اللہ ربّ العزت کو توبہ بہت پسند ہے ،،،،تحریر: رانا اعجاز حسین

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کو پیدا کیا تو اپنی کتاب میں لکھا اور وہ نوشتہ اس کے پاس عرش پر رکھا ہوا ہے کہ میری رحمت میرے غصے پر غالب ہوگی۔‘‘ (بخاری شریف) جیسا کہ اللہ کی کتاب قرآن مجید کا آغازبھی بسم اللہ الرحمن الرحیم سے ہوتا ہے اس ایک جملہ میں اللہ تعالیٰ کی دو صفات کا ذکر ہے، ایک رحمن، دوسری رحیم، گویا اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے آغاز میں جو تعارف کرایا ہے، وہ بہت رحمت والا، نہایت رحم کرنے والا ہے تاکہ کوئی گناہ گار اس سے مایوس ہو کر شیطان کی راہ پر گامزن رہنے پر مجبور نہ ہو۔ وہ گناہ گار بندہ اللہ کے عذاب کے ذکر کے باوجود نجات و بخشش کے لیے اُسی رحمن و رحیم کی چوکھٹ پر سر جھکائے کیونکہ وہ رحمن اور رحیم ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں، جن میں سے ایک رحمت جن، انسان، جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کے درمیان اُتاری جس سے یہ آپس میں ایک دوسرے پر مہربانی اور رحم کرتے ہیں۔اس رحمت سے وحشی جانور اپنے بچے پر مہربان ہوتے ہیں اور ننانوے رحمتیں محفوظ رکھ چھوڑی ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔ (مسلم شریف)‘‘حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ رات کو اپنا دست رحمت پھیلاتے ہیں تاکہ دن کو برائی کرنے والے کی توبہ قبول فرمائے اور دن کو اپنا دست رحمت پھیلاتے ہیں تاکہ رات کے وقت برائی کرنے والوں کی توبہ قبول فرمائے، اللہ تعالیٰ ایسا ہی کریں گے یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہوگا۔ (مسلم شریف) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ بیان کرتی ہیں سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب کوئی شخص گناہ کاا عتراف کرتا ہے اوراللہ رب العزت کی رحمت کی جانب رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے اور اپنی رحمت سے اس کی جانب رجوع فرماتا ہے۔
ان احادیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ توبہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر خصوصی انعام ہے اگر وہ ہماری نافرمانیوں پر سزا دے تو تب بھی اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کے اس انعام و احسان سے بھی کوئی شخص فائدہ نہ اُٹھائے تو یقیناًبد نصیبی کی بات ہے۔ توبہ وہ نور معرفت اور نور ایمان ہے جو انسان کے دل میں پیدا ہو اور اس کے ذریعہ انسان یہ معلوم کرلے کہ گناہ زہر قاتل ہے۔اور جب انسان یہ دیکھے گا کہ اس نے بہت سا زہر کھا لیا ہے اور ہلاکت کے قریب ہے تو یقیناًاس کے دل میں شرمندگی اور خوف پیدا ہوگا اس شخص کی طرح جو زہر کھانے سے پریشان ہو اور موت سے ڈرگیا اب وہ پریشانی اور خوف کی وجہ سے اپنے حلق میں انگلی ڈال کر قے کرنے لگتا ہے اور پھر دوا کی تلاش کرتا ہے تاکہ بقیہ اثر بھی ختم ہو جائے بالکل اسی طرح جب گناہگار انسان یہ دیکھتا ہے کہ اس نے جو گناہ کیا وہ زہریلے شہد کی طرح ہے جو خود تو میٹھا تھا لیکن نتیجتاً تکلیف دہ تھا تو اس طرح وہ گذشتہ اعمال پر شرمندہ ہوتا اور خوف کی آگ اس کے دل میں سلگنے لگتی ہے ،کہ اب وہ تباہ و برباد ہوگیا۔ اس خوف و دہشت کی آگ سے گناہ اور نافرمانی کا شوق بالکل نہ رہااوریہ پختہ ارادہ کہ میں گذشتہ ایام کے گناہوں کی معافی مانگوں گا اور آئندہ کبھی گناہ اور نافرمانی کا نام نہ لوں گا،ظلم و گناہ سے بازرہ کر اطاعت و فرمانبرداری کا راستہ اختیار کروں گا۔ جس طرح پہلے وہ ناز و خوشی اور غفلت میں ڈوبا ہوا تھا اب وہ مکمل طور پر گڑ گڑائے اور اس سے مسرت اور بے قراری کا ظہور ہونے لگے جس طرح وہ پہلے غافل لوگوں کی مجلس میں بیٹھتا تھا اب علماء، صلحاء کی صحبت میں بیٹھے۔
