ریلوے پل جہلم جو پلاٹینم ،گولڈن اور سلور جوبلی منانے کے باوجود زیر استعمال

جہلم(عبدالغفور بٹ)جل ،ہم سنسکرت زبان کا لفظ ہے جسکے معنی ٹھنڈا اور میٹھا پانی ہے جسے جہلم کے نام سے مشہور کیا گیا اس وقت انگریز حکومت قائم تھی کہ دریائے جہلم پر آمد و رفعت کی غرض سے دریا پر ریلوے پل تعمیر کیا گیا جو جہلم اور گجرات کو آپس میں ملاتا ہے 1872 ؁ کو تعمیر ہونے والا یہ ریلوے پل 1972میں اپنی گولڈن جوبلی منا کر ایک مرتبہ پھر سلور جوبلی کے قریب پہنچ چکا ہے اور آج بھی ریلوے کے علاوہ چھوٹی گاڑیاں پل سے گزرتی دکھائی دیتی ہیں۔143سالہ ریلوے پل اب محکمہ ریلوے کے افسران و انتظامیہ کی عدم دلچسپی کے باعث ریلوے پل جگہ جگہ سے اپنی خستہ حالی کی دستان سنا رہا ہے پل کی مرمت پر پھوٹی کوڑی بھی نہیں لگائی جارہی جس کی وجہ سے کسی وقت بھی کوئی بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے وفاقی وزیر ریلوے اور انتظامیہ اس طرف بھی توجہ دیں۔