دین حق زبانی کہنے کی بات نہیں،عمل کا نام ہے ۔ مولانا امیر محمد اکرم اعوان

پریس ریلیز

اسلام میں یہ کوئی تصور نہیں کہ ریاست اسلامی ہے لیکن کام کوئی بھی اسلامی نہیں اسلام کا کہیں کوئی نشان نہیں ہے۔یہی حال عوام کا ہے کہ اکثریت ان لوگوں کی ہے کہ حج عمرے بھی کر آتے ہیں حلیہ بھی مسلمانوں جیسا نمازیں بھی پڑھتے ہیں لیکن کوئی گنا ہ بھی نہیں چھوڑ رہے کردار سے عاری ہوچکے ہیں۔ان خیالات کا اظہار شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ مولانا امیر محمد اکرم اعوان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
انہوں نے کہا کہ اسلام کردار کا نام ہے ۔عقیدہ تو ایک دعوی ہے اعمال شہادت دیتے ہیں۔حقیقی نماز پڑھی جائے تو لازمی کردار کی اصلا ح ہوتی ہے دکھاوے کی نمازوں سے کردار میں مزید خرابی پیدا ہوتی ہے ۔جدید تہذیب نے انسانوں کو ایک دوسرے سے بہت دور کر دیا ہے ایک دوسرے کے حال کی خبر نہیں دورِ جہالت سے بھی آگے کسی گہرائی میں پھینک دیا ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہماری ترجیہات تبدیل ہوچکی ہیں ۔دین کی جگہ دنیا نے لے لی ہے ۔ہم کہیں کھو چکے ہیں ہمیں اپنی ترجیہات کو اسلامی کرنا ہو گا۔دنیا اتنی لذیز اور حسین ہے کہ اس نے انسانوں سے اللہ کی بارگاہ چھڑا دی ۔لیکن اس دنیا میں وہی پھنستا ہے جو اللہ کی عظمت سے نا آشنا ہے ۔اگر ہم عظمت الٰہی کی لذت سے آشنا ہی نہیں ہونگے پھر کیسے پتہ چلے گا کہ لذت دین میں ہے یا دنیا میں۔
آج فرصت ہے آج سوچو ہم دنیا کے پیچھے لگے رہیں گے کہاں تک لے جائیں گے کیا کر لیں گے ۔موت کی تلخی ساری لذتیں مٹا دیتی ہے ۔اہمیت کی بات ہے کہ ہم کس چیز کو اہمیت دے رہے ہیں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