امریکی صدارتی امیدواروں کے درمیان تیسرا مباحثہ بھی ہلیری کلنٹن کے نام

لاس ویگاس: امریکی صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل ڈیمو کریٹ اور ریپبلکن امیدواروں کے درمیان تیسرے اور آخری مباحثے میں بھی ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک دوسرے پر سنگین الزامات لگائے جب کہ دونوں کے درمیان معیشت اور قومی سلامتی کے معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔
لاس ویگاس میں ہونے والے تیسرے اور آخری مباحثے کے آغاز میں بھی دونوں امیدواروں نے ایک دوسرے سے ہاتھ نہیں ملایا۔ اس موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ غلط پالیسیوں کی وجہ سے دوسری اقوام کے لوگ کاروبار لے اڑتے ہیں، آج امریکی معاشی شرح نموصرف ایک فیصد رہ گئی ہے جو 1950 کے امریکا کا نقشہ پیش کرتی ہے، امریکی معیشت میں 5 سے 6 فیصد بہتری لائی جا سکتی ہے۔ ہیلری کلنٹن کا کہنا تھا ڈونلڈ ٹرمپ صدر بن گئے تو امریکا کا ستیا ناس ہو جائے گا، امریکا میں غیرقانونی مقیم آبادی بھی فیڈرل ٹیکس دیتی ہے مگر ڈونلڈ ٹرمپ نے ارب پتی ہونے کے باوجود آج تک فیڈرل ٹیکس کی مد میں ایک دھیلہ بھی نہیں دیا، ڈونلڈ ٹرمپ چین پر بہت تنقید کرتے ہیں لیکن لوہا بھی چین سے ہی خریدتے ہیں۔
ہلیری کلنٹن نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے غیرذمہ دارانہ بیان دے چکے ہیں، جوہری ہتھیاروں کے کوڈ ٹرمپ جیسے شخص کے ہاتھ نہیں لگنے چاہئیں، ٹرمپ کے ہاتھ جوہری بٹن دینے کا خطرہ نہیں لیا جا سکتا۔ ٹرمپ نےعراق اور شام کےحوالے سے اوباما کی پالیسیوں کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا یہ ہلیری کلنٹن کی ناکامی ہے کہ آج داعش بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی جنرل کو جھوٹ بولنے پر 5 سال کی سزا ہوئی جب کہ ہیلری سینکڑوں جھوٹ بول چکی ہیں انہیں بھی جیل میں ہونا چاہیئے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہلیری کلنٹن ان کی انتخابی ریلیوں میں غنڈے بھجواتی ہیں اور انہوں نے انتخابی دھاندلی کا منصوبہ بھی تیار کر رکھا ہے جب کہ ان پر الزام لگانے والی تمام خواتین سستی شہرت چاہتی تھیں، یہ سب مجھے بدنام کرنے کے لئے ہلیری کلنٹن کی چالیں ہیں۔ ہلیری نے جوابی وار میں کہا کہ انتخابی دھاندلی کی بات کر کے ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی جمہوریت اور شفافیت پر ضرب لگائی ہے لیکن مگر مچھ کے آنسو بہانے سے کچھ نہیں ہوگا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے جن خواتین کے بارے میں بیہودہ گفتگو کی، آج تک ان سے معافی نہیں مانگی، وہ خود کو معافی سے بالاتر سمجھتے ہیں، ایسا شخص امریکا جیسے عظیم ملک کا سربراہ کیسے ہو سکتا ہے؟
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہلیری کلنٹن صرف باتیں کرتی ہیں، عملی طور پر کچھ نہیں کرتیں، جب وہ وزیر خارجہ تھیں تو اس وقت وزارت خارجہ سے 6 ارب روپے غائب ہوئے، اگر وہ تجربہ کارہیں توان کا تجربہ براتجربہ کہلائے گا، ہلیری صدربن گئیں تو امریکا تباہ ہو جائے گا۔ ہلیری کلنٹن نے ڈونلڈٹرمپ سے کہا جب وہ پبلک سروس میں تھیں تو اس وقت ٹرمپ کاروبار کر رہے تھے اور خواتین سے بدتمیزی کر رہے تھے، جب وہ اسامہ بن لادن کی کھوج لگارہی تھیں تو اس وقت ٹرمپ ایک ٹی وی شو کی میزبانی کر رہے تھے۔
ہلیری کلنٹن نے کہا کہ روس امریکی صدارتی انتخابات پر سائبر حملے کر رہا ہے جس پر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہلیری روسی صدر ولاد میر پیوٹن کو اس لیے نہیں پسند کرتیں کیوں کہ انہوں نے ہرموقع پر ہلیری کلنٹن کو نیچا دکھایا ہے۔ مباحثے کے دوران ری پبلکن امیدوار ڈونلڈٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ اگر روس نے امریکی انتخابات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی تو کیا وہ اس کی مذمت کریں گے جس پر ٹرمپ نے کہا اگر ایسا ہوا تووہ یقیناً مذمت کریں گے۔ مباحثے کے اختتام پر ہلیری کلنٹن کو 52 فیصد پوائٹس ملے جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ 39 فیصد پوائنٹس حاصل کر سکے۔
واضح رہے کہ نومبر میں ہونے والے امریکی صدارتی امیدواروں کے درمیان ہونے والے پہلے دونوں مباحثوں میں بھی ہلیری کلنٹن کامیاب قرار پائی تھیں۔