بھارت کے پیٹ میں چمونے! ،،،،،،،،،،،تحریر: ڈاکٹر تصور حسین مرزا

برما میں مسلمانوں پر قیامت جو ڈھائی جارہی ہے اس کی وجہ انسانی سمگلنگ ہے۔ یہ بہتان یہ افواہیں۔یہ خبریں جھوٹ کا پلندہ ہے کتنا بڑا بہتان ہیں بے چارے برما کے مسلمانوں پر جنکو کفار بدھوں نے گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے ہیں۔یہ ایک خوف ناک سازش ہے جو آج کی نہیں بلکہ کسی شاعر نے شاید اسی لیئے کہا تھا۔ حادثات یک دم نہیں ہوا کرتے۔۔۔۔۔۔ وقت کرتا ہے برسوں پرورش تاریخ گواہ ہے انسانی روپ میں اتنا وحشی پن کسی موقع پر نہیں ہوا۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھی جو کہ چھ منٹ کی تھی۔ اللہ جانتا ہے ایک ہی بار مجھسے دیکھی نہیں گئی۔ اتنا ظلم۔۔۔۔۔۔۔ میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں ہلاکو خاں، چنگیز خان یا پھر واقعہ کربلا کی مثال پیش کروں۔ جو ویڈیو اپ لوڈ کی گئی ہے اس میں چودہ پندرہ سالہ معصوم مسلمان بچی کو ہاتھوں اور پاؤں کو زنجیروں سے سخت باندھا گیا ہے۔
منہ پر پٹی باندھی ہوئی ہے۔ اور زندہ بچی کی ٹانگوں کو چھروں سے تین چار جگہوں سے کاٹا گیا ہیں۔ پھر ایک چھرا بازوں پر بے دردی سے چلایا جارہا تھا جبکہ دوسرا چھرا زندہ بچی کے پستان کو چیر رہا تھا۔ اللہ ان ظالموں درندوں سے مسلمانوں کو محفوظ رکھے۔ پھر ایک ظالم گاٹا تاتنے لگ گیا اور دوسرا ظالم چھرا سے بچی کی شرم گاہ کاٹنے لگ جاتا ہے کبھی پیٹ میں معصوم زندہ بچی کے چھرے اتارے جا رہے ہیں۔یہ انسانی سمگلنگ کا مسلۂ نہیں بلکہ برما کی زمین سے امت محمدیہ کا خاتمہ کرنے کی گھناؤنی سازش ہے۔جسکی لہریں اور تاریں انڈیاکی بدنام زمانہ را کی طرف جاتا ہے۔ سیدھی اور سادہ سی بات ہے۔ چین اور پاکستان کی دوستی سمندروں سے گہری چٹانوں کی طرح مظبوط ہیں۔ اور حالیہ راہ داری پاک چین کا معاہدہ بھارت سرکار کو پیچش اور مڑوڑ کا سبب ہے۔ یہ سازش کہ برما کے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ پاکستان کے مسلمانوں کے لئے ایسے ہی جیسے لوہا کے چنے چبانا۔جب پاکستان برما میں اپنے مسلمان بھائیوں کو بے قصور زبح ہوتے دیکھے گا تو لازماً برما کے میدان میں کودے گا اور پھر منافقوں کے منافق، ظالموں کے ظالم انڈیا کو پاک چین دوستی تڑوانے کا موقع مل جائے گا۔انڈیا کی شروع سے ہی شیطانی چالیں ہیں۔ اصل میں بھارت احساس کمتری کا شکار ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریدر مودی نے حالیہ دورہ بنگلہ دیش میں جو زہر اگلا ہے۔ وہ حقیقت ہے۔ بھارت تقسیم ہند سے لیکر آج تک دل سے پاکستان کے وجود کو تسلیم ہی نہیں کیا۔ بھارت کے اندر ایک خواہش ہے جو اس کو کسی ایک طرف سکون سے بیٹھنے نہیں دیتی۔ جیسا بچوں کو چمونے ہوتے ہیں جو ان کو بے چین کرتے رہتے ہیں۔ کبھی آپ نے دیکھا ہوگا بچہ ایک چیز کی خواہش کرتا ہے جب پوری کی جائے تو اس کو پھینک کر پھر رونا دھونا شروع کر دیا ہے۔ ایسے بچے خود بھی نہیں سوتے اور ماں باپ کو بھی آرام نہیں کرنے دیتے۔ ایسے شریر بچے خود تو خود گھر والون کی ناک میں دم کرنے کے علاوہ محلے والوں کے لئے بھی ایک عذاب بنے ہوتے ہیں بکل چمونے والے بچوں کی طرح بھارت کی فطرت ہے۔ نہ خود سکون سے رہنا ہے نہ دوسروں کو سکون کرنے دینا ہے۔ جسکا واضح ثبوت بھارتی وزرا کے حالیہ بیانات ہیں۔ کہ بھارتی فوج برما میں داخل ہو کر بے گناہ لوگوں کا قتل عام کرنے اور پھر مسلمان ممالک کو بلخصوص اسلامی جموریہ پاکستان کو اس سے سبق دینے کا مشور ہ اس شرارتی بچہ کی طرح ہے جس کے پاس سب کچھ ہونے کے باوجود پیٹ کے چمونے اس کو آرام نہ کرنے دیں۔
حالانہ بھارت پاکستان کے مقابلے میں انفرادی قوت سے، سائنسی ایجادات سے یا فوجی سول اور مالی لحاظ سے بہتر بھی ہو تب بھی پاکستان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس موقع پر بھارت کی مثال اس دیوے (لالٹین) جیسی ہے۔ جو جب بند ہونے پر آتا ہے تو پھڑ پھڑ زیادہ کرتا ہے۔ علم و دانش والے بخوبی آگاہ ہے۔ جب دیوے کی روشنی کبھی مدھم کبھی زیادہ تیز ہو جائے دیوا پھڑ پھڑ کرنے لگے تو اس کا مطلب دیوا بند ہونے کے قریب ہو گیا ہے۔ بھارت کے وزرا اور وزیر اعظم نریدر مودی کے حالیہ بیانات کی روشنی میں ہم کہ سکتے ہیں وہ دن دور نہیں جب بھارت دنیا کے نقشہ پر ٹکرے ٹکرے ہو جائے گا۔ اور یہ سب کچھ باہر سے نہیں بھارت کے اندر سے ہی لاوا پٹھے گا انشااللہ
پاکستان کی قیادت پاکستان کی عوام اور پاکستان کی افواج جس کو بندہ ناچیز اسلامی افواج کہتا ہے۔ اگر کسی کو میری بات سے اتفاق نہ ہو کہ پاکستانی فوج کا مطلب اسلاممی فوج ہے تو بھارتی فوجی ریٹائرڈ جو پاک بھارت جنگ میں شریک تھے ان سے پوچھئے۔
جب بھارتی سپاہی گولے بارود پاکستان کی جانب پھینکتے تھے کون سی وہ مخلوق تھی جو سفید لباس پہنے ہوئے بھارتی گولہ بارود کو پکڑ کر واپس بھارت کی جانب پھینکتی تھی تو گولہ بارود پھٹتا تھا۔ یہ ایک دو واقعات نہیں بلکہ ہزاروں کے حساب سے ہیں۔ اسکی بنیادی وجہ اسلامی جموریہ پاکستان کی وہ بنیاد ہے جسکو کلمہ طیبہ کہتے ہیں۔
