مصری سائنسدانوں نے جیٹروفا پودے سے جیٹ جہازکا ایندھن تیارکرلیا

قایرہ: مصری سائنسدانوں نےعام پائے جانے والےایک ادویاتی پودے سے ایسا بایوفیول تیار کیا ہے جو جیٹ جہازوں میں بطور ایندھن استعمال کیا جاسکتا ہے۔
مصر میں قومی تحقیقی مرکز کے تیار کردہ اس پودے پر کامیاب ابتدائی تجربات بھی کئے گئے ہیں۔ اس مرکز کو مصری ادارہ برائے ہوابازی کی جانب سے مقامی طور پر بایوفیول تیار کرنے کا کام سونپا گیا تھا تاکہ ان سے مسافر طیارے اڑائے جاسکیں۔ اس منصوبے کو بین الاقوامی فضائی ایجنسی ( آئی اے ٹی اے) کی تائید بھی حاصل ہے ۔ آئی اے ٹی اے کی خواہش ہے کہ 2050 تک فضائی سفرسے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج نصف کیا جاسکے ۔
یہ کام غزین الدیوانی نے کیا ہے اور ان کے مطابق انہوں نے گاڑیوں کے لیے بایوفیول کی تیاری شروع کردی ہے۔ سائنسدانوں نے جیٹروفا پودے کےبیج سے یہ بایوفیول نکالا ہے جس میں 20 سے 25 فیصد تیل موجود ہوتا ہے۔ الدیوانی کے مطابق یہ تیل ایک محلل ( سولوینٹ) کے ذریعے باآسانی نکالا جاسکتا ہے جن میں ہیکزین بھی شامل ہے۔ لیکن واضح رہے کہ دنیا میں کم سے کم معیار کا بایوفیول بھی روایتی ایندھن سے دوگنا مہنگا پڑتا ہے کیونکہ اسے بنانے پر اخراجات اٹھتے ہیں۔
جیٹروفا تیل کو بایوفیول بنانے کے لیے اس کی کثافت اور جلنے کا درجہ تبدیل کرنا پڑتا ہے ۔ تاہم اسے کئی کیمیائی طریقوں سے گزارا جاتا ہے جن میں سے اکثر بہت سادہ طریقے ہوتے ہیں۔ اس مقام پر یہ ایندھن کاروں کے لیے بہت موزوں ہے۔ بایوفیول کو ہوائی جہازوں میں استعمال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ بلندی پر منفی 45 درجے ٹھنڈک پر بھی جمنے سے محفوظ رہے اور اب مصری ماہرین کے نزدیک یہی سب سے بڑا چیلنج ہے، لیکن اس ضمن میں بھی مصری ماہرین نے غیرمعمولی کامیابی حاصل کرلی ہے۔
الدیوانی کے مطابق تھرمل کریکنگ کے ذریعے انہوں نے منفی 40 درجے سینٹی گریڈ پر تیل کو جمنے سے بچانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے اور وہ جلد ہی منفی 45 کا ہدف حاصل کرلیں گے۔ اس تجربے کے ساتھ ہی مصری حکومت نے کم از کم ایک ہزار ایکڑ پر جیٹروفا درخت اگانے کا کام شروع کردیا ہے اور اب مزید ماہرین اس مشن پرکام کررہے ہیں۔