جہلم ہیلتھ سپورٹس سٹاف کا ایک ہی عزم ،کیپٹن (ر)ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر محمد آصف سے نجات

جہلم(عبدالغفور بٹ)مرحوم عبدالقادر کے لواحقین کی التما س پر الائیڈ ہیلتھ سپورٹس سٹاف کا احتجاج تیسرے روز بھی جاری رہا،ڈی او سی کاشف محمد علی کے رو برو ای ڈی او ہیلتھ کیپٹن (ر)ڈاکٹر محمد آصف اور ضلعی فیلڈ سٹاف کی صدر سیدہ ام لیلیٰ اور ایک سینئر نمائندہ پیش ہوئے ڈی او سی نے محکمانہ کارروائی کرنے کیلئے دونوں اطراف سے ثبوت مانگ لیے،،احتجاج کرنے والوں کا وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے تیسرے روز بھی ایک ہی مطالبہ تھا کہ ای ڈی او ہیلتھ کیپٹن(ر)آصف علی خان کو معطل کیا جائے اور ان کے خلاف مکمل انکوائری کی جائے جو ظالمانہ اور جابرانہ رویہ ہیلتھ ملازمین کے ساتھ رکھا جارہا ہے اس کے ثبوت تمام ضلعی ملازمین کے پاس فردا فردا موجود ہیں لیکن اس وقت تمام ہیلتھ سپورٹس سٹاف کا ایک ہی عزم ہے کیپٹن (ر)ای ڈی او ہیلتھ سے نجات اور عبدالقادر کو انصاف لے کر دینا،ای ڈی او ہیلتھ نے کمیٹی کے روبرو اعتراف کیا کہ میں نے نازیبہ الفاظ استعمال کیے کہ( مجھے غصے تھا کہ وہ اتنے دنوں سے کیوں نہیں آرہااور ساتھ ہی مرنے کی اطلاع ملنے پر میں بول گیا جس کیلئے میں شرمندہ ہوں) ،ضلعی فیلڈ سٹاف کی صدر سیدہ ام لیلیٰ کی سربراہی میں پریس کلب سے ایم این اے چوہدری خادم اور ایم پی اے چوہدری لال حسین کے ضلعی آفس تک تمام ضلعی ہیلتھ کارکنوں نے مارچ کیا ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے زبردست نعرے بازی کی گئی تو سابقہ ایم پی اے چوہدری ندیم خادم صاحب باہر تشریف لے کر آئے اور تمام روداد بڑے صبر و تحمل سے سنی اور تمام ضلعی ہیلتھ کارکنوں سے ٹائم مانگا کہ میں انشاء اللہ ضرور آپ لوگوں کے ساتھ ہوں اور انصاف بھی لے کر دوں گا مجھے کچھ وقت دیں جس پر کارکنوں نے ندیم صاحب زندہ باد کے نعرے لگائے اور میڈیا کو اپنا موقف دیتے ہوئے اعادہ کیا کہ یہ احتجاج جاری رہے گا جب تک ای ڈی او ہیلتھ معطل کر کے یہاں سے رخصت نہیں کر دیے جاتے اور اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ اگر 30اکتوبر تک ای ڈی او ہیلتھ کو یہاں سے ضلع بدر نہ کیا گیا تو ہم ای پی آئی کا کام اور آنے والی پولیو مہم میں کوئی کام سرانجام نہیں دیں گے۔اس سلسلہ میں ای ڈی او ہیلتھ کیپٹن (ر)ڈاکٹر محمد آصف سے موقف جاننے کیلئے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے نادانستہ طور پر اس کی متواتر غیر حاضری کے خانے میں غیر حاضری لگ گئی جبکہ ہیلتھ سپورٹس سٹاف کے مطالبے کے مجھے معطل کیا جائے ای پی آئی یا دوسرے پروگرام کا بائیکاٹ کرنا یا سپورٹ نہ کرنا حکومت اور ہیلتھ سپورٹس سٹاف کا مسئلہ ہے۔جس کا فیصلہ حکومت پنجاب نے کرنا ہے کہ مجھے اپنی خدمات ضلع جہلم میں ہی ادا کرنی ہیں یا کہیں اور۔