توبہ کرنا ہر وقت ہر ایک پر ضروری ہے جب کوئی بچہ بالغ ہو اور وہ حالت گناہ میں ہو تواس پر توبہ کرنا لازم ہے تا کہ وہ گناہ چھوڑ دے اگر اپنے دل سے غافل ہے تو اس کے لیے اس غفلت سے توبہ کرنا واجب ہے ایسا طریقہ اختیار کرے کہ جس سے اس کا دل حقیقت ایمان سے باخبر ہو جائے مقصد اس سے صرف اتنا ہے کہ ایمان کا مسلمان کے دل پر ایسا غلبہ ہو جائے کہ دل اس کا بالکل تابع بن جائے۔ اور اس غلبہ کی علامت یہ ہے کہ جن اعمال کا تعلق مسلمان کے جسم سے ہے وہ تمام اعمال کامل ایمان کے حکم کے مطابق ہوں ا ن میں شیطان کی فرمانبرداری کا شائبہ تک نہ ہو کیونکہ نا فرمان اور گناہگار مسلمان کا ایمان کامل نہیں ہوتا۔ہر گناہ سے توبہ کرنا ضروری ہے کہ اگر گناہ بندے اور اللہ رب العزت کے درمیان حائل ہے یعنی بندے نے صرف اللہ تعالیٰ کی حق تلفی اور نافرمانی کی ہے تو ایسی حالت میں توبہ اس طرح کی جائے (۱)گناہ سے بالکل باز آجائے (۲) اپنے کئے پر شرمسار ہو (۳) آئندہ کے لئے اس گناہ سے باز رہنے کا دل میں پختہ ارادہ ہو۔ ان تین شرطوں میں سے اگر کوئی ایک شرط نہ پائی گئی تو توبہ صحیح نہ ہوگی۔ اوراگر حق تلفی کا تعلق کسی بندے اور انسان سے ہو تو پھر توبہ کی قبولیت کے لیے چار شرطیں ہیں تین پہلے والی اور چوتھی صاحب حق کو اس کا حق دے کر اور اگر مال وغیرہ تلف کیا ہے تو واپس کرے ،اگر تہمت لگائی ہے تو ا سے شرعی سزا دینے کا موقع دے یا اس سے معاف کرائے ،اگر غیبت کی تھی تو اس سے معافی مانگے تو یہ ندامت کا نام ہے جتنی بڑی ندامت ہوگی اتنی جلدی توبہ قبول ہوگی ۔
حضرت عمر بن خطابؓ ایک بار مدینہ منورہ کی گلی سے گزر رہے تھے کہ ایک جوان سامنے آیا اس نے کپڑوں میں ایک بوتل چھپا رکھی تھی، حضرت عمرؓ نے پوچھا اے نوجوان یہ کپڑوں میں کیا چھپارکھا ہے۔ اس بوتل میں شراب تھی۔ نوجوان نے اسے شراب کہنے میں شرمندگی محسوس کی۔ اس نے دل میں دعا کی یا اللہ مجھے حضرت عمرؓ کے سامنے شرمندہ اور رسوا نہ فرمانا ان کے ہاں میری پردہ پوشی فرمانا۔ میں کبھی شراب نہ پیوں گا اس کے بعد نوجوان نے عرض کیا۔ اے امیر المومنین! میں سر کہ کی بوتل اُٹھائے ہوئے ہوں۔ آپ نے فرمایا مجھے دکھاؤ، جب نوجوان نے ان کے سامنے کی تو حضرت عمرؓ نے اسے دیکھا تو وہ سرکہ ہی تھا۔
اس حکایت میں دیکھنے کی بات یہ ہے کہ مخلوق کے ڈر سے توبہ کی تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے شراب کو سرکہ بنا دیا۔ لیکن اگر کوئی گناہ گارشخص جو برے اعمال کی وجہ سے ویران ہو چکا ہو خالص توبہ کرے اپنے کئے پر نادم ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کی شراب کو نیکی کے سر کے میں بدل دے گا۔ایک مسلما ن کی زندگی میں توبہ کی بڑی اہمیت ہے وہ گنا ہ کرتا ہے غلطیاں کرتا ہے ظلم کرتا ہے اگر وہ اللہ رب العزت کی بارگا ہ میں جھک جاتا ہے توبہ کرتا ہے عاجزی کرتا ہے روتا ہے ۔اور خوب روتا ہے ۔تو یقیناًتوبہ قبول ہوجاتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ وہ پھر گنا ہ کرتا پھرے ۔
اللہ رب العزت کو توبہ بہت پسند ہے جو لوگ اسکی بارگاہ میں جھکتے ہیں وہ ان سے محبت کرتا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں آتا ہے ۔’’ان اللہ یحب التوابین ‘‘بے شک اللہ رب العزت توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی اس قلیل زندگی کے یک ایک لمحے کو نیکیوں سے قیمتی بنائیں اور جلد از جلد اپنے گناہوں سے سچی توبہ کریں اس سے پہلے کہ توبہ کا وقت نہ رہے اور وقت قضاء آجائے۔ اللہ پاک ہمیں سچی و پکی توبہ کرنے کی توفیق عطاء فرمائے جو اتنی کامل اور اکمل ہو کہ ہمیشہ کے لیے ہمارے اور گناہوں کے درمیان اتنا فاصلہ کردے جتنا مشرق سے مغرب میں ہے۔ آمین