اقوام متحدہ کا اجلاس؛ مسئلہ کشمیر پر پاکستان و بھارت میں سخت جملوں کا تبادلہ

جنیوا: اقوام متحدہ کے زیر اہتمام جنیوا میں ہونے والے انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔
اقوام متحدہ کے کونسل برائے انسانی حقوق کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں موجود پاکستان کے وفاقی وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے مظالم کی تحقیقات کیلیے فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجے۔ جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے34ویں سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر زاہد حامد نے کہا کہ جموں و کشمیر عالمی تسلیم شدہ تنازع ہے، پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔
زاہد حامد نے اجلاس کو بتایا کہ ’’بھارت کا یہ کہنا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مخدوش صورتحال اس کا داخلی معاملہ ہے ہرگز درست نہیں‘‘۔ انھوں نے عالمی برادری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’ مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال کونسل کی فوری توجہ کی متقاضی ہے اور ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر سے ایک ٹیم کو علاقے کا دورہ کرنا چاہیے‘‘۔
وفاقی وزیر نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی موقف کو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرار دادوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انھوں نے بتایا کہ ’’ مقبوضہ کشمیر میں موجود 7 لاکھ سے زائد بھارتی فوجیوں نے جموں و کشمیر کو رنج و غم کی وادی میں تبدیل کردیا ہے‘‘۔ بعد ازاں اقوام متحدہ میں بھارتی سفیر اجیت کمار نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر کے بعض علاقوں میں شورش کی وجہ ’’سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی،، ہے جبکہ بھارتی سفیر نے روایتی بیان دیتے ہوئے کہا کہ’’ پاکستان کو دوسروں پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرنے کے بجائے اپنے معاملات درست کرنے پر توجہ دینی چاہیے‘‘۔
علاوہ ازیں بھارتی سفیر نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان پر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کیلیے زور دے جبکہ انھوں نے کشمیر کے معاملے پر اسلامی تعاون تنظیم کی جانب سے آنے والے بیان اور مسئلہ کشمیر میں تنظیم کی مداخلت کی مذمت بھی کی۔
دوسری جانب پاکستانی نمائندے نے موقف اپنایا کہ بھارت اپنی فوج کی جانب سے کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو تسلیم کرنے سے ہمیشہ انکار کرتا ہے، بھارتی فورسز کشمیریوں پر پیلیٹ گنز سمیت دیگر طریقوں سے ظلم ڈھا رہی ہے جس کی وجہ سے سیکڑوں کشمیری بینائی سے محروم بھی ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت نے جان بوجھ کر لائن آف کنٹرول پر کشیدگی میں بھی اضافہ کیا اور صرف 2016 میں اس نے 300 سے زائد بار سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی۔
پاکستانی نمائندے نے یہ بھی کہا کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے جبکہ جموں و کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے اس حوالے سے اقوام متحدہ کی کئی قرار دادیں بھی موجود ہیں۔