یونین کونسل نکہ کے گاؤں کے لوگ آج بھی تیسری دنیا میں رہنے پر مجبو ر

جہلم(عبدالغفور بٹ)جہلم کے علاقہ بائی دیس کی یونین کونسل نکہ کے گاؤں کنگر ، کوتل کنڈ ، ڈھلہ، واڑہ بیر فقیراں کے لوگو آج بھی تیسری دنیا میں رہنے پر مجبو ر ہیں یہ آج جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ۔ یہاں نہ تو تعلیم حاصل کرنے کیلئے ادارہ ہے نہ ہی ہسپتال ، 1993میں اہل علاقہ کی اپیل پر ڈسپنسری کی عمارات تو بنا دی گئی مگر اس میں عملہ کہیں موجود نہیں ۔نہ ہی مریض کو کسی ڈاکٹر کے پاس لے جانے کے لئے کوئی سڑک ہے ، بلکہ اگر یہاں کو ئی شخص بیمار پڑ جائے تو اس ایمرجنسی ٹریٹ منٹ بھی یہاں سے 22کلومیٹر دور واقع قصبہ جلال پو ر شریف سے ملتی جہاں مریض کو لے جانے کیلئے کسی قسم کی کوئی سہولت نہ ہے راستہ نہ ہونے کی وجہ ایمبولینس تو دور کوئی کھٹار ا گاڑی اس علاقہ میں نہیں جا سکتی ٹریکٹر ٹرالی پر لاڈ کر مریض کو جلال پور لا یا جاتا ہے جہاں پہنچتے پہنچتے ٹریکٹر ٹرالی کے جھٹکوں سے کمزور دل مریض تو ویسے ہی اللہ میاں کو پیارا ہو جاتا ہے اور اگر کسی زندگی اللہ رب العزت کو منظور ہوتو بیچارہ جلالپور سے ابتدائی طبعی امداد لے کے منڈی بہاؤالدین یا جہلم روانہ کردیا جا تا ہے ،اس سب مشکلات کی وجہ سے بخار ،نزلہ زکام ، سر درد کو تو بیماری سمجھا ہی نہیں یہ صحت کا حال ہے جبکہ ہمارے حکمران کے پیٹ میں ہلکا سا مروڑبھی اُٹھے تو بھی لندن سے قریب قریب علاج نہیں ہو تا جبکہ یہاں پر سردرد کیلئے دسپرین بھی 22کلومیٹر دور ملتی ہے تعلیم یہاں پرائمری سکول ہے جو بچہ پرائمری پاس ہو وہ پڑھا لکھا تصور کیا جاتا ہے پرائمری پاس کرنے کے بعد والدین بچے کو بولتے ہیں’’پتر چھوڑ پڑھائی کو تم کو نسا ڈاکٹر لگ جا نا ہے ‘‘جنگل میں جانوروں کو چڑانے جایا کر ساتھ میں کوئی لکڑیاں لے کر آیا کرو، یہ پڑھایاں نوکریاں بڑے لوگوں کا کام ہے ‘‘اور اگر کسی کو پڑھائی کا زیادہ ہی شوق ہو یا کسی گھر والے آفورڈ کر سکتے ہو ں تو میٹر ک کا سکول بھی یہاں سے 12کلومیٹر دور وگھ میں جہاں زیور تعلیم سے آراستہ ہونے والے کو صبح منہ اندھیر ہی گھر سے نکل جاتے ہیں اور پیدل 10کلومیٹر دور پنڈسوکہ یا 12کلومیٹر دور وگھ جاتے ہیں دھکے کھاتا میرے ملک کا مستقبل سکول جاتا ہے سارا دن سکول پڑھائی کرنے کے بعد دھکے کھاتا واپس آتا ، یوں ہی دھکے کھاتے ان کا دل تعلیم جیسی نعمت سے اٹھ جاتا ہے اور سو میں سے کوئی ایک طالب علم ہی کالج تک پہنچ پاتا ہے ۔ کالج پڑھائی کیلئے یا تو اس کو شہر میں عزیزوں کے پاس بھیج دیا جاتا ہے یا وہ پوری فیملی نقل مکانی کر کہیں دوسر ے علاقے میں چلے جاتے ہیں اس طرح علاقہ کی رونق بھی دن بدن کم ہو رہی ہے ،اور اگر بارش ہو جائے تو اس علاقہ کا دنیا بھر سے زمین تعلق ختم ہو جاتا ہے نالہ بنہاں کی وجہ سے کہیں کا کوئی راستہ نہیں رہتاہے اور قربان جاؤں ان موبائل سروس والوں سے جو شہروں میں تو4Gبھی مہیا کر رہیں مگر اس علاقہ میں سنگل کے لئے بھی پہاڑیاں مختص ہیں کہ فلاں پہاڑی پر جاؤ تو ٹیلی نار کی سروس آئے گی ،فلاں پر جاؤ تو یو فون کی سروس آئے ، جاز ، زونگ اور وارڈ کاتو سوچنا بھی گنا ہ تصور کیا جاتا ہے ۔لوگ نقل مکانی پر مجبو ر ہو چکے ہیں،الیکشن کے دور میں اردگرد علاقہ کے سفید پوش آتے ہیں اور اپنی اپنی عزت کے نام پر ووٹ لے جاتے مگر پھر کوئی واپس پلٹ کرنہیں دیکھتا ،یہ لوگ بیچارے چھوٹے مفادات کی خاطر اپنی طاقت ’’ووٹ‘‘ ضائع کر دیتے ہیں ،ان لوگوں کے مفادات بھی عجیب ہیں کہ اگر ان لوگوں نے کبھی ایمر جنسی میں صبح صبح کہیں جانا ہوتو ان پنڈی سید پور ، جلال پور ، خلاص پور کے سفید پوش کے گھر وں میں رات کو قیام کرتے ہیں اتنے سے مفاد کی خاطر ووٹ ضائع کردیا جاتا ہے ۔خادم پنجاب روڈز پروگرام میں کے تحت وزیراعلیٰ پنجاب کی عنایت اور ممبران اسمبلی کی مہربانی سے وگھ تا بیر فقیراں سڑک کی تعمیر تو شروع ہو گئی مگر یہ 7کلومیڑ سڑک کا ٹکڑا اونٹ کے منہ میں زیرہ کے متردف اہل علاقہ نے وزیر اعلی پنجا ب میاں محمد شہباز شریف ، ایم این اے نوابزادہ مطلوب مہدی ، ممبر صوبائی اسمبلی اور ڈی سی او جہلم سے اپیل کی ہے کہ برائے کرم اس 7کلومیٹر سڑک کے ٹکڑا پر ہی اکتفاء نہ کیا جائے بلکہ علاقہ مکین کے حال پر رحم کیا جائے