجود نیشنل ایکشن پلان کے نکات پر عمل درآمد کی پلوتہی،غفلت ،لاپرواہی ہمارا منہ چڑاتی رہی،سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا تھا۔ ہمارے مقاصد میں کامیابی کے لئے نیشنل ایکشن پلان ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے اس کی پیش رفت میں کمی آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں پر اثر انداز ہو رہی ہے جب تک قومی ایکشن پلان کی تمام خامیوں کو دور نہیں کیا جاتا تب تک دہشت گردی کی باقیات ختم نہیں ہو سکتیں اور ملک میں دیرپا امن اور استحکام کا خواب خواب ہی رہے گا۔مگر اس کے باوجود نیشنل ایکشن پلان پر عمل خواب ہی رہا،پاک فوج کی جانب سے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے آپریشن ۔دارلفساد۔کا اعلان بہت بڑا اعلان ہے،اس ملک کو مختلف طبقات نے اپنی اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی کوشش کی ہے ،اول تو یہ طبقات آپریشن چاہتے ہی نہیں تھے اگر مجبوری بنی توانہوں نے کسی بھی آپریشن کو ملک کے مخصوص علاقوں تک محدود رکھنے کی بھرپور جدوجہد کی ،سندھ میں پیپلز پارٹی نہیں چاہتی تھی اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن)،حالانکہ روشنیوں کے شہر کراچی میں پولیس اور رینجرز نے 5برسوں کے دوران مختلف علاقوں میں 70ہزار سے زائد ٹارگٹڈ آپریشن کئے جس میں80ہزار سے زائد دہشت گردوں،ٹارگٹ کلرز،بھتہ خوروں وغیرہ کو گرفتار کیا،آئے روز کراچی کے مختلف علاقوں سے اسلحہ کی کھیپ برآمد ہو رہی ہیں،کراچی میں نیٹو اسلحہ چرا کر انسانی زندگیوں سے کھیلا گیا یہ اسلحہ اس قدر وافر تھا کہ2013میں کراچی بد امنی کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا ۔انہوں نے پشاور کے باہر واقع علاقے خارخانومیں نیٹو کا اسلحہ فروخت ہوتے خود دیکھا۔پاکستان میں فوجی آپریشن کو محدود رکھنے کی بھرپور کوشش کی گئی ہر جگہ روڑے اٹکائے گئے،ہر جگہ کوئی نہ کوئی مصلحت سامنے آ جاتی،پاک فوج نے اس نئے آپریشن کا نام بہت اچھا رکھاہے،یعنی اب ہمہ قسم کا فساد اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا،فساد کی بھی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں،کرپشن اور فنڈنگ کرنے والے سہولت کار کسی رعایت کے مستحق نہیں ،حقیقت بھی یہی ہے کہ دہشت گردی اور کرپشن کا آپشن میں چولی دامن کا ساتھ ہے اور یہاں کرپشن عروج پرہے بلا امتیاز اور بیک وقت ملک بھر میں آپریشن سے وہ سیاستدان اور سرکاری اہلکار جو کسی نہ کسی طرح دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں اب ان کی ۔توں توں میں میں۔بند ہو جائے گی،پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ کے وزیر قانون کہتے تھے کہ ملٹری کورٹس کے حق میں نہیں ہوں ، بعد میں کہنے لگے ٹھیک ہیں، آرمی کو اس آپریشن کے ساتھ ساتھ جوڈیشل سسٹم پر بھی خاص توجہ دینا ہو گئی جو بھی دہشت گرد شکنجے میں آئے بغیر کسی تاخیر کے انجام کو پہنچ جائے ،ماضی کی طرح نہ ہو کہ دہشت گرد تو سزائے موت سے بچ جائیں اور عام قیدیوں کو لٹکانے کا سلسلہ دوبارہ روازنہ کی بنیاد پر شروع ہو جائے ، حکومتی اتحادیوں نے ہی فوجی عدالتوں کے قیام میں سب سے زیادہ رخنہ اندازی کر رکھی تھی،پی پی پی کہتی تھی کہ اندرون سندھ آپریشن کی ہم اجازت نہیں دیں گے،وہاں امن کب اور کیسے ممکن ہے کہ ایک جگہ آپریشن ہو اور دوسری جگہ اقعات ہو رہے ہوں، بیک وقت پورے ملک میں آپریشن سے ہی امن ممکن ہے، اگر ہم اندرونی لحاظ سے ہی مستحکم نہیں ہوں گے تو بیرونی خطرات سے کیسے نبٹا جا سکتا ہے؟اب اس میں عام آدمی کو بھی کردار ادا کرنا ہو گاسب سے بہتر معلومات عام آدمی ہی دے سکتا ہے ،اس بات کو بھی یقینی بنانا ازحد ضروری ہے کہ اس آپریشن کی آڑ میں کالی بھیڑیں عام آدمیوں،شہریف شہریوں پر قہر بن کر نہ ٹوٹ پڑیں،یہ چیک اینڈ بیلنس انتہائی ضروری ہے،غیر ملکی فنڈنگ بھی وطن عزیز میں فتنہ فساد کی بہت بڑی جڑ ہے اسے بھی روکنا ہو گا ،اس سے گمراہی ،نفرت کو بیج بوئے جاتے ہیں،یہ فتنہ فساد جہاں سے شروع اور جہاں جا کر ختم ہو تا ہے سب کو نیست و نابود کرنا ہوگا،مضبوط،مربوط،بلا تفریق،بلا امتیاز،مصلحتوں سے پاک آپریشن۔دارلفساد۔ملک کو اس کی شادابی ضرور لوٹائے گا،یہ آپریشن دہشت گردوں ،ان کے سہولت کاروں پر کاری ضرب اورعوامی امنگوں کے عین مطابق ہے کیونکہ یہ 20کروڑ عوام کی سلامتی اوران کے ساتھ خون کی ہولی کھیلنے والوں کے لئے عبرت ناک انجام آچکا ہے۔۔