جو پاکستان کے دو ٹکرے ہوئے ہیں اس میں کچھ غلطیاں ہماری اور کچھ چالیں انڈیا کی تھی اور پھر آج واضع ہو گیا ہے کہ بنگلا دیش بنانے میں اور بنگلا دیشی حکومت بھارت کی ایک کالونی ہے۔ یہی وجہ ہے چن چن کر پاکستان کا نام لینے والوں یعنی اللہ اور اللہ کے نبی ? کے نام لیوا کو پھانسیاں دینا یہ بھارتی کالونی کا کام نہیں بلکہ اس شریر بچے کا کام ہے جسکو علاقہ کی تھانیداری کا جنون ہے۔ یعنی بنگلا دیش بنگلا دیشی حکومت اصل میں انڈیا کی کٹھ پتلی ہے اور انڈیا کے اشاروں پر ناچتے ہوئے برما کے بے یارو مددگار معصوم مسلمانوں کو پناہ دینے کی بجائے، سمندر کی بے رحم لہروں، بدھوں کے ظلم و ستم اور ا کو خوش کرنے کے لئے، برما کے مسلمانوں کو بے موت مرنے، زندہ جلانے اور ازیت ناک عذاب دینے بھارت اور بدھوں کے ساتھ ہیں۔
بندہ ناچیز ان کالموں میں پہلے بھی لکھ چکا ہے اللہ چاہے تو ایک سیکنڈ میں برمائی حکومت فوج اور بدھوں کو نست و نمود کر دے اور وہاں کی حکمرانی مسلمانوں کو سونپ دے۔ وہ جب ارادہ کرتا ہے تو فرماتا ہے ہو جا۔۔۔ تو وہ چیز ہو جاتی ہے۔ جب اللہ فرماتا ہے کسی بھی چیز کو مٹ جا تو وہ مٹ جاتی ہے۔یہ جو برما میں بے چارے معصوم مسلمانوں پر قیامت ڈھائی جارہی ہے یہ پوری امت محمدیہ ? کا امتحان ہے۔ دنیا بھر کے تمام اسلامی ممالک اور اسلامی ملکوں کے سربراہوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ اگر روز قیامت اللہ رب العزت اور سرور کائنات ? پوچھے تو ہمارے پاس کیا جواب ہیں؟؟مرد مجاہد سرمایہ اسلام طیب اردگان وزیر اعظم ترکی اور ترکی کی عوام افوج اور حکومت سب کو سلام جنہوں نے مسلمان ہونے کا حق اور آقا دوجہاں ? کے فرمان عالی شان کی لاج رکھ لی۔۔ جیسا کہ آپ ? کا فرمان اقدس ہے کہ پوری اامت ایک جسم کی مانند ہے جسم کے کسی بھی حصہ کو کوئی تکلیف ہو تو پورا جسم محسوس کرتا ہے۔ ترکی نے برما کے مسلمانوں کا درد محسوس کر کے عاشق رسول ﷺ ہونے کا ثبوت دے دیا۔
ایک گزارش ہے جو مجاہدین، لشکر اسلام یا کسی بھی اسلامی ملک کی فوج وہاں کے مسلمانوں کی مدد کے لئے جا رہے ہیں کہ وہاں برما کے مسلمانوں کی برین واشنگ بھی کرے تا کہ کوئی نتھو پتھو یا پیٹ کے چمونے والہ اگر کسی برما کے مسلمان پر ظلم و ستم ڈھاتا ہے تو لائین میں کھڑے ہو کر اپنے بھائی بہیں بچے بچی یا ماں باپ کی شہادت کا تماشہ دیکھنے کی بجائے مزامت کریں تاکہ دیگر مسلمانوں پر کفار کا رعب و دبدبہ نہ ہو سکے۔ جیسا کی کشمیر فلسطین کے مسلمان کرتے ہیں۔ انشااللہ اسلامی جموریہ پاکستان کی عوام، حکومت اور افواج پاکستان اپنی حکمت و تدبر کے ساتھ ہمیشہ مظلوم مسلمانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ کسی ملک کے پیٹ میں مڑوڑ ہو یا چمونے سن لے یہ ہماری ایمانی قوت کا تقاضہ ہے۔۔۔ مسلمان کسی بھی ملک،ریاست،رنگ و نسل کا ہو ہمارا بھائی ہے۔برما کے مسلمانوں کو بسانے کے لئے امت محمدیہ جاگ رہی ہے۔ انڈونیشیا۔۔ ملائشیا ترکی اور پاکستان میں برما کے مسلمانوں کی کالونیاں بنائی جارہی ہیں۔