نجی اسپتال کے ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت و لاپرواہی نے ایک شخص کی جان لے لی،ورثاء کا احتجاج

ملک وال(نامہ نگار)نجی اسپتال کے ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت و لاپرواہی نے ایک شخص کی جان لے لی ۔ غریب شخص پنڈلی سے پلیٹ نکلوانے اسپتال آیا غلط خون کی بوتل لگنے سے مریض جانبحق ۔ انتظامیہ نعش چھوڑ کر فرار۔ ورثاء کا انصاف کے لئے احتجاج ۔تھانہ گوجرہ کی پولیس نے ہسپتال انتظامیہ کے خلاف رپٹ درج کر لی۔ اس کیس میں پولیس کاروائی نہیں کر سکتی بلکہ ہیلتھ کیئر کمیشن کاروائی کا اختیار رکھتاہے ڈی ایس پی ملکوال راجہ فخر بشیر۔ تفصیلات کے مطابق موضع رکن کے رہائشی اقصد نواز نے تھانہ گوجرہ میں دی گئی درخواست میں موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے والد محمد نواز کے ہمراہ 23 فروری کووالد کی پنڈلی سے پلیٹ نکلوانے کے لئے مدنی ہسپتال رکن گیا جہاں پر ڈاکٹرز نے تمام ٹیسٹ کروانے کے بعد آپریشن کے لئے فٹ قرار دیتے ہوئے آپریشن کر کے پنڈلی سے پلیٹ نکالنے کی تیاری کے دوران مبینہ طور پر زائدالمعیاد خون کی بوتل اور انجکشن لگا دیا جس سے میرے والد محمد نواز کی موت واقع ہوگئی جبکہ ڈاکٹرز ہسپتال انتظامیہ سمیت نعش کو ہسپتال میں چھوڑ کر فرار ہوگئے تاہم ورثاء کے احتجاج پر تھانہ گوجرہ کی پولیس نے ڈاکٹر وقاص نور،ڈاکٹر سلیم اختر،فیاض احمداور 1 کس نا معلوم کے خلاف رپٹ درج کر کے نعش ورثاء کے حوالے کردی ۔ اس سلسلہ میں ڈی ایس پی ملکوال راجہ فخر بشیر نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں پولیس کاروائی نہیں کر سکتی بلکہ ہیلتھ کیئر کمیشن کاروائی کا اختیار رکھتا ہے۔ہسپتال انتظامیہ سے موقف لینے کی متعد د بار کوشش کی گئی تاہم انہوں نے موقف دینے سے انکار کر تے ہوئے ہسپتال کو تالے لگا ئے اور فرار ہوگئے۔