ضلعی فیلڈ سٹاف کا احتجاج پانچواں روز بھی جاری

جہلم(عبدالغفور بٹ) دینہ میں ویکسینٹر اور سی ڈی سی ڈی ایچ او محمد وسیم ،ڈاکٹر روداب عرفان اور اینٹامالوجسٹ ضمیر حسین کی سربراہی میں رجسٹرڈ چیک کرانے کے بہانے سے احتجاج پر جانے سے روکنے کی کوشش ناکام ہو گئی، ذرائع کے مطابق دینہ میں ویکسنیٹر حضرات نے ڈی ڈی ایچ او آفس کو ہی احتجاج گاہ بنا لیا،جب وسیم ڈی ایچ او نے مغفرت کیلئے دعا کا کہا تو دعا مانگنے کے بعد کہنے لگے یہ سب کیسے ہو گیا،اس نے تو چھٹی مانگی ہی نہیں تو ویکسینٹر حضرات نے آئینہ دکھانے کیلئے مرحوم عبدالقادر کے ہاتھ کی لکھی ہوئی درخوااست اور تمام او پی ڈی سلپیں جو کہ گورنمنٹ کے ہسپتال کے ڈاکٹر کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تھیں جس میں دو ہفتے کا آرام بھی تھا سامنے پیش کر دیں تو وسیم ڈی ایچ او شرمندہ ہو گیا اور ویکسینٹر کو ڈانٹ ڈپٹ شروع کر دی،لیکن جو رجسٹرڈ اس نے چیک کرنے کے لیے منگوائے تھے ان میں کوشش کے باوجود کوئی غلطی تلاش نہ کر سکا اور ویکسینٹرز اور سی ڈی سی سپروائزرز نے ای ڈی او کے خلاف زبردست نعرے بازی شروع کر دی اور اس چیز کا اعلان کر دیا کہ ہم پنجاب پیرا میڈیکل الائنس کے جنرل سیکرٹری انیس الرحمن اور سیدہ ام لیلیٰ کی سربراہی میں انصاف کے حصول تک یہ احتجاج جاری رکھیں گے اور ای ڈی او کو جانا ہی ہوگا۔

جہلم(عبدالغفور بٹ)مرحوم عبدالقادر کے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی اور انصاف کے حصول تک جدوجہد جاری رکھنے کا عزم لیے ہوئے ضلعی فیلڈ سٹاف کا احتجاج پانچواں روز بھی جاری رہا چونکہ چوہدری ندیم خادم سابق ایم پی اے اور مستقبل کے ایم این اے صاحب نے ضلعی صدر کو دو دن میں انصاف فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا ان کے احترام میں دو دن سے نعرے بازی روک دی گئی ہے اور ان کے جواب کا انتظار کیا جارہا ہے پنجاب پیرا میڈیکل الائینس کے جنرل سیکرٹری انیس الرحمن اور سیدہ ام لیلیٰ نے ڈی سی او جہلم کو ای ڈی او کی بے ضابطگیوں اور اختیارات سے تجاوز کرنے کے سینکڑوں ثبوت اپنے لکھے گئے جواب کے ساتھ لف کر کے پیش کر دیے۔اور ان سے جلد ازجلد اس کو معطل کرنے کا مطالبہ دوہرایا یہ ای ڈی او بغیر کسی انکوائری کے تمام ملازمین کی تنخوہواں میں کٹوتیاں کرتا ہے اور میڈیکل کے علاوہ اتفاقیہ رخصت مسلسل چار سال سے بند کیے ہوئے ہیں جو کہ کسی بھی ملازم کا بنیادی حق ہے لہذا وزیراعلیٰ سے ضلع جہلم کے ملازمین کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ اس کو معطل کر کے قرار واقعی سزا دی جائے اور ملازمین نے دوبارہ اس عزم کااعادہ کیا کہ اگر یہ 31اکتوبر تک یہاں سے نہ گیا تو کام چھوڑ ہڑتال شروع کر دی جائیگی۔