مری میں عرصہ دراز سے قائم محکمہ زراعت جو اب سفید ہاتھی بن چکا ہے

مری(عثمان علی سے) مری میں عرصہ دراز سے قائم محکمہ زراعت جو اب سفید ہاتھی بن چکا ہے قومی خزانے پر بوجھ بننے کے علاوہ ان کی کارکردگی صفر ہے محکمہ زراعت کے ملازمین افسروں کے گھروں میں ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے ہیں ماضی میں تحصیل بھر میں پھلوں کے درختوں ،سبزیوں کی کاشت کیلئے آگاہی مہم چلائی جاتی تھی اور کاشتکاروں کے کی بہتری اور ان کو اجناس کی کاشت کے نئے نئے طریقے بتانے کیلئے مہم چلائی جاتی تھی لیکن اب یہ محکمہ صرف کاغذوں کی حد تک محدود ہوکر رہ گیا ہے نہ تو اس محکمہ کی نرسریاں ہیں اور کارکردگی بھی نہ ہونے کے برابر ہے اور یہ محکمہ قومی خزانے پر ایک بوجھ بن چکا ہے ان کی ناقص کارکردگی کے باعث مری جہاں کا سیب بہت بڑی تعداد میں ہر سال پید اہوتا تھا اور ملک اور بیرون ممالک میں بہت پسند کیا جاتا تھا لیکن اب تحصیل مری کا سیب کئی بھی نظر نہیں آتا اور جو کاشتکار سیبوں سے بھاری کمائی کرتے تھے اب اس پھل کی پیداوار مکمل ختم ہونے سے معاشی مشکلات سے دوچار ہیں عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب ،صوبائی وزیر راجہ اشفاق سرور اورمحکمہ زراعت کے اعلیٰ حکام سے اس سلسلہ میں فوری ایکشن لینے، محکمہ زراعت مری ختم کرنے یا پھر اس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