چین ’’ردالفساد‘‘ کا حامی، پاکستان سے جوہری تعاون بڑھانے کا اعلان

بیجنگ: چین نے پاکستان کی طرف سے دہشت گردوں کی باقیات کے خاتمے کیلیے شروع کیے گئے آپریشن ’’ردالفساد‘‘ کی بھرپورحمایت کااعلان کردیا۔
چینی محکمہ قومی توانائی (این ای اے ) کے ایک سینئراہلکارکے مطابق چین جوہری بجلی کی ترقی میں پاکستان کیساتھ تعاون کو مزید مستحکم بنائے گا۔ دوسری جانب ترجمان چینی وزارت خارجہ گینگ شوانگ نے پریس بریفنگ کے دوران کہاکہ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کیلیے بھرپور کارروائیاں کی ہیں اور وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرے گا۔ ہم پاکستان میں حالیہ دہشت گردحملوں سے باخبر ہیں اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی حمایت جاری رکھیں گے جبکہ ترجمان نے پاکستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت کااظہار کیا۔
چینی میڈیا کے مطابق چین توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے جوہری بجلی کی ترقی میں پاکستان اور بعض دوسرے ممالک کے ساتھ اپنے تعاون میں اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، چین کے محکمہ قومی توانائی (این ای اے ) کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ مجموعی پیداواری گنجائش 9.9گیگاواٹس کے ساتھ رواں سال 8ری ایکٹروں کی تعمیرشروع کر کے اس سلسلے میں چین پاکستان کے ساتھ بھی اپنے تعاون میں اضافہ کرے گا۔
ادھر بیجنگ میں قائم صنعتی مشاورتی ادارے چائنا انرجی نیٹ کنسلٹنگ کمپنی کے چیف انفارمیشن افسر ہان شیاؤ نے کہا کہ جوہری بجلی گھروں کی تعمیر میں آٹھ یونٹوں (جن کی تعمیر جلد شروع ہوگی) کی تیاری میں کم ازکم 10 سال درکار ہوتے ہیں۔ جوہری بجلی کے شعبے میں امریکا اور روس کے ساتھ فنی تعاون کو مستحکم بنارہے اورپاکستان، ترکی ، رومانیہ اور ارجنٹائن کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دے رہے ہیں۔
معروف چینی اخبار’’پیپلز ڈیلی‘‘ کی رپورٹ کے مطابق سی پیک نے پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے دروازے کھول دیے، چین رواں سال عالمی تعاون کی غرض سے بیجنگ میں ’’ایک پٹی ایک سڑک‘‘ فورم کی میزبانی کریگاجس کا مقصد تعاون کو مزید فروغ دیناہے۔ ایک پٹی ایک سڑک اقدام کے تحت شاہراہ ریشم اقتصادی پٹی اور 21ویں صدی میری ٹائم سلک روڈ تعمیر کی جائے گی جس کامقصد قدیم تجارتی راستے پر ایشیا کو یورپ اور افریقہ کیساتھ منسلک کرنے کی غرض سے تجارتی انفرااسٹرکچر نیٹ ورک تعمیر کرنا ہے۔
دوسری جانب چین نے کہاکہ بھارت کے ساتھ سٹریٹجک مذاکرات اہمیت کے حامل ہیں ، دوررس نتائج کے حامل معاہدے کے قریب پہنچ چکے تاہم نیوکلیئر سپلائرز گروپ (ین ایس جی)میں بھارت کی شمولیت اورکالعدم جیش محمدکے سربراہ مسعود اظہر پرپابندی پر اختلافات برقرار ہیں، ان ہی دو معاملات کے باعث دونوںکے درمیان دو طرفہ تعلقات نہیں بلکہ کثیر الجہتی تعلقات میں اختلافات برقرار ہیں۔
علاوہ ازیں چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گنگ شانگ نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہاکہ دونوں ممالک کے مذاکرات اور دو طرفہ تعلقات مثبت سمت کی طرف گامزن ہیں۔ اسٹریٹجک مذاکرات دوستانہ ماحول میں ہوئے جس میں وسیع معاہدوں پر جامع خیالات کا تبادلہ کیا گیا۔ چین اور بھارت کی مستحکم ترقی دونوں ممالک کے عوام کے لیے بہتر ہے، فریقین نے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدوں کی روح کے مطابق دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے پر اتفاق کیا۔
بھارتی سیکریٹری خارجہ جے شنکر کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں دو طرفہ امور پرگفتگو کی گئی، چین نے این ایس جی میں بھارتی رکنیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس حوالے سے طریقہ کارکاجائزہ لے رہے ہیں، اس وقت ہم جہاں کھڑے ہیں، وہ اس صورتحال سے مختلف ہے جہاں ہم پہلے تھے، اس وقت ہم اچھی جگہ پر ہیں۔