،نیلامی کے بغیر رکشہ ڈرائیوروں سے پرچی کے نام پر بھتہ وصولی کے خلاف رکشہ ڈرائیوروں کا احتجاج

سوہاوہ ( بشیر احمد تارڑ سے ) چند دن بند رہنے والی بھتہ وصولی دوبارہ شروع ،نیلامی کے بغیر رکشہ ڈرائیوروں سے پرچی کے نام پر بھتہ وصولی کے خلاف رکشہ ڈرائیوروں کا احتجاج اے سی سوہاوہ سیاسیوں کے آگے بے بس یا مک مکا نے کام کر دکھایا تفصیلات کے مطابق عرصہ دراز سے ٹی ایم اے کی ملی بھگت سے سروس روڈ پر کھڑے رکشہ ڈرائیوروں سے پرچی وصول کی جا رہی تھی جس کا اسسٹنٹ کمشنر سوہاوہ محمد اعجاز ملک نے نوٹس لیتے ہوئے ٹھیکداروں کو پرچی وصولی سے روک دیا اور رکشہ اسٹینڈ بننے اور نیلامی تک رکشہ ڈرائیوروں کو پرچی دینے سے روک دیا جس پر پرچی کے نام پر بھتہ لینے والوں نے سیاسی آقاوں کی مدد سے پرچی دوبارہ بحال کروانے کے لئے اپنی کوششیں شروع کر دیں اور گزشتہ روز رکشہ ڈرائیوروں سے ٹھیکدار کے کارندوں رکشہ ڈرائیوروں سے پرچی وصولی شروع کی تو رکشہ ڈرائیوروں نے احتجاج کرنا شروع کر دیا ۔رکشہ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ ہمارے کے لئے کوئی اسٹینڈ نہ ہے ہم سروس روڈ پر کھڑے ہوتے ہیں تو موٹر وے پولیس والے چالان کرتے ہیں جبکہ رکشہ اسٹینڈ نہ ہونے کے باوجود ہم سے زبردستی پرچی فیس وصول کی جاتی ہے جو کہ سراسر زیادتی ہے ۔اسسٹنٹ کمشنر سوہاوہ نے پرچی وصولی کو ناجائز قرار دیتے ہوئے اسے بند کرنے کا حکم دیا تھا لیکن چار دن بھی نہ گزرے تھے کہ رکشہ ڈرائیوروں سے دوبارہ پرچی وصولی شروع کر دی گئی ہے۔ناجائز قرار دے کر پرچی وصولی کو روکنے کے بعد دوبارہ بحالی نے کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں کیونکہ پرچی وصول کرنے والوں کا تعلق مسلم لیگ ن کے نو منتخب وائس چیئر مین واجد اقبال بٹ سے ہے جس سے واضح ہو رہا ہے کہ یا تو اے سی سوہاوہ سیاسیوں کے آگے بے بس ہو کر خاموش ہو گے ہیں یا پھر مک مکا نے سب جائز قرار دے دیا ہے ۔رکشہ ڈرائیوروں نے کمشنر راولپنڈی اور ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ رکشہ اسٹینڈ بننے اورنیلامی تک اس پرچی کے نام پر لیے جانے والے بھتہ کو بند کروائیں ۔بصورت دیگر ہم بھر پوراحتجا ج کرنے پر مجبور ہونگے ۔