( نمک کا شہر کھیوڑہ ۔۔۔۔۔برسوں بعد ) تحریر : احسا ن شاکر

جب بیس سال کی طویل مدت کے بعد نمک کی سرزمین کھیوڑہ میں داخل ہوا تو سید انصرؔ صاحب کا یہ مشہور زمانہ شعر میرے ذہن کے ساتھ ساتھ میرے لبوں پر بھی آ گیا
جیون راہ پہ چلتے چلتے مڑ کر دیکھا برسوں بعد
کیا کھویا کیا پایا ہم نے آج یہ جانا برسوں بعد
یوں تو پنڈدادنخان کے لاری اڈے پہ اترتے ہی جب اپنے ارد گرد نگاہ دوڑائی تو مجھے شک ہونے لگا کہ ضلع جہلم کی اس تحصیل کی حالت باقی تحصیلوں کے مقابلے میں خراب ہی ہوگی۔لیکن جب پنڈدادنخان سے کھیوڑہ نمک کی کان تک جانے والی سڑک اور اس کے آس پاس کو دیکھا تو میرا یہ شک یقین میں بدل گیا۔خاص طور پر جب کھیوڑہ ریلوے اسٹیشن پر پہنچا تو وہاں سر پکڑ کر رونے کو دل چاہاکیونکہ وہ ریلوے اسٹیشن جو آج سے بیس سال قبل اس شہر کی خوبصورتی کی ایک وجہ ہوا کرتا تھا آج اس شہر کی بدحالی کا چیخ چیخ کر اعلان کرتا دکھائی دے رہا تھا۔کتنی رونق ہواکرتی تھی اس ریلوے اسٹیشن پر ، ریل گاڑی کے آنے جانے سے نہ صرف یہاں نمک کی کان اور دیگر دوفیکٹریوں میں ملحقہ علاقوں سے آنے والے مزدوروں اور ملازموں کو آنے جانے میں آسانی تھی بلکہ صبح اور شام ریل گاڑی کی آواز ایک خوبصورت تاثر چھوڑا کرتی تھی ہم بھی بچپن میں اس ریل گاڑی کو آتا جاتا دیکھ کر بہت لطف اندوز ہوا کرتے تھے،کتنے لوگوں کا روزگار منسلک تھا اس ریل گاڑی اور ریلوے اسٹیشن کے ساتھ!لیکن اب
سب کچھ ختم ہو گیا تھا کیونکہ اب اس علاقے میں پاکستان ریلوے نے ریل گاڑی کی آمدورفت ختم کردی ہے۔جب سے خواجہ سعد رفیق نے ریلوے کی وزارت سنبھالی ہے ٹرین کے اتنے زیادہ حادثات کی وجہ سے میں اب ہر ریلوے پھاٹک سے بڑی احتیاط کے ساتھ گزرتا ہوں مگر جب کھیوڑہ کے ریلوے پھاٹک سے گزرتے ہوئے میں نے اسی احتیاط کا مظاہرہ کیا تو مجھے بتایا گیا کہ یہاں احتیاط کی ضرورت نہیں کیونکہ یہاں کسی ایسے حادثے کی توقع ہی نہیں ہے۔۔۔۔۔ریلوے اسٹیشن کے ساتھ ایک گول بازار ہوا کرتا تھا جہاں ہمہ وقت چہل پہل دکھائی دیا کرتی تھی مگر اب یہ جگہ کسی بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہی تھی۔کھیوڑہ شہر میں ایسے علاقے جو بیس سال قبل غیر آباد تھے اب وہ آباد تو ہوگئے ہیں مگر مجھے یہاں لوگوں کے چہروں، ان کے رہن سہن اور معاشی صورت حال دیکھ کر کسی بھی طرح کی خوشحالی نظر نہ آئی۔بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ تو اب ہمارا ایک بہت بڑا قومی مسئلہ بن چکا ہے چنانچہ اس مسئلے نے وہاں بھی میرا بھرپور ساتھ دیا لیکن کھیوڑہ شہر بلکہ ساری تحصیل پنڈ دادنخان کا ایک مسئلہ ایسا بھی ہے کہ جسے اگر سب سے بڑا مسئلہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا وہ مسئلہ ہے پینے کے پانی کا ۔بیس سال قبل پینے کے پانی کے مسئلے کو جہاں چھوڑ کے آیا تھا مجھے اب بھی وہ وہیں کا وہیں نظر آیا۔میں نے وہاں کے لوگوں سے سوال کیا کہ کیا یہاں کے لوگ کسی حکومت مخالف شخصیت کو ووٹ دیتے رہے ہیں ؟یا یہاں پینے کے پانی کے مسئلے کا حل ناممکن ہے؟ تو جواب ملانہیں یہاں کے لوگ تو کئی برسوں سے مسلم لیگ(ن) کے ایم این اے اور ایم پی اے کوہی ووٹ دیتے رہے ہیں اور یہ مسئلہ حل بھی ہوسکتا تھا مگر پتہ نہیں کیوں آج تک اس کو حل کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔
کھیوڑہ شہر میں بیس سال کے بعد ان بیس دنوں میں مجھے یہاں جو مایوسی اور بدحالی نظر آئی اس کے ذمہ داران صرف یہاں کے سیاست دان ہی نہیں بلکہ اہل علاقہ بھی ہیں کیونکہ انھوں نے آنکھیں بند کرکے اپنے ووٹ کا استعمال کیا اور اگر ووٹ کسی امید پر دیئے تھے تو پھر اپنے منتخب کردہ نمائندوں کو اپنے مسائل سے آگاہ نہ کرسکے۔

مجھے ان بیس دنوں میں اگر کوئی امید کی کرن نظر آئی تو وہ یہاں کی نوجوان قیادت کی صورت میں نظر آئی ۔ان میں سے ایک تو مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر کھیوڑہ شہر کے منتخب چئیرمین ملک فیصل عباس تھے۔ان کو منتخب کرکے اہل علاقہ نے اپنی ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کر دیا ہے ملک فیصل عباس سے تفصیلی ملاقات کے بعد اندازہ ہوا کہ اب ان شاء اللہ اس شہر کی بالخصوص اور تحصیل پنڈ دادنخان کی بالعموم تقدیرضرور بدلے گی۔ملک شوکت حیات اعوان ان کے ساتھ وائس چئیرمین ہیں امید ہے کہ جب Youthاور Experience کا Combination سچے دل اور لگن کے ساتھ کھیوڑہ شہر کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرے گا تویہاں کی صورت حال ضرور تبدیل ہوگی۔دوسری نوجوان قیادت جسے دیکھ کر میری حوصلہ افزائی ہوئی وہ پاکستان تحریک انصاف کے نوجوان رہنما ملک عبید تھے۔ملک عبید نے بہت ہی تھوڑے عرصے میں مسلم لیگ(ن) کے قائدین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اب کھیوڑہ شہر میں ان کی سیاسی کامیابی تبھی ممکن ہے جب وہ اس علاقے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اقدامات اٹھائیں
گے۔اگر انھوں نے ماضی کی روش ترک نہ کی تو پاکستان تحریک انصاف سیاسی میدان میں اان کی جگہ لے لے گی۔این اے 63جہلم میں ہونے والے گزشتہ ضمنی انتخابات میں کھیوڑہ شہر سے پاکستان تحریک انصاف کی غیر متوقع کامیابی دیکھ کر ہمیں اس چیز کا احساس ہو چکا ہے۔ امید ہے کہ ان شاء اللہ جب اگلے بیس سال کے بعد کوئی صحافی یا کالم نگار اس علاقے میں جا کر اپنے تاثرات قلم بند کرے گا تو اس کی رائے مجھ سے بہت زیادہ مختلف ہوگی۔