صحافت وہ ہے جس کے قلم کی قرآن نے قسم کھائی ہے اور اس سے تعلیم دینے کی بات کی ہے،سید اکرم حسین شاہ

جہلم (مہربان چوہدری )چیئر مین میڈیا ون چیف ایڈیٹر ہفت روزہ انکشاف سید اکرم حسین شاہ بخاری نے صحافت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صحافت وہ ہے جس کے قلم کی قرآن نے قسم کھائی ہے اور اس سے تعلیم دینے کی بات کی ہے صحافت نہ تو گالیاں دینے کا نام ہیاور نہ ہی تعریفیں کرنے کا نام ہے صحافت نام ہے سچ کا اور سچ کو تسلیم کرنے کا ،ملک پاکستان میں صحافت کرنا بہت مشکل ہے اور ہمارا ملک صحافیوں کے لئے خطر ناک ترین ملک ہے اس ملک میں صحافیوں اور صحافت نے بہت مشکل ترین تاریک دور دیکھے ہیں ہمارے صحافی بھائیوں کو شہید کیا گیا تشدد کا نشانہ بنایا گیا مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدالتوں نے سے آج تک کسی بھی ہمارے شہید بھائی اور زخمی ہونے والے بھائیوں کو اور ان کے لواحقین کو انصاف مہیا نہیں ہو سکا اصل بات تو یہ ہے کہ ہم کالے کرتوت کرنے والوں کو جھوٹ سے اچھا لکھ دیں تو وہ خوش ہوں گے ان کی تعریفوں اور ان کے جھوٹے غریب پروری کے بیان شائع کرتے رہیں تو وہ خوش ہوتے ہیں اور اگر ان کو سچ میں آئینہ دیکھائیں تو وہ برا مان جاتے ہیں اور وہ ہمیں جھوٹے مقد مات میں ملوث کر کے پریشان کرتے ہیں ہمارے اوپر تشدد کرواتے ہیں اسی لئے میں اپنے صحافی بھائیوں کا بہت خیال کرتا ہوں ان کی مشکل کو اپنی مشکل سمجھتا ہوں ان کی پریشانی کو اپنی پریشانی سمجھتا ہوں مجھے اپنی صحافی بھائیوں سے پیار ہے میں اپنی تنظیم میڈیا ون کا بانی چیئر مین ہوں اور میرے لئے میرے صحافی بھائی میرے چھوٹے بھائی ہیں میرے بھائیوں کی طرف اٹھنے والی ہر انگلی کاٹ کے رکھ دوں گا ہم جب آئینہ دیکھاتے ہیں تو یہ ظالم لوگ بر مان جاتے ہیں صحافت صرف آئینہ دیکھانا اور احتساب کرنے کا نام ہے ہم عوام بھی ہیں اور ہم مسلمان ہیں انہوں نے کہا کہ کیا ہم اپنے آپ پر ظلم کروانے کے لئے ان کو ووٹ دیتے ہیں اور رہا ایک آئینہ تو وہ ہمیشہ صرف اور صرف اصلی صورت اور اصلی چہرہ ہی دیکھاتا ہے آئینہ دیکھتے وقت صرف اپنی ہی شکل نظر آتی ہے وہ کبھی بھی غلط نہیں دیکھاتا انہوں نے کہا کے صحافت ایک عبادت ہے صحافت نام ہے اطلاعات تک رسائی کے عوامی حق کی حفاظت کرنے کااطلاعات کو لوگوں تک پہنچانے کا اور ان کے دل کی بات زبان تک لانے کا، انہوں نے کہا کہ صحافت ایک خطر ناک ترین شعبہ بن چکا ہے اور صحافیوں کو تحفط فراہم کرنے میں تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے ناکام ہو چکے ہیں اب ہمیں خود اپنے تحفظ کا بندوبست کرنا ہوگا ہم نے چوڑیاں نہیں پہن رکھی ہیں ہم سیاستدانوں اور وڈیروں کو اچھے طریقے سے جانتے ہیں اور ان کی آنکھ میں آنکھڈال کر بات کرنا آتی ہے ہم اگر دل و دماغ رکھتے ہیں تو یہ سوچنا ہو گا کہ ہمیں آپس میں تقسیم کرنے کا سلسلہ سیاستدانوں نے اپنا رکھا ہے ہمیں اپنے پلیٹ فارم پر متحد ہونا گا جب ہم صحافی برادری ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو گئے تو خدا کی قسم کسی بھی سیاستدان وڈیرے کی ہمت نہیں ہو گی کے کسی بھی صحافی سے بد تمیزی کر ے آخر میں انہوں نے کہا کہ میں ضلع جہلم کے تمام صحافی بھائیوں سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ خدا کے لئے اگر اپنی صحافت کو بچانا ہے اپنی عزت کو بحال رکھنا ہے اور اپنی طاقت بنانی ہے تو متحد ہو جائیں اور ایک پیلٹ پارم پر جمع ہو کر کالی بھیڑوں سمیت جتنے بھی جلوقے ملوقے میت گندے انڈوں کو دریائے جہلم میں پھینک دیں میں جہلم کی صحافت کو پھلتے پھولتے دیکھنا چاہتا ہوں یہ میرے دل کی حست ہے کہ صحافت ایسی ہو کے ہم دو نمبر انسان کا گریبان پکڑ کا بات کر سکیں خواہ وہ کتنا ہی با اثر کیوں نہ ہو ،