کھیوڑہ میں تحریکِ انصاف دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی۔اختلاف کا اثر آمدہ الیکشن میں پارٹی کے امیدوار کی کامیابی پر ضرور پڑے گا۔

کھیوڑہ ( راجہ فیاض الحسن) کھیوڑہ میں تحریکِ انصاف دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق کھیوڑہ شہر میں تحریکِ انصاف کو متعارف کرانے والا معدنی نمک کا تاجر ملک انوار اعوان ہے۔ محمود مرزا جہلمی حلقہ سے پہلا تحریکِ انصاف کی جانب سے قومی اسمبلی کا امیدوار تھا۔جب پہلے دن جہلی کھیوڑہ میں چوہان کے ساتھ جلسہ کرنے آیا تو جلسہ کے شرکا کی تعداد کل 25 نوجوان لڑکے تھے ۔ ان نوجوانوں کی قیادت انوار اعوان کا بیٹا عبید اعوان کر رہا تھا۔ یہ عظیم و عالیشان جلسہ 15 منٹ سے کم وقت میں ختم ہو گیا تھا۔ اس تاریخی جلسہ کا انعقاد حیدری چوک کے نزدیک ہوا تھا۔ یہ کھیوڑہ میں تحریکِ انصاف کا صفر سے آغاز تھا۔ محمود مرزا جہلمی نے ہمت نہیں ہاری اور بے پناہ محنت کی ۔انوار اعوان نے بھی ساتھ دیا۔ ملک سلیم اصغر اور مرزا دلدار حسین بھی شامل ہو گئے جنھوں نے دن اور رات ایک کر کے شہر میں تحریک کی تنظیم سازی کر دی۔ 2013 ؁ کا الیکشن ہوا تو حلقہ اور کھیوڑہ شہر سے پارٹی بری طرح ہار گئی۔ بلدیاتی الیکشن میں کھیوڑہ سے پارٹی کی پوری تنظیم ہار گئی البتہ تحریک کے ٹکٹ ہولڈر صرف دو امیدوار جیت سکے اور اس کامیابی میں بھی ان امیدواروں کی برادریوں کا کمال تھا نہ کہ تحریک کا کوئی کردار۔ محمود مرزا جہلمی حلقہ یا کھیوڑہ سے کسی ایک بھی قابلِ ذکر سیاسی شخصیت کو پارٹی میں شامل نہ کر سکے۔ ووٹر اور سیاسی حلقے اس نتیجہ پر پہنچے تھے کہ محمود مرزا جہلمی کمزور راہ نماہے ۔ تحریک نے اپنے ووٹروں سے بذریعہ ٹکسٹ میسج چودھری فواد حسین اور محمود مرزا جہلمی میں سے ایک کو منتخب کرنے کو کہا تو کارکنان نے فواد کے حق میں رائے دی۔ یوں 2016 ؁ کے ضمنی الیکشن میں تحریک نے چودھری فواد حسین کو پارٹی ٹکٹ دے دیا۔ فواد میں خوبیاں بے شمار ہیں جس وجہ سے کھیوڑہ کے شہری فواد کے عاشق ہو گئے۔ انھوں نے نعرہ ایجاد کر دیا کہ فواد آیا تے سواد آیا۔ ضمنی الیکشن میں کھیوڑہ والوں نے فواد کو واضع اکثریت سے کامیاب کر دیا۔ گزشتہ ستر برسوں میں یہ دوسری مرتبہ ہوا تھا کہ کھیوڑہ سے مسلم لیگ کو شکست ہوئی تھی ۔ پہلی مرتبہ 1970 ؁ میں اور دوسری مرتبہ اب 2016 ؁ میں اس شہر سے مسلم لیگ ہاری تھی۔مگر اس الیکشن کے بعد ضلع جہلم میں تحریک دو حصوں میں بٹ گئی۔ اس تقسیم کا اثر کھیوڑہ میں بھی آیا۔ ضلعئی تنظیم نے سٹی صدارت عبید انوار کو دے کر شہر میں تنظیم سازی کا ٹاسک دے دیا۔ اس تنظیم کو تا حال زیادہ عوامی حمائت حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ لہذاتنظیم سازی کے نام پر اس نے اکثربے نامی قسم کے لوگوں کو عہدے دے کر ٹوٹل پوراکر دیا ہے۔ اس دھڑے کی قیادت جلالپور کے گدی نشین پیر انیس حیدر شاہ جو پارٹی چئرمین عمران خان کے سیاسی مشیر ہیں وہ کر رہے ہیں۔ زبان زدِ عام ہے کہ پیر صاحب کی دلچسپی اپنے امریکہ پلٹ عزیز نعمان شاہ کو NA63 کا پارٹی ٹکٹ دلوانے میں ہے۔ دوسری جانب اسی حلقہ کا سابقہ امیدوار چودھری فواد حسین بھی پارٹی چئرمین عمران خان کا ترجمان نامزد ہو گیا ہے۔ فواد نے کھیوڑہ میں ملک سلیم اصغر کے گروپ کو فعال کر دیا ہے۔ 2016 ؁ کے ضمنی الیکشن میں یہی دھڑا پارٹی کی تنظیم تھا۔مگر اس الیکشن میں اس دھڑے کی کارکردگی انتہائی ناقص تھی۔ اس نظیم نے نہ تو سارے پولنگ ایجنٹ تعینات کئے تھے اور نہ ہی ٹرانسپورٹ اور کھانے وغیرہ کا انتظام کیا تھا۔ اسی وجہ سے جیت جانے کے باوجود پارٹی کو اتنے ووٹ نہیں مل سکے جتنے آسانی سے مل سکتے تھے۔ چونکہ اس گروپ کو پارٹی کی ضلئی تنظیم تسلیم نہیں کرتی اس لئے انھوں نے خود ہی آپس میں فرضی عہدے تقسیم کرنے شروع کر دئے۔ان عہدوں کی کوئی چٹھی، سند ، نوٹیفکیشن یا پارٹی کی رضا مندی کچھ بھی نہیں ہے البتہ شہر کے ووٹر اور کارکنان کی بڑی تعداد اس دھڑے کے ساتھ ہے۔کھیوڑہ میں تحریک انصاف کے دونوں دھڑوں میں اختلافات اس قدر بڑھ طکے ہیں کہ اب ان کا ملاپ تقریباً نا ممکن ہو چکا ہے۔اور اس اختلاف کا اثر آمدہ الیکشن میں پارٹی کے امیدوار کی کامیابی پر ضرور پڑے گا۔