فرانسیسی فنکار پتھر میں قید ہوگیا

پیرس: خطرناک اور عجیب و غریب چیلنجز قبول کرنے والے فرانسیسی فن کار ابراہم پونشی ویل نے اب اپنے ایک نئے پروجیکٹ میں دنیا کو حیران کردیا ہے جس میں وہ لگاتار 8 روز تک ایک بڑی چٹان کے اندر قید رہیں گے۔
ابرہم پونشی ویل پیرس میں ایک مصور کی مشہور ٹوکیو گیلری میں 22 فروری کو چٹان میں بند ہوئے ہیں اور اب وہ یکم مارچ تک اس میں بند رہیں گے۔ اس پتھریلے قید خانے میں کچھ اس طرح سانچہ بنایا گیا ہے کہ اس میں صرف بیٹھا جاسکتا ہے جب کہ سانس لینے کی ایک چھوٹی سی جھری بنائی گئی ہے۔
فنکار کا کہنا ہےکہ چٹان کا یہ ٹکڑا اندر سے تھوڑا نمی سے بھرپور ہے لیکن میں اس میں بند ہوکر گویا پتھر کے ساتھ سانس لینا چاہتا ہوں۔
ابراہم کے مطابق وہ ایک عرصے سے پتھر میں بند ہونے کی منصوبہ بندی کررہے تھے لیکن ذہنی طور پر تیار نہ تھے تاہم اب وہ پرامید ہیں کہ یہ تجربہ کامیاب ہوگا جس میں معمولی غلطی سے ان کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے، اسی لیے ان کے جسم کے مختلف حصوں پر دل کی دھڑکن سے لے کر بلڈ پریشر ناپنے والے آلات لگائے گئے ہیں اور باہر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم ان کا جائزہ لیتی رہے گی۔ اس کے علاوہ چٹان کے اندر ایک چھوٹا کیمرہ بھی لگایا گیا ہے جو ان کی ویڈیو باہر دکھاتا رہے گا۔
پتھر کے ایک کونے میں خشک گوشت، سوپ اور بہت سارے جوس رکھے گئے ہیں لیکن دو پتھریلے ٹکڑوں کے درمیان تنہا رہتے ہوئے وہ اپنا احساس بھی کھوسکتے ہیں یا ان کا نروس بریک ڈاؤن بھی ہوسکتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے اگر لوگ چاہیں تو پتھر کے باہر سے انہیں پکار کر ان سے بات کرسکتے ہیں۔
ابراہم کے مطابق وہ جوس کی خالی بوتلوں اور ایک ڈبے میں اپنا مائع اور ٹھوس فضلہ خارج کریں گے لیکن جب ان سے بو کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ بدبو پتھر جذب کرلے گا۔
ابراہم پونشی ویل اس سے قبل بھی کئی کارنامے کر چکے ہیں جن میں ریچھ کی کھال میں بند ہونا، فرانس کی ایک لائبریری کے فرش میں ایک ہفتے کے لیے دفن ہونا اور خالی بوتل میں بند ہوکر دریا پار کرنا شامل ہے۔