صدر جہلم چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ،،،،ارشد محمود

بلاشبہ ضلع جہلم پاکستان کا ایک بہت اہم ضلع ہے جس کی اہمیت کو کسی طو رپر بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جپسم اور ماربل کے علاوہ دنیا کی نمایاں ترین نمک کی کان اس ضلع میں ہے،پاکستان آرمی میں بڑے بڑے جنگجو اس ضلع سے تعلق رکھتے ہیں ،پاکستان بھر میں سب سے زیادہ بیرون ملک اس ضلع کے باسی ہیں جو خطیر زرمبادلہ وطن عزیز کو بھیجتے رہتے ہیں خواندگی کے لحاظ سے ضلع جہلم کی پوزیشن بہت بہتر ہے جو کہ 84%بنتی ہے اس ضلع کے پرامن عوام نے کبھی بھی کسی حکومت وقت کو پریشان نہیں کیا۔یوٹیلٹی بلز کی ریکوری 100%ہے۔باہر سے پوسٹڈ آفیسران ،ڈاکٹرز اور دیگر شعبہ جات کے ایگزیکٹو مستقل طو رپر اس ضلع میں سکونت اختیار کرنے کی خواہش کرتے ہیں اور بہت سے لوگ رہ بھی رہے ہیں ،ہر ایک کا احترام کرنا یہاں کے لوگوں کا طرہ امتیاز ہے۔باوجود ان سب کو الٹیز کے یہ ضلع پھر بھی پسماندہ کا پسماندہ ہے،ترقیاتی کاموں کی رفتار دوسرے اضلاع کے مقابلے میں ہمیشہ بہت سست رہی۔
عظیم دریائے جہلم کے کنارے یورپی یونین کے تعاون سے بن اور روڈ اور وزٹنگ پوائنٹ بننے کی نوید کئی سالوں سے سن رہے ہیں لیکن یہاں کے حکام بالا کی عدم دلچسپی کی وجہ سے یہ منصوبہ عمل پیرا نہ ہو سکا،کینٹ اور شہر کو ملانے والے چوک میں بائی پاس ،انڈر پاس یا اوور ہیڈ برج نہ ہونے کی وجہ سے سکولوں کے ٹائم گھنٹہ گھنٹہ ٹریفک جام رہتی ہے جو نہ صرف شہریوں کیلئے بلکہ جی ٹی روڈ پر سفر کرنے والوں کیلئے تکلیف کا باعث بنتی ہے۔
پینتیس برس پہلے بننے والی سمال انڈسٹری میں ابھی تک سوئی گیس نہیں لگ سکی باوجود اس کے کہ گیس کے حصول کیلئے تمام فارمیلیٹیز کئی برس پہلے سے پوری کی جا چکی ہیں اور محکمہ کے پاس 92لاکھ روپے کی شکل میں خطیر رقم کئی برسوں سے ہے ،گیس کی عدم دستیابی کی وجہ سے وہاں لگنے والی صنعتوں کی حالت نہایت ابتر ہے،بہت جوش و خروش سے بیرون ملک سے آکر صنعتیں لگانے والے گیس کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے مایوسی کے عالم میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر چلے گئے۔
موٹروے کا جہلم شہر سے دور دور تک بھی کوئی لنک نہیں اور اب سی پیک جس کی گونج پورے ملک میں ہے کا بھی کوئی لنک یہاں پر نہیں جس کی وجہ سے سی پیک کے ثمرات ضلع جہلم کے عوام تک کبھی نہ پہنچ پائیں گے ۔لوڈشیڈنگ میں بھی یہ ضلع سب سے آگے ہے،پورے پاکستان میں سب سے زیادہ لوڈشیڈنگ اس ضلع میں ہوتی ہے اور یہی صورتحال گیس کی لوڈشیڈنگ کی بھی ہے۔
میں پورے شہر اور ضلع کی عوام کی طرف سے مرکزی اور صوبائی حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ خدارا اس ضلع کو بھی پاکستان کا ضلع تصور کرتے ہوئے اس کے مسائل کی طرف بھی توجہ دیں اس دور میں جب پنجاب کے ہر ضلع میں ترقیاتی کاموں کی مد میں اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں اور ہیڈ برج ،میٹروبس ،اورنج ٹرین ،سکول ،کالجز ،یونیورسٹیاں ،ہسپتال اور پارکوں کا جال بُنا جارہا ہے تو اس ضلع کو یکسر نظر انداز کرنا بہت بڑی زیادتی ہے۔