حکومت طب یونانی کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے،پروفیسر حکیم افتخار احمد

پنڈدادنخان(سلیما ن شہباز +عدنان یو نس )حکومت طب یونانی کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے ملکی جڑی بوٹیوں پر جدید ریسرچ کے لیے جدید لیبارٹریوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے اگر حکومت طب یونانی کی سرپرستی کرے تو غیر ملکی مہنگی ادویات سے نجات مل سکتی ہے عطائیت کا مکمل خاتمہ اور گورنمنٹ کی زیر سرپرستی طبیہ کالجز میں حکومتی سرپرستی سے طب یونانی کے فروغ میں مدد مل سکتی ہے یہ بات معروف طبیب اور رجسٹرڈ پنجاب طبیہ کالج جھنگ پروفیسر حکیم افتخار احمد خان نے پاکستان طبی کانفرنس پنڈدادنخان کے ماہوار اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ نیشنل کونسل فارطب اسلام آباد کے صدر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری،پروفیسر حکیم ڈاکٹر ذوالحسنین شاہ بخاری طبی کانفرنس اور دیگر قابل احترام اطباء حضرات کی طب کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششیں قابل قدر ہیں اگر حکومت پاکستان ملکی جڑی بوٹیوں پر جدید ریسرچ کرنے کے لیے جدید ترین لیبارٹریوں کے قیام میں اپنا کردار ادا کرے تو ملک کا کروڑوں روپے سالانہ کا زرمبادلہ بچ سکتا ہے اور ہر قسم کے مضر صحت اثرات سے پاک ادویات کی تیاری ملکی سطح پر ممکن ہوسکتی ہے جسطرح چین، بھارت،یونان اور دیگر ممالک میں وہاں کی جڑی بوٹیوں پر حکومتی سرپرستی میں ریسرچ ہوتی ہے وہ سلسلہ اگر یہاں بھی ہوجائے توملک سے امراض کے خاتمے میں بڑی مدد مل سکتی ہے پاکستان ایک زرعی ملک ہے یہاں ہر موسم اور ہر طرح کی زمین اور پہاڑ موجود ہیں جہاں ہر قسم کی قدرتی خودرو جڑی بوٹیوں کی بے شمار اقسام پائی جاتی ہوں ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ان جڑی بوٹیوں کو اکٹھا کر کے جدید دور کے مطابق بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جاسکے ۔